Mahar ka bayan

مہر کا بیان

سوال : مہر کیا ہے؟ 

جواب : یہ وہ مال ہے جو نکاح کے عقد میں بُضع (یعنی شرمگاہ) کے منافع کے مقابلے میں یا تو مقرر کرنے کے ساتھ یا نفسِ عقد کے ساتھ شوہر پر واجب ہوتا ہے۔

سوال : اَقل مہر اور اکثر (مہر) بیان کیجیئے؟

جواب : اقل (مہر) دس درہم ہیں پس اگر دس سے کم مقرر کرے تو (بیوی) کے لیے دس ہیں، اور اکثر (مہر) کی کوئی حد نہیں پس جس (مقدار) پر وہ باہم راضی ہو جائیں اور اسے مقرر کر لیں تو وہ ہی واجب ہے۔ 

سوال : اگر مہر مقرر نہ کرے اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول حاصل ہو جائیں (تو) کیا نکاح صحیح ہو جاتا ہے؟

جواب : نکاح اس صورت میں صحیح ہو جاتا ہے اور (خاتون) کے لیے اس کا مہر مثل ہے اگر اس سے دخول کر لے یا اس سے مر جائے اور اگر اس کے ساتھ دخول کرنے سے پہلے اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے اسے طلاق دے دے تو اس کے لیے متعہ ہے اور عنقریب (متعہ) کا مطلب جان لیں گےان شاءاللہ تعالیٰ۔

سوال : اگر اس شرط پر نکاح کرے کہ (عورت) کے لیے مہر نہیں ہے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس کا حکم مہرِ مثل یا متعہ کے وجوب میں اس (خاتون) کا حکم ہے جس کے لیے مہر مقرر نہ کیا گیا ہو جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا۔

سوال : (عورت) کے لیے مہر مقرر کیا پھر اسے طلاق دے دی (تو) کیا مقرر کردہ تمام (مہر) واجب ہوگا؟ 

جواب :  اس میں تفصیل ہے اگر اس سے دخول کر لے یا اس سے مر جائے اگرچہ دخول سے پہلے ہو تو اس کے لیے مقرر کردہ (مہر) ہے اور اگر دخول سے پہلے اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے اسے طلاق دے دے تو اس کے لیے مقرر کردہ (مہر) کا آدھا ہے۔ اللّٰہ تبارک و تعالٰیٰ شانہ فرماتے ہیں۔

وَ إِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ (البقرہ 237)

(ترجمہ) "اور اگر تم ان (بیبیوں) کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اس حال میں کہ تم ان کے لیے کچھ مہر مقرر کر چکے تھے تو جتنا (مہر) تم نے مقرر کیا اس کا نصف (واجب ہے)"۔ 

سوال : مسلمان خاتون سے شراب یا سور پر نکاح کیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : نکاح جائز ہے اور وہ مہرِ مثل کی مستحق ہوگی۔

سوال : کسی خاتون سے ایسے مہر پر نکاح کیا جس کو اس نے مقرر کر دیا پھر تحقیق اس نے اس میں اضافہ کر دیا یا (خاتون) نے اس میں کمی کر دی تو اس کمی و بیشی کا حکم کیا ہے؟

جواب : کمی اور بیشی دونوں جائز ہیں اور اسے اضافہ لازم ہو جائے گا اگر اس سے دخول کر لے یا اس سے مر جائے اور دخول سے پہلے طلاق سے اضافہ ساقط ہو جائے گا۔ 

سوال : کسی خاتون سے ہزار درہم پر نکاح کیا اس شرط پر کہ وہ اسے شہر سے نہیں نکالے گا یا اس شرط پر کہ وہ اس پر کسی خاتون سے نکاح نہیں کرے گا تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟ 

جواب : اس بارے میں دیکھا جائے گا پس اگر (خاوند) شرط پوری کرے تو (بیوی) کے لیے مقرر کردہ (مہر) ہے اگر اس پر کسی خاتون سے نکاح کرے یا اسے شہر سے نکالے تو اس کے لیے اس کا مہرِ مثل ہے۔

سوال : (خاتون) سے غیر موصوف جانور پر نکاح کیا (تو) کیا یہ صحیح ہے؟ 

جواب : تسمیہ (یعنی مہر مقرر کرنا) صحیح ہے اور اس کے لیے درمیانہ درجے کا جانور ہے اور شوہر با اختیار ہے اگر چاہے اسے وہ (جانور) دے دے اور اگر چاہے اسے اس کی قیمت دے دے۔ 

سوال : غیر موصوف کپڑے پر نکاح کیا (تو) اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟

جواب: مہرِ مثل اس کے ذمہ واجب ہوگا۔ 

سوال : کسی خاتون سے نکاح کیا اور اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا پھر وہ دونوں مہر مقرر کرنے پر باہم راضی ہو گئے (تو) خاتون اس صورت میں کس (چیز) کی مستحق ہوگی؟

جواب : باہم راضی ہونا صحیح ہے اور اس (خاتون) کے لیے وہ ہے جس پر وہ دونوں باہم راضی ہوئے لیکن اگر وہ اس سے دخول کر لے  یا اس سے مر جائے تو اس کے لیے یہ مقرر کردہ (مہر) ہے اور اگر دخول اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے تو اس کے لیے متعہ ہے۔

سوال : آزاد مرد نے کسی خاتون سے نکاح کیا اس شرط پر کہ وہ اس کی ایک سال خدمت کرے گا یا اس شرط پر کہ وہ اسے قرآن (پاک) کی تعلیم دے گا (تو) کیا یہ تسمیہ صحیح ہے؟

جواب : یہ تسمیہ صحیح نہیں اور اس صورت میں اس کے لیے مہرِ مثل ہے۔

سوال : اگر غلام اپنے آقا کی اجازت سے (بیوی) کی ایک سال خدمت کرنے کی شرط پر آزاد خاتون سے نکاح کرے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : نکاح صحیح ہے اور (بیوی) کے لیے ایک سال غلام کی خدمت ہے۔

سوال : ولی خاتون کے لیے مہر کا ضامن ہو گیا (تو) کیا اس کا ضمان صحیح ہے؟ 

جواب : اس کا ضمان صحیح ہے اور خاتون کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر یا اپنے ولی سے (مہر کا) مطالبہ کرے۔

سوال : فاسد نکاح کیا پس قاضی نے خاوند بیوی کے درمیان تفریق کر دی (تو) مہر ادا کرنے کا حکم کیا ہے؟ 

جواب : جب دخول سے پہلے ان کے درمیان تفریق کرے تو اس (خاتون) کے لیے کوئی مہر نہیں اور اسی طرح جب خلوت کے بعد ان کے درمیان تفریق کرے (تو مہر نہیں) اور اگر وہ اس سے دخول کر لے تو اس کے لیے مہرِ مثل ہے لیکن یہ (مہر) مقررہ (مہر) سے زائد نہ کیا جائے۔

سوال : اس تفریق کے بعد عدت اور نسب کے ثبوت کا حکم کیا ہے اگر وہ اس سے بچہ جنے؟ 

جواب : اس کے ذمہ طلاق کی عدت ہے اور اس کے ولد کا نسب اس سے ثابت ہوگا۔

سوال : محبوب نے اپنی بیوی سے خلوت کی پھر اسے طلاق دے دی تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوگا؟ 

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک پورا مہر اس کے ذمہ واجب ہوگا کیونکہ خاتون نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا اور (صاحبین) رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ آدھا مہر ہے۔



No comments:

Powered by Blogger.