Mahrimat ka bayan

محرمات کا بیان

سوال : ان خواتین کو بیان کیجئے جن سے نکاح کرنا حرام ہے؟

جواب : محرمات کئی قسموں پر مبنی ہیں محرمات نسبیہ،  رضاع کی وجہ سے محرمات، مصاہرت کی وجہ سے محرمات، جمع کی وجہ سے محرمات، وہ محرمات جن کے ساتھ غیر کا حق متعلق ہو اور کفر و شرک کی وجہ سے محرمات۔

سوال : محرمات نسبیہ کو بیان کیجئے؟

جواب : یہ مائیں بیٹیاں پھوپھیاں خالائیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں ہیں اور تحقیق ان کے تصریح قرآن کریم میں آئی ہے اور مائیں مرد کی ماں اور اس کے باپ اور اس کی ماں کی طرف سے جدات یعنی دادیوں اور نانیوں کو شامل ہیں اگرچہ اوپر تک چلے جائیں اور اسی طرح بیٹیاں صلبی, بیٹیوں بیٹے کی بیٹیوں اور بیٹی کی بیٹیوں کو شامل ہیں اگرچہ نیچے تک چلی جائیں اور بہنیں باپ اور ماں کی طرف سے بہنوں، باپ کی طرف سے بہنوں اور ماں کی طرف سے بہنوں کو شامل ہیں جیسا کہ بھائی کی بیٹیاں باپ اور ماں کی طرف سے بھائی کی بیٹیوں باپ کی طرف سے بھائی کی بیٹیوں اور ماں کی طرف سے بھائی کی بیٹیوں کو شامل ہیں اور اسی پر تینوں جہتوں میں بہن کی بیٹیوں کو قیاس کیجیے اور اسی طرح پھوپھیاں کہ ان کے ساتھ نکاح کرنا حلال نہیں وہ جس جہت سے ہوں یعنی برابر ہے کہ پھوپھی باپ اور ماں کی طرف سے یا صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے اس کے باپ کی بہن ہو اور اسی پر تینوں جہتوں میں خالاؤں کو قیاس کیجیے۔

سوال : رضاع کی وجہ سے محرمات کو بیان کیجئے؟

جواب : مرد پر حرام ہے کہ وہ اپنی اس ماں سے جس نے اسے دودھ پلایا اور اپنی رضاعی بہن سے نکاح کرے اور ہر وہ رشتہ جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے وہ رضاع کی وجہ سے حرام ہوتا ہے مگر بعض وہ رشتے جو اس قانون کلی سے مستثنیٰ کئے جاتے ہیں اور ان کا بیان عنقریب رضاع کے باب میں آرہا ہے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

سوال : محرمات صھریه کو بیان کیجئے؟

جواب : مرد پر حرام ہے کہ وہ اس خاتون سے نکاح کرے جس کے ساتھ اس کے باپ نے نکاح کیا ہو اس کے ساتھ دخول کیا ہو یا دخول نہ کیا ہو یعنی صحبت کی ہو یا نہیں اور اسی طرح حرام ہے کہ وہ ماں کی جانب سے یا باپ کی جانب سے اپنے اجداد یعنی نانوں اور دادوں کی بیویوں سے نکاح کرے اگرچہ اوپر تک چلے جائیں اور حرام ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی بیوی سے اور اپنی بیٹی کے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرے اگرچہ نیچے تک چلے آئیں بیٹے نے اس کے ساتھ دخول کیا ہو یا نہیں اور حرام ہے کہ مرد اپنی بیوی کی ماں سے نکاح کرے اس کی بیٹی سے دخول کیا ہو یا دخول نہ کیا ہو اور حرام ہے کہ وہ اپنی اس بیوی کی بیٹی سے نکاح کرے جس کے ساتھ اس نے دخول کیا ہو برابر ہے کہ وہ بیٹی اس کی پرورش میں یا اس کے غیر کی پرورش میں ہو۔

سوال : جمع کی وجہ سے محرمات کو بیان کیجئے؟

جواب : ذوات الارحام کو جمع کرنا حرام ہے پس دو بہنوں کو نکاح کی حیثیت سے جمع کرنا حرام ہے۔ جیسا کہ اس کی تصریح قرآن کریم میں آئی ہے اور تحقیق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت فرمایا ہے کہ رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ عورت کا اس کی پھوپھی پر یا پھوپھی کا اس کے بھائی کی بیٹی پر اور عورت کا اس کی خالہ پر یا خالہ کا اس کی بہن کی بیٹی پر نکاح کیا جائے چھوٹی کا بڑی پر یا بڑی کا چھوٹی پر نکاح نہ کیا جائے اور فقہاء نے اس کے لیے قائدہ کلیہ ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر دو خواتین کہ اگر ان دونوں میں سے ایک کو لڑکا فرض کیا جائے جس جانب سے ہو تو رضاع یا نسب کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان نکاح جائز نہ ہو پس تحقیق ان دونوں خواتین کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔

سوال : کفر و شرک کی وجہ سے محرمات کو بیان کیجئے؟

جواب : جب آدمی دین اسلام کے سوا کسی مذہب پر ہو تو مسلمان خاتون کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس سے نکاح کرے وہ مرد جس مذہب پر بھی ہو۔ اور مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں کہ وہ مشرک خاتون جیسے بت پرست اور آتش پرست یا اس کے سوا کسی کافرہ سے نکاح کرے مگر یہ کہ خاتون کتابیہ یعنی یہودی خاتون یا عیسائی خاتون ہو کہ اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بہرحال صابیہ تو اس سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ کسی نبی پر ایمان رکھتی ہو اور کسی کتاب الہی کا اقرار نہیں کرتی تو مسلمان مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس خاتون سے نکاح کرے۔

سوال : ان محرمات کو بیان کیجئے جن کے ساتھ غیر کا حق متعلق ہوتا ہے؟

جواب: مرد کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی دوسرے مرد کی بیوی یا اس کی معتدہ سے نکاح کرے برابر ہے کہ عدت طلاق وفات یا فاسد نکاح میں دخول کی وجہ سے ہو۔



No comments:

Powered by Blogger.