Makkah me dakhil hone or tawaf qadoom ka bayan
مکہ میں داخل ہونے اور طواف قدوم کرنے کا بیان
سوال جب مفرد حاجی مکہ مکرمہ میں داخل ہو تو کس سے ابتداء کرے؟
جواب جب وہ مکہ میں داخل ہو تو مسجد حرام سے ابتداء کرے اس حال میں کہ باوضو ہو پس جب وہ بیت اللّه کو دیکھے تو اللّه اکبر کہے اور لا الہ الا اللّه کہے پھر بیت اللّه کا طواف کرے اور یہ مفرد حاجی کا پہلا طواف ہے اور یہ اس آفاقی کیلیئے سنت ہے جو مواقیت کے پیچھے سے آئے اور اس کا نام "طواف قدوم" رکھا جاتا ہے اور مکہ والوں پر اور حل والوں پر طواف قدوم نہیں
سوال طواف کا طریقہ بیان کیجیئے اور اس کی ابتداء اور اس کی انتہا کیسی ہے؟
جواب جب وہ طواف کرنا چاہے تو حجر اسود سے ابتداء کرے پس اس کی طرف رخ کرلے اور اللّه اکبر کہے اور لا الہ الا اللّه کہے اور تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اور حجر اسود چھوئے اور اسے بوسہ دے اگر مسلمان کو تکلیف پہنچائے بغیر طاقت رکھے. پس اگر تکلیف پہنچائے بغیر اسے بوسہ دینے کی طاقت نہ رکھے تو اپنے ہاتھوں کو اس پر رکھے پھر ان ہاتھوں کو بوسہ دے یا ان دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو رکھے اور افضل یہ ہے کہ دایاں ہاتھ ہو پس اسے بوسہ دے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو حجر اسود کو کوئی چیز چھوائے جو اس کے ہاتھ میں ہو یعنی لاٹھی یا اس کے علاوہ کوئی چیز پھر اس چیز کو بوسہ پس اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو حجر اسود کے برابر اس کی طرف رخ کرتے ہوئے کھڑا ہو جائے اور اللّه اکبر کہنے کے وقت ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھائے اور اپنے ہاتھوں کے ظاہر یعنی پشت کو اپنے چہرے کی طرف اور ان کے باطن کو حجر اسود کی طرف کرے اس حال میں کہ ان ہاتھوں کے ساتھ حجر اسود کی طرف اشارہ کرنے والا ہو گویا وہ ان ہاتھوں کو حجر اسود پر رکھے ہوئے ہے اور اشارہ کرنے کے بعد ان ہاتھوں کو بوسہ دے پھر اپنی دائیں جانب کو لے جو بیت اللّه کے دروازے کے قریب ہے اور بیت اللّه کو اپنی بائیں جانب کرے اور حطیم کے پیچھے سے گزرے اور رکن یمانی کو چھوئے جب اس کے پاس سے گزرے پس جب وہ حجر اسود کے پاس آئے تو اسے چھوئے اور اسے بوسہ دے اور یہ ایک چکر ہے پس اسی طرح سات چکر طواف کرے, حجر اسود کو چھوئے جب بھی اس کے پاس سے گزرے اس طریقہ کے مطابق جو ابھی ہم ذکر کر چکے اور حجر اسود کو چھونے کے ساتھ طواف شروع کرے اور اس عمل کے ساتھ طواف ختم کرے

No comments: