Mamnooat ke irtakab me qaran ke hukm ka bayan
ممنوعات کے ارتکاب میں قارن کے حکم کا بیان
سوال : قارن کاحکم کیا ہے جب وہ احرام کی ممنوعات میں سے کسی ممنوع شے کا ارتکاب کرے؟
جواب : ممنوعات کے ارتکاب میں قارن کے ذمہ دو دم واجب ہوتے ہیں ایک دم اس کے حج کی وجہ سے اور دوسرا دم اس کے عمرہ کی وجہ سے مگر یہ کہ وہ احرام کے بغیر میقات سے گزر جاۓ پھر گزرنے کے بعد عمرہ و حج کا احرام باندھے پس اسے اس سلسلہ میں ایک دم لازم ہوگا۔
احرام کے بغیر میقات سے گزرنے کا بیان
سوال : جو شخص میقات سے احرام نہ باندھے اور وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : مکّلف مسلمان آفاقی مکہ مکرمہ میں داخل ہونا یا حرم شریف میں داخل ہونا چاہے اگرچہ تجارت یا سیاحت کیلئے اور وہ بری یا بحری یا فضائی میقات سے گزر جاۓ اس حال میں کے محرم نہ ہو پھر وہ احرام باندھے یا احرام نہ باندھے تو وہ گناہ گار ہوگا اور دم اسے لازم ہوگا۔
سوال : کیا کناہ اور دم کے ساقط ہونے کیلئے کوئی راستہ ہے؟
جواب : جب وہ میقات سے احرام کے بغیر گزر جاۓ تو اسے اس میقات کی طرف جس سے وہ گزر گیا یا کسے بھی نزدیک ترین یا دور ترین میقات کی طرف لوٹنا لازم ہوگا اور افضل یہ ہے کہ وہ اس میقات کی طرف لوٹے جس سے وہ گزر گیا پس جب وہ میقات کی طرف لوٹ آئے اور میقات پر حج یا عمرہ کا احرام باندھے تو گناہ اور دم اس سے ساقط ہو جائیں گے۔
سوال : اگر وہ میقات کی طرف نہیں لوٹا اور حل یا حرم سے دونوں عبادتوں یعنی حج و عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام باندھا تو اس کے ذمہ کیا ہے؟
جواب : اگر میقات کے بعد احرام باندھا اور میقات کی طرف نہیں لوٹا اور جو احرام باندھا اس میں مداومت کی تو گناہ اور دم ساقط نہیں ہوں گے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور اس کی طرف رجوع کرے اور جو دم اس کے ذمہ واجب ہوا اس کی وجہ سے حرم میں بکری ذبح کرے اور اگر وہ احرام باندھنے کے بعد میقات کی طرف لوٹ آیا اور میقات پر تلبیہ کہا اور یہ یعنی میقات کی طرف لوٹنا اور تلبیہ کہنا نسک یعنی حج یا عمرہ کے افعال شروع کرنے سے پہلے ہوا تو دم اور گناہ اس سے ساقط ہو گئے۔
سوال : ایک شخص احرام کے بغیر میقات سے گزر گیا اور اس کے بعد حج کا احرام باندھا اور اسے حج فوت ہونے کا اندیشہ ہے جس وقت وہ اپنے میقات کی طرف لوٹنا چاہتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس وقت وہ میقات کی طرف نہ لوٹے بلکہ جنایت کی وجہ سے بکری ذبح کرے اور اللّٰہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور اس کی طرف رجوع کرے اور وہ یعنی جنایت احرام کے بغیر میقات سے گزرنا ہے۔
سوال : جو شخص میقات سے گزرنے کے بعد عمرہ کا احرام باندھے اس حال میں کہ میقات کی طرف لوٹنے کی وجہ سے اسے اپنی ذات یا اپنے مال کے بارے میں ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ کیسے کرے؟
جواب : میقات کی طرف لوٹنے کا وجوب اس سے ساقط ہو جائے گا اور وہ حرم میں بکری ذبح کرنے پر اکتفا کرے۔
سوال : ایک شخص احرام کے بغیر مکہ مکرمہ یا حرم شریف میں داخل ہوا اور اس نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر وہ احرام کے بغیر مکہ مکرمہ یا حرم محترم میں داخل ہو تو اس کے ذمہ ہر داخلہ کے عوض حج یا عمرہ ہے پس جب وہ اسی سال اسلام کے حج یعنی فرض حج یا حج منذور یا حج قضا یا عمرہ منذورہ یا عمرہ قضا یا مسنون یا مستحب عمرہ کا احرام باندھے تو یہ احرام اسے اس حج یا عمرہ سے کفایت کرے گا جو حج یا عمرہ احرام کے بغیر داخلہ کی وجہ سے لازم ہوا جب کہ اس طرح اس کا داخل ہونا پہلی مرتبہ ہو یا وہ اپنے داخلہ کو موخر کرے جبکہ داخلہ مکرر ہو اگرچہ اس نے اس حج یا عمرہ کی نیت نہ کی ہو۔پس اگر سال پھر جاۓ تو یہ احرام اسے اس حج یا عمرہ سے کفایت نہیں کرے گا جو حج یا عمرہ لازم ہوا مگر بایں طور کہ وہ اس حج یا عمرہ کی ادا کیلئے نیت مقصودہ کے ساتھ احرام باندھے جو حج یا عمرہ اسے احرام کے بغیر داخل ہونے کے سبب لازم ہوا پس جب وہ اپنے ان داخلوں کے عدد کے مطابق ایسا کرے جو داخلے احرام کے بغیر ہوۓ اس حال میں کہ وہ اس نسک یعنی حج یا عمرہ کی نیت کرنے والا ہو جو نسک اسے لازم ہوا تو اس سے وہ دم ساقط ہو جاۓ گا جو ہر مرتبہ واجب ہوا۔
سوال : آفاقی شخص بری یا بحری یا فضائی میقات پر آیا اور احرام کے بغیر گزر گیا اور میقات پر گزرنے کے وقت اس کی نیت صرف جدہ کی طرف سفر کرنے کی تھی وہ حج عمرہ حرم میں داخل ہونے اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : وہ اس عمل کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی ۔
سوال : پھر جب وہ اس طریقہ پر جدہ آۓ جسے ہم سوال میں ذکر کر چکے اور اس کے بعد حرم محترم میں داخل ہونا یا مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہے تو کیسے کرے؟
جواب۔اس صورت میں اس کیلئے جائز ہے کہ وہ احرام کے بغیر حرم محترم یا مکہ مکرمہ میں داخل ہو اور اگر جدہ پہنچنے کے بعد وہ حج یا عمرہ کا ارادہ کرے تو تحقیق وہ جدہ سے یا حل میں کسی جگہ سے احرام باندھے۔
سوال :کیا مواقیت والوں اور حل والوں کیلئے جائز ہے کہ وہ احرام کے بغیر حرم محترم یا مکہ مکرمہ میں داخل ہوں؟
جواب : ان کیلئے احرام کے بغیر حرم محترم اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونا جائز ہے جب تک کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ نہ کریں پس جب وہ احرام کے بغیر حرم محترم یا مکہ مکرمہ میں داخل ہوں اس حال میں کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں تو انہیں دم لازم ہوگا اور حل کی طرف لوٹنا ان پر لازم ہے کیونکہ ان کا میقات حل ہے اور اگر وہ حرم سے عمرہ کا یا حج کا احرام باندھیں اور حل کی طرف نہ لوٹیں یا حل کی طرف لوٹ آئیں اور طواف شروع کرنے سے پہلے اس یعنی حل میں تلبیہ نہ کہیں تو وہ گنہگار ہوں گے اور دم ان سے ساقط نہیں ہوگا۔
سوال : حرم میں رہنے والے نے مکہ مکرمہ یا حرم محترم میں عمرہ کا احرام باندھا تو کیا یہ اس کیلئے جائز ہے؟
جواب : یہ اس کیلئے جائز نہیں کیونکہ حرم والوں کا میقات حج کیلئے حرم اور عمرہ کیلئے حل ہے پس اگر انہوں نے اپنے میقات کے علاوہ کسی مقام پر احرام باندھا تو گناہ اور دم انہیں لازم ہوں گے ۔

No comments: