Mawaqeet or Ahraam ka bayan

مواقیت اور احرام کا بیان

سوال: ان مواقیت کو بیان کیجئے جن سے انسان کا احرام باندھے بغیر گزرنا جائز نہیں؟

جواب: یہ پانچ میقات ہیں نبی کریم ﷺ نے جن کو مقرر فرمایا ہے پس مدینہ والوں کے لیے میقات ذُوالْحُلَیْفَهُ ہے، عراق والوں کے لیے ذات عِرُق ہے، شام والوں کے لیے جُحفَهُ ہے، نجد والوں کے لیے قرُن ہے اور یمن والوں کے لیے یَلَمُلَمُ ہے اور یہ مواقیت مذکورہ علاقوں والوں کے لیے اور اس کے لیے ہیں جو ان مواقیت سے گزرے۔

سوال: یہ مواقیت اس شخص کے لیے مقرر کیے گئے ہیں جو ان سے باہر ہے اور ان مواقیت سے گزرنا چاہتا ہے۔ اور جو شخص نفس مواقیت میں رہتا ہے اور جو مواقیت اور حرم کے درمیان رہتا ہے اور جو نفس حرم میں رہتا ہے اس کے بارے میں سوال باقی رہ گیا؟

جواب: جو شخص مواقیت میں رہتا ہے وہ ان مواقیت سے احرام باندھے اور جو مواقیت اور حرم کے درمیان رہتا ہے پس اس کا میقات حل ہے اور حل مواقیت اور حرم کے درمیان کا علاقہ ہے اور جو حرم میں رہائش پذیر ہے تو اس کا میقات حج میں حرم اور عمرہ میں حِل ہے۔

سوال: کیا ان مواقیت سے احرام کو مقدم کرنا جائز ہے؟

جواب: جی ہاں! یہ جائز ہے بلکہ مقدم کرنا افضل ہے بشرطیکہ حج کے مہینوں میں احرام باندھے اور اپنے بارے میں ممنوعات کے ارتکاب سے مطمئن ہو۔

سوال: اگر ان مواقیت سے احرام کو مؤخر کردیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب: یہ جائز نہیں۔ پس اگر ان مواقیت سے گزرنے کے بعد احرام باندھا تو دم یعنی بکری اس پر واجب ہو گئی۔

سوال: ایک شخص مکہ کی طرف سفر کرتا ہے اور اس کے راستہ میں مذکورہ مواقیت میں سے کوئی میقات واقع نہیں تو وہ کہاں سے احرام باندھے؟

جواب: وہ اس میقات کے برابر سے احرام باندھے جس میقات کے برابر وہ گزرے۔

سوال: احرام کیا ہے؟

جواب: وہ تلبیہ کے ساتھ حج یا عمرہ کی نیت کرنا ہے۔

سوال: کیا احرام کا کوئی مسنون طریقہ ہے؟

جواب: جی ہاں! جب احرام باندھنا چاہے تو غسل کرے یا وضو کرے اور غسل افضل ہے اور دو نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہنے اس حال میں کہ وہ سلے ہوئے نا ہوں۔ ان میں سے ایک کے ساتھ تہبند باندھے اور دوسرے کے ساتھ چادر اوڑھے اور خوشبو لگائے اگر اس کے پاس ہو اور دو رکعت نماز پڑھے اس حال میں کہ اپنا سر چھپائے ہوئے ہو اور ان دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنا سر ننگا کردے اور حج کی نیت کرتے ہوئے زبان سے کہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ

ترجمہ: اے اللہ! میں حج کرنا چاہتا ہوں پس مجھے اس کی توفیق دیجیے جا اسے میرے لیے آسان کیجیے اور میری طرف سے اسے قبول فرمائیے۔ پھر تلبیہ کہے اور تلبیہ یوں کہے

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ... لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ... إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيْكَ لَكَ 

ترجمہ: میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ! میں بار بار حاضر ہوں میں بار بار حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں بار بار حاضر ہوں۔ بےشک تمام حمد، نعمت اور ملک آپ ہی کے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں۔

اور ان کلمات میں سے کچھ کمی نہ کرے پس اگر ان میں اضافہ کرے تو جائز ہے۔ پس جب وہ تلبیہ کہہ چکے تو تحقیق وہ محرم ہوگیا پس چاہے کہ وہ ممنوعات احرام سے پرہیز کرے۔

سوال: جب عورت حیض والی یا نفاس والی ہو تو کیا وہ حج کا احرام باندھ لے یا خون کے بند ہونے کا انتظار کرے؟

جواب: وہ خون کے بند ہونے کا انتظار نہ کرے بلکہ صفائی کے لیے غسل کرے بشرطیکہ اسے غسل کرنے کی جگہ مل جائے اور اپنے سر میں کنگھی کرے پھر دوگانہ احرام کے بغیر احرام باندھے پس حج یا عمرہ کی نیت کرے اور تلبیہ کہے پس جب وہ نیت کر چکےاور تلبیہ کہہ چکے تو تحقیق وہ محرمه ہوگئی پس جب وہ مکہ میں داخل ہو تو خون کے بند ہونے کا انتظار کرے پس جب وہ پاک ہو جائے تو غسل کرے 
اور طواف کرے۔



No comments:

Powered by Blogger.