Mazdalfah ki taraf jane is me waqoof karne ka bayan

مزدلفہ کی طرف جانے اس میں وقوف کرنے کا بیان

سوال: عرفہ کے دن غروب آفتاب کے بعد حاجی کس عمل میں مشغول ہو؟

جواب: جب آفتاب غروب ہوجائے تو وہ مزدلفہ کا ارادہ کرتے ہوئے عرفات سے نکلے اور عرفات میں اور مزدلفہ کے راستہ میں مغرب کی نماز نہ پڑھے پس جب مزدلفہ پہنچ جائے تو امیر حج یا اس کے علاوہ امام کے ساتھ ایک آذان اور ایک اقامت کے ساتھ مغرب و عشاء کی نماز پڑھے اور یہ جمع تاخیر ہے۔

سوال: اگر تنہا نماز پڑھے تو کیا ان دونوں نمازوں کو جمع کرے؟

جواب: جی ہاں! ان دونوں نمازوں کو جمع کرے کیونکہ اس جمع کے لئے جماعت شرط نہیں۔

سوال: اگر عرفات میں یا راستہ میں نماز مغرب پڑھ لی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب: اس نماز نے اسے کفایت نہیں کیا اور اس نماز کا لوٹانا اس پر لازم ہے۔

سوال: دونوں نمازوں کے بعد پھر کس عمل میں مشغول ہو؟

جواب: فجر ثانی یعنی صبح صادق کے طلوع تک مزدلفہ میں شب باشی کرے پس جب فجر ثانی طلوع ہوجائے تو اندھیرے میں نماز فجر باجماعت پڑھے پھر طلوع آفتاب سے تھوڑی دیر پہلے تک ٹھہر جائے اس دوران اللّه تعالیٰ کو پکارے اور یاد کرے۔ اور بَطنِ مُحسَرُ کے علاوہ تمام مزدلفہ موقف ہے۔



No comments:

Powered by Blogger.