Minah ki taraf or phir Arfat ki taraf jane ka bayan

منیٰ کی طرف پھر منیٰ سے عرفات کی طرف جانے کا بیان

سوال: جب حاجی طواف قدوم اور صفا و مروہ کے درمیان سعی سے فارغ ہو جائے اور حج کے تھوڑے یا زیادہ دنوں کی مدت باقی رہ جائے تو کیا کرے؟

جواب: وہ مکہ میں قیام کرے اس حال میں کہ محرم ہو پس وہ بیت اللہ کا طواف کرے جب خیال سوجھے اور پانچوں نمازوں کے لیے مسجد حرام میں حاضر ہو اور نماز کی جماعتوں سے پیچھے نہ رہے کیونکہ مسجد حرام میں ایک نماز اس کے ماسوا مسجد میں ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے پس جب ترویہ کے دن یعنی 8 ذولحجہ سے پہلے 7 ذولحجہ کا دن ہو تو امام خطبہ دے جس میں لوگوں کو منیٰ کی طرف نکلنے اور عرفات میں نماز پڑھنے وقوف کرنے اور کوچ کرنے کی تعلیم دے پس جب امام اور حاجی ترویہ کے دن فجر کی نماز پڑھ لیں تو وہ منیٰ کو نکلے۔

سوال: جب وہ منیٰ پہنچ جائے تو کیا کرے؟

جواب: وہ اس میں عرفہ کے دن یعنی 9 ذولحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد قیام کرے اور منیٰ میں پانچوں نمازیں پڑھے اور نماز کی جماعت سے پیچھے نہ رہے۔

سوال: جب عرفہ کے دن آفتاب طلوع ہو جائے تو کیا کرے؟

جواب: جب عرفہ کے دن آفتاب طلوع ہو جائے اور ثبیر۔۔۔۔۔۔ اور وہ منیٰ میں ایک پہاڑ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کو روشن کر دے تو وہ عرفات کی طرف نکلے اور غروب آفتاب تک اس میں قیام کرے پس جب آفتاب ڈھل جائے تو امام لوگوں کو ظہر عصر کی نماز پڑھائے۔ امام نماز سے پہلے دو خطبے دے جن میں لوگوں کو عرفہ میں نماز اور وقوف، مزدلفہ میں وقوف، رمی جمار، نحر، حلق اور طواف زیارت کی تعلیم دے اور انہیں ظہر کے وقت میں ایک آذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز پڑھائے اور یہ جمع تقدیم ہے اور اس جمع کے لئے مسلمانوں کا امام یا اس کا نائب، حج کا احرام اور ظہر کا وقت شرط ہے اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک ہے پس جو اپنے خیمے میں یا تنہا یا جماعت کے ساتھ حج کے امام کے علاوہ کسی امام کی اقتدا کرتے ہوئے نماز ظہر پڑھے تو وہ دونوں نمازوں میں سے ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھے۔ اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رح فرماتے ہیں کہ منفرد بھی دونوں نمازوں کو جمع کرے۔

سوال: نماز کے بعد کس عمل میں مشغول ہو؟

جواب: پھر نماز کے بعد مؤقف کی طرف رخ کرے اور بطن عرنہ کے علاوہ تمام عرفات مؤقف ہے اور مستحب ہے کہ غسل کرے اور غروب آفتاب تک خوب دعا کرے اور اس دوران نماز عصر پڑھے اگر اس نے امام حج کے ساتھ نماز عصر نہ پڑھی ہو اور مستحب ہے کہ جبل رحمت کے قریب وقوف کرے اور کھڑے ہو کر دعا کرے جب تک کھڑا ہونے کی طاقت رکھے اور اگر اپنے خیمے میں دعا میں مشغول ہو تو یہ جائز ہے اور امام حج کے لیے مستحب ہے کہ وہ عرفات میں اپنی سواری پر وقوف کرے دعا کرے اور لوگوں کو افعال و ارکان حج کی تعلیم دے۔



No comments:

Powered by Blogger.