Nafqat ka bayan
نفقات کا بیان
سوال : وجوب کی حیثیت سے خرچ کرنے میں تفصیل کیا ہے؟
جواب : نفقہ بیویوں،اولاد اور مطلقہ خواتین کے لیے، والدین کے لیے اور ذوی الارحام کے لیے واجب ہے۔
بیویوں کے نفقہ کا بیان
سوال : پہلے ان احکام کو بیان فرمائیے جو بیویوں کے نفقات کے متعلق ہیں؟
جواب: درج ذیل مسائل کو زبانی یاد کیجیے۔
1
نفقہ بیوی کے لیے اس کے شوہر پر واجب ہے بیوی مسلمان ہو یا کتابیہ بشرطیکہ وہ خود کو شوہر کے مکان میں سپرد کردے اور شوہر کو بیوی کی پوشاک اور اس کی رہائش بھی لازم ہے اور اس میں ان دونوں کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا مالدار ہو شوہر یا تنگدست۔
2
اگر بیوی نافرمانی کرے اور خود کو شوہر کے مکان میں سپرد نہ کرے تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ شوہر کے گھر واپس آجائے۔
3
اگر وہ خود کو سپرد کرنے سے انکار کرے یہاں تک کہ شوہر سے اس کا مہر دے دے تو اس کے لیے نفقہ ہے۔
4
اگر بیوی نابالغ ہو کہ اس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے اگرچہ وہ خود کو شوہر کے سپرد کر دے۔
5
بیوی نے خود کو شوہر کے سپرد کر دیا لیکن وہ یعنی شوہر نابالغ ہے کہ وطی پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ یعنی بیوی بالغہ ہے تو اس کے لیے شوہر کے مال میں سے نفقہ ہے۔
6
جب عورت قرض کی وجہ سے قید کر لی جائے یا کوئی مرد اسے زبردستی اغوا کر لے اور اسے لے جائے تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے۔
7
شوہر کے علاوہ کسی کسی کے ساتھ حج کا سفر کیا تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے۔
8
شوہر کے مکان میں بیمار ہوگئی تو اس کے لیے نفقہ ہے۔
9
مرد نے کسی باندی کے ساتھ نکاح کیا پس اس باندی کے آقا نے شوہر کے ساتھ اس باندی کو شب باشی کرائی تو اس مرد کے ذمہ نفقہ ہے۔
10
غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے کسی آزاد خاتون کے ساتھ نکاح کیا تو اس آزاد خاتون کا نفقہ اس غلام کے ذمہ قرض ہے نفقہ کی ادائیگی میں اسے بیچا جائے مگر جب اس کا آقا اپنے مال میں سے اس خاتون پر خرچ کرے تو غلام کے ذمہ قرض نہیں ہے۔
سوال : ایک خاتون کہ اس کی شادی سے پہلے اس کے باپ کے گھر میں اس کا ایک خادم تھا تو کیا اس کے شوہر پر اس کے خادم کا نفقہ واجب ہوگا؟
جواب : جی ہاں! واجب ہوگا بشرطیکہ وہ مالدار ہو اور ایک خادم سے زائد کے لیے نفقہ واجب نہیں ہوگا۔
سوال : کوئی مرد اپنی بیوی کے نفقہ سے تنگدست ہو گیا تو کیا ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے؟
جواب : ان دونوں کے درمیان تفریق نہ کی جائے اور اس خاتون سے کہا جائے کہ شوہر کے نام قرض لیتی رہ۔ پس جب شوہر مالدار ہو جائے تو وہ قرض ادا کردے۔
سوال : قاضی نے اپنی بیوی کے لیے تنگدستی کے نفقہ کا فیصلہ دیا پھر شوہر مالدار ہو گیا پس بیوی نے شوہر کے خلاف مقدمہ کیا تو اس کے لیے مالداری کا نفقہ مکمل کر دیا جائے؟
جواب : جی ہاں! اس کے لیے یہ یعنی مالداری کا نفقہ مکمل کر دیا جائے.
سوال : ایک مدت گزر گئی کہ شوہر نے اس مدت میں اپنی بیوی پر خرچ نہیں کیا اور بیوی نے اس سے اس کا مطالبہ کیا جو اس نے اپنے اوپر خرچ کیا تو کیا اس نفقہ کی ادائیگی شوہر پر واجب ہوگی؟
جواب : اس صورت میں بیوی کے لیے کوئی چیز نہیں ہے مگر یہ کہ قاضی نے اس کے لیے نفقہ مقرر کیا ہو یا بیوی نے کسی مقدار پر شوہر سے صلح کرلی ہو تو اس کے لیے گزشتہ زمانے کے نفقہ کا فیصلہ دیا جائے گا۔
سوال : شوہر کے ذمہ نفقہ کا فیصلہ دیا گیا اور اس نے نفقہ ادا نہیں کیا یہاں تک کہ کئی ماہ گزر گئے پھر وہ مر گیا تو اس نفقہ کا حکم کیا ہے شوہر کے ذمہ جس نفقہ کا فیصلہ دیا گیا؟
جواب : اس صورت میں نفقہ ساقط ہو گیا۔
سوال: بیوی کو ایک سال کا نفقہ دیا گیا تا کہ وہ اپنی ذات پر خرچ کرے پھر نفقہ کے مکمل ہونے سے پہلے ان دونوں میں سے ایک مر گیا تو کیا نفقہ میں سے وہ واپس لوٹا دیا جائے جو باقی رہ گیا ہو؟
جواب: نفقہ میں سے کوئی چیز واپس نہیں لوٹائی جائے اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بیوی کے لیے گزشتہ زمانے کے نفقہ کا حساب لگایا جائے اور نفقہ میں سے جو باقی رہ جائے تو وہ اس کے شوہر کے لیے ہے۔

نفقہ بیویوں،اولاد اور مطلقہ خواتین کے لیے، والدین کے لیے اور ذوی ---- کے لیے واجب ہے۔
ReplyDeleteالارحام
Deleteیہ سبق تو ابھی پڑھا نہیں...؟؟آپ نے تکرار بھی کر لی.
Deleteنفقہ بیوی کے لیے اس کے شوہر پر واجب ہے بیوی مسلمان ہو یا _______
ReplyDeleteکتابیہ
Deleteشوہر کے مکان میں بیمار ہوگئی تو اس کے لیے ____ ہے۔
ReplyDeleteنفقہ
Deleteمگر جب اس کا آقا اپنے مال میں سے اس خاتون پر خرچ کرے تو غلام کے ذمہ___ نہیں ہے۔
ReplyDeleteقرض
Deleteجواب : اس صورت میں نفقہ _____ ہو گیا۔
ReplyDeleteساقط
ReplyDelete