Nakhun tarashne ka bayan

ناخن تراشنے کا بیان

سوال : مُحْرِمْ کے لیے ناخن تراشنے کا حکم کیا ہے؟

جواب : اگر ایک مجلس میں دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے ناخن یا ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے ناخن تراشے تو دم واجب ہوگا اور اگر دونوں ہاتھوں یا دونوں پاؤں میں سے ہر ایک کے ناخن متفرق مجالس میں تراشے تو مجالس کے متعدد ہونے کے مطابق جزا متعدد ہوگی۔

سوال : اگر پانچ ناخن سے کم تراشے تو اس کا حکم کیا  ہے؟

جواب : اگر ایک عضو سے پانچ ناخن سے کم تراشے تو صدقہ واجب ہوگا۔

سوال : اور اگر ایک عضو سے سے زائد کے پانچ ناخن تراشے مثلاً ایک ہاتھ کے دو ناخن دوسرے ہاتھ کے دو ناخن اور ایک پاؤں کا ایک ناخن تراشا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس صورت میں بھی صدقہ واجب ہوگا۔ 

بال مونڈنے کا بیان

سوال :  جب مُحْرِمْ بدن کے بال مونڈے تو اس کے ذمہ کیا واجب ہوتا ہے؟ 

جواب : جب مُحْرِمْ اپنا سر یا اپنی داڑھی یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی چوتھائی مونڈے تو اس کے ذمہ دم ہے اور چوتھائی سے کم میں صدقہ ہے اور اگر اپنی بغل یا اپنی ناف (کے بال) مونڈے تو اس ذمہ دم ہے اور (سر وغیرہ کے بال) چھانٹنے کا حکم  دم اور صدقہ کے واجب ہونے میں مونڈنے کا حکم ہے اور اگر کسی زائل کرنے والی شے کے ساتھ بالوں کو زائل کیا یا ان کے نوچا یا دانتوں کے ساتھ ان کو اکھیڑا تو یہ (عمل) بھی مونڈنے کے حکم میں ہے۔

سوال : اگر گردن کے پچھنے لگانے کی جگہ مونڈے تو اس کے ذمہ کیا ہے؟

جواب : اگر گردن کے پچھپنے لگانے لگانے کی جگہ مونڈے تو حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ذمہ دم ہے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبین (یعنی حضرت یوسف رحمۃ اللہ علیہ و محمد رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ صدقہ ہے۔ 

سوال : اس (سلسلہ) میں عورت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ (یعنی عورت) جزا کے واجب ہونے میں مرد کی مانند ہے پس اگر اس نے حلال ہونے (یعنی احرام سے نکلنے) کے وقت سے پہلے پوروں کی مقدار اپنی بغل یا اپنی ناف (کے بال) مونڈے یا اپنے سر کی چوتھائی یا (اس سے) زیادہ (حصہ) کے بال لیے تو اس کے ذمہ دم واجب ہوگا اور چوتھائی سے کم میں صدقہ واجب ہوگا۔

فائدہ : اس (سلسلہ) میں جزا کے واجب ہونے میں کوئی فرق نہیں جبکہ وہ خود مونڈے یا اس کا غیر اس کے حکم سے یا اس کے حکم کے بغیر مونڈے اس حال میں کہ (وہ) راضی یا مجبور، جاہل یا مخطی، عامد یا ناسی (ہو)۔

ان ممنوعات کے ارتکاب میں معذور کے حکم کا بیان

 سوال : اگر عذر کے ساتھ سلا ہوا لباس پہنا یا خوشبو لگائی یا سر یا چہرے کو چھپایا یا بال مونڈے یا ناخن تراشے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب مُحْرِمْ عذر کی وجہ سے جیسے بخار جو اسے پہنچے یا مثلاً گرمی یا سردی کی شدت کی وجہ سے یا سر میں درد یا (سر) میں جوؤں کی کثرت کی وجہ سے ان ممنوعات میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرے تو ہر ایسی جگہ میں جس میں دم واجب ہوتا ہے اسے اختیار دیا جائے گا کہ وہ حرم میں بکری ذبح کرے یا چھ مسکینوں پر گندم کے تین صاع یا کشمش یا کھجور یا جو کے چھ صاع صدقہ کرے، ہر مسکین کو گندم کا آدھا صاع یا اس کے علاوہ (جو وغیرہ) کا ایک صاع دے یا تین دن روزہ رکھے اور اس حکم میں مالدار اور فقیر برابر ہیں اور اگر عذر کی وجہ سے ایسے ممنوع (فعل) کا ارتکاب کرے جس میں صدقہ واجب ہوتا ہے تو اسے (ان دو عملوں) کے درمیان اختیار دیا جائے گا کہ وہ آدھا گندم کا صاع صدقہ کرے یا کامل دن روزہ رکھے۔



No comments:

Powered by Blogger.