Oliya or hamsaron ka bayan

اولیاء اور ہمسروں کا بیان

سوال : ولی کون ہے؟

جواب : ولایت نکاح چار اسباب یعنی قرابت، ولاء، امامت اور ملک سے ثابت ہوتی ہے۔ بہرحال قرابت کی جانب سے تو میراث میں عصبات کی ترتیب پر عصبہ ہی اولیاء ہیں اور قریب ترین پھر قریب ترین کو مقدم کیا جائے اور اولیاء میں سے عورت کے قریب ترین بیٹا پھر بیٹے کا بیٹا اگرچہ نیچے تک چلا جائے پھر باپ پھر دادا یعنی باپ کا باپ اگرچہ اوپر تک چلا جائے پھر باپ اور ماں کی طرف سے بھائی پھر باپ کی طرف سے بھائی پھر باپ اور ماں کی طرف سے بھائی کا بیٹا پھر باپ کی طرف سے بھائی کا بیٹا اگرچہ نیچے تک چلے جائیں پھر باپ اور ماں کی طرف سے چچا پھر باپ کی طرف سے چچا پھر باپ اور ماں کی طرف سے چچا کا بیٹا پھر باپ کی طرف سے چچے کا بیٹا اگرچہ نیچے تک چلے جائیں پھر باپ اور ماں کی طرف سے باپ کا چچا پھر باپ کی طرف سے باپ کا چچا پھر اس ترتیب پر ان دونوں کے بیٹے ہیں۔
اور بہرحال ولاء کی جانب سے تو وہ ولاء عتاقہ ہے پس جب قرابت کی جانب سے عصبہ میں سے عورت کا کوئی ولی نہ ہو تو آقائے عتاقہ جس نے اس خاتون کو آزاد کیا، کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کا نکاح کرائے کیونکہ یہ عصبات میں سے آخری عصبہ ہے اور عصبات کے نہ ہونے کے وقت ذوی الارحام بچے اور بچی کا نکاح کرانے میں ولی ہوں گے۔
اور بہرحال امامت کی حیثیت سے تو اس سے مراد حاکم بادشاہ اور قاضی کی ولایت ہے پس جب اولیاء نہ پائے جائیں تو ولایت نکاح ان کے سپرد ہے۔
اور بہرحال ملک کی جانب سے تو اس سے مراد غلام اور باندی کا آقا ہے کیونکہ اسے ان دونوں کا نکاح کرانے کی ولایت حاصل ہے اگرچہ وہ دونوں اس سے راضی نہ ہوں اور جب آقا کی اجازت کے بغیر غلام نکاح کرے یا باندی نکاح کرے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہے پس اگر وہ نافذ کر دے تو جائز ہوگا اور اگر رد کردے تو باطل ہوگا۔


سوال : آزاد بالغ خاتون کے نکاح کا حکم کیا ہے جب وہ اپنی رضا سے نکاح کرے اور ولی نے اس پر عقد نکاح نہ کیا ہو؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس خاتون کا نکاح اس کی رضا سے جائز ہے اگرچہ اس کے ولی نے اس پر عقد نکاح نہ کیا ہو باکرہ ہو یا ثیبہ۔ اور جب عاقل بالغ خاتون اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح جائز ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر منعقد نہیں ہوتا۔

سوال : کیا باکرہ بالغہ عاقلہ کو نکاح پر مجبور کرنا ولی کے لیے جائز ہے؟

جواب : اسے نکاح پر مجبور کرنا ولی کے لیے جائز نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے باکرہ ہو یا ثیبہ۔

سوال : ہم نے تسلیم کیا کہ اس خاتون کو نکاح پر مجبور کرنا جائز نہیں لیکن اکثر خواتین خود اپنا نکاح نہیں کرتیں سوائے اس کے نہیں اولیاء ان کا نکاح کراتے ہیں تو کیا ولی اجازت طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے؟

جواب : جب اس خاتون کو نکاح پر مجبور کرنا ولی کے لیے جائز نہیں تو اسے لازم ہے کہ اس خاتون سے اجازت طلب کرے اس طور پر کہ میں چاہتا ہوں کہ میں فلاں بن فلاں سے تمہارا نکاح کراؤں پس اگر وہ خاتون اجازت دے دے تو نکاح کرانا اس کے لیے جائز ہوگا اور اگر رد کر دے تو نکاح مردود ہوگا۔

سوال : باکرہ شرم کرتی ہے کہ وہ زبان سے جواب دے تو وہ کیسے اجازت دے؟

جواب: جب ولی اس سے اجازت طلب کرے پس وہ چپ رہے یا ہنس پڑے یا آواز کے بغیر رو پڑے تو یہ اس کی طرف سے اجازت ہے پس اگر غیر ولی یا وہ ولی اس خاتون سے اجازت طلب کرے کہ اس کا غیر اس ولی کی بنسبت زیادہ قریب ہے تو قول کے ساتھ اس کی رضا کا اظہار ضروری ہے۔

سوال : اگر وہ انکار کر دے تو ولی کیا کرے؟

جواب : اسکا نکاح نہ کرائے کیونکہ اس نے رد کر دیا ہے۔

سوال : ایک خاتون نے پہلے نکاح کیا پھر وہ بیوہ ہوگئی پس ولی نے چاہا کہ دوسری مرتبہ اس کا نکاح کرائے تو کیا اجازت طلب کرنا اسے لازم ہے؟

جواب : اس صورت میں دو کام ضروری ہیں ایک یہ کہ ولی اس سے اجازت طلب کرے اور دوسرے یہ کہ قول کے ساتھ اپنی رضا واضح کرے اور چپ رہنے یا ہنسنے یا رونے پر اکتفا نہ کیا جائے۔

سوال : کنواری لڑکی نے نکاح نہیں کیا لیکن اس کی بکارت اچھل کود یا حیض یا زخم یا بلوغ کے بعد مدت دراز تک شادی نہ کرنے کے باعث زائل ہوگئی تو یہ خاتون باکرہ کے حکم میں یا ثیبہ کے حکم میں ہے؟

جواب : یہ کنواری لڑکیوں کے حکم میں ہے پس اس کی طرف سے اجازت کے لیے اس کے چپ رہنے اور اس کے مشابہ یعنی ہنس پڑنے یا آواز کے بغیر رونے پر اکتفا کیا جائے۔

سوال : کنواری لڑکی نے نکاح نہیں کیا لیکن اس کی بکارت زنا کی وجہ سے زائل ہوگئی تو اس مسئلہ میں اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک وہ کنواری لڑکیوں کے حکم میں ہے پس اجازت طلب کرنے کے وقت اس کے چپ رہنے پر اکتفا کیا جائے اور حضرت ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ میں ثیبہ کے حکم میں ہے۔

سوال : ایک شخص نے اپنی بالغ کنواری لڑکی کا نکاح کرایا پس شوہر نے کہا تمہیں نکاح کی خبر پہنچی تو تم خاموش رہیں اور اس نے کہا کہ میں خاموش نہیں رہی بلکہ میں نے رد کر دیا تو ان کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : معتبر قول اس بارے میں خاتون کا قول ہے اور حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ذمہ قسم نہیں ہے اور آپ رح کے نزدیک یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن میں قسم نہیں کھلائی جاتی اور صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک قسم کھلائی جاتی ہے۔

سوال : بچہ یا بچی کے ولی نے اجازت طلب کرنے کے بغیر ان کا نکاح کرا دیا تو کیا ان دونوں کا نکاح صحیح ہے؟

جواب : جی ہاں! صحیح ہے کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اجازت طلب کرنے کے بغیر ان دونوں کا نکاح کرائے اور یہ ان دونوں کو ولی کے مجبور کرنے کا مطلب ہے اور یہ حکم بچی میں عام ہے باکرہ ہو یا ثیبہ۔

سوال : ولی اقرب غائب ہے اور نکاح کرانے کی ضرورت پڑ گئی تو کیا ولی ابعد کے لیے جائز ہے کہ وہ دونوں کا نکاح کرائے؟

جواب : جب ولی اقرب غیبت منقطعه کے طور پر غائب ہو تو ولی ابعد کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کا نکاح کرائے۔

سوال : غیبت منقطعه کیا ہے؟

جواب : وہ یہ ہے کہ وہ یعنی ولی اقرب ایسے شہر میں ہو کہ قافلے اس شہر تک سال میں صرف ایک مرتبہ پہنچتے ہوں۔

سوال : پاگل خاتون کے دو ولی ہیں یعنی اس کا باپ اور اس کا بیٹا تو اس کا نکاح کرانے میں ولی کون ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ اور حضرت ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا ولی اس کا بیٹا ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کا ولی اس کا باپ ہے ۔

سوال : بچہ یا بچی کہ ان کے ولی نے ان کے بچپن میں ان کا نکاح کرایا پھر وہ بالغ ہوگئے تو کیا ان دونوں کو نکاح توڑنے کا حق حاصل ہے؟

جواب : اگر باپ یا دادا ان کا نکاح کرائے تو بالغ ہونے کے بعد ان کو خیار حاصل نہیں اور اگر باپ و دادے کا غیر ان کا نکاح کرائے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو خیار حاصل ہے کہ اگر چاہے نکاح کو قائم رکھے اور اگر چاہے تو توڑدے۔

سوال : کیا رشتہ داروں میں سے عصبات کے سوا کے لیے جائز ہے کہ وہ بچے یا بچی کا نکاح کرائے جیسے بہن، ماں اور خالہ؟

جواب : جی ہاں! عصبات کے نہ ہونے کے وقت جائز ہے۔

سوال :  باپ نے نابالغ بچی کا نکاح کرایا اور اس کے مہر مثل میں سے آدھا مہر مقرر کیا یا اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کرایا اور اس کی بیوی کے مہر میں مہر مثل میں اضافہ کر دیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ عمل ان دونوں یعنی نابالغ بچہ اور بچی کے خلاف باپ اور دادا کے لیے جائز ہے اور یہ عمل ان کے غیر کے لیے جائز نہیں۔

سوال : کیا ولایت میں مذکورہ بالا امور میں سے قرابت وغیرہ کے سوا کسی چیز کی شرط لازم کی جاتی ہے؟

جواب : شرط لازم کی جاتی ہے ولی بالغ عاقل ہو پس نابالغ اور پاگل کو ولایت حاصل نہیں۔

سوال : کافر کی ولایت کا حکم کیا ہے؟

جواب : کافر کو مسلمان مرد اور مسلمان خاتون پر ولایت حاصل نہیں اگرچہ وہ لوگوں میں سے ان دونوں کے قریب ترین ہو۔

سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ بالغ خاتون کو مجبور کرنا ولی کے لیے جائز نہیں پس بالغ خاتون نے کسی مرد سے نکاح کیا اور اپنے مہر مثل سے مہر کم کردیا تو کیا اس مہر کے خلاف ولی کے لیے اعتراض ثابت ہے جو مہر اس نے اپنے لیے اختیار کیا؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اولیاء کو اس کے خلاف اعتراض کا حق حاصل ہے یہاں تک کہ اس کا مہر مثل اس خاتون کے لیے مکمل ہو جائے یا اس کا شوہر اس سے جدا ہوجائے۔

سوال : خاتون کہ اس کا ولی اس کے چچے کا بیٹا ہے پس اس نے اپنی ذات سے اس خاتون کا نکاح کرا دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ جائز ہے اور نکاح صحیح ہے بشرطیکہ دو گواہوں کی موجودگی میں ہو۔

سوال : بالغ خاتون نے کسی شخص کو اجازت دی کی وہ اپنی ذات سے اس کا نکاح کرا دے پس اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں عقد نکاح کیا تو کیا یہ نکاح صحیح ہے؟

جواب : جی ہاں! صحیح ہے



No comments:

Powered by Blogger.