Qiraan ka Bayan

قِران کا بیان
سوال : کیا حج اور عمرہ کے احراموں کو جمع کرنا صحیح ہے؟

جواب : جی ہاں ! صحیح ہے اور یہ افراد اور تمتع سے افضل ہے اور تمتع افراد سے افضل ہے اور جو ان دونوں احراموں کو جمع کرے اس کا نام قارن اور اس جمع کا نام قِران رکھا جاتا ہے۔

سوال : قِرآن کا طریقہ بیان کیجئے؟

جواب : قِرآن کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھے اور دوگانہ احرام کے متصل بعد یہ کہے

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھُمَا لِیْ وَتَقَبَّلْھُمَا مِنِّیْ

ترجمہ : اے اللّه! میں حج اور عمرہ کرنا چاہتا ہوں پس مجھے ان دونوں کی توفیق عطا فرمائیے اور میری طرف سے ان دونوں کو قبول فرمایئے۔ پھر تلبیہ کہے پس جب وہ تلبیہ کہہ لے تو تحقیق وہ ان دونوں یعنی حج و عمرہ کا محرم ہوگیا پس جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو تو طواف سے ابتدا کرے اور عمرہ کے لیے سات چکر بیت اللّه کا طواف کرے اس حال میں کہ اضطباع کرنے والا ہو اور ان سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرے اور ان تین چکروں کے ما بعد چکروں میں اپنی حالت پر چلے پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے یہ عمرہ کے افعال ہیں پھر عمرہ کی سعی کے بعد طواف قدوم کرے اور حج کے لیے صفا و مروہ کے درمیان اس طرح سے سعی کرے جسے ہم مفرد کے حج میں بیان کر چکے پھر حالت احرام میں رہے یہاں تک کہ ترویہ کے دن منیٰ کو نکلے اور اسی طرح کرے جس طرح مفرد حاجی کرتا ہے یعنی منیٰ میں قیام پھر عرفہ میں پھر مزدلفہ میں وقوف پھر نحر کے دن جمرۂ کبریٰ کی رمی کرے اور وہ یعنی جمرۂ کبریٰ جمرۂ عقبہ ہے اور منیٰ میں رات گزارے اور رمی کے دنوں میں تینوں جمروں کی رمی کرے اور نحر کے دنوں میں طواف زیارت کرے۔

سوال: کیا قارن پر کوئی زائد شے واجب ہوتی ہے جو مفرد پر واجب نہیں؟

جواب: جی ہاں! قارن پر واجب ہے کہ وہ نحر کے دن جمرۂ کبریٰ کی رمی کے بعد ہدی ذبح کرے پس وہ دو عبادتوں یعنی حج و عمرہ کی وجہ سے اللّه تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے بکری یا بد نہ کا ساتواں حصہ زبح کرے پھر اپنے سر کے بال مونڈے یا چھانٹے پس وہ دونوں احراموں سے ایک ساتھ نکل جائے گا جیسا کہ وہ ان دونوں احراموں میں ایک ساتھ داخل ہوا اور ذبح کے بعد ہی اس کے لیے حلق یا قصر جائز ہے اور عورتوں کے سوا ہر شے اس کے لیے حلال ہوگئی کیونکہ عورتیں طواف زیارت کے بعد حلال ہوتی ہیں 

سوال : اگر ہدی خریدنے کے لئے اس کے پاس مال نہ ہو تو کیا کرے؟

جواب : حج میں تین دن روزہ رکھے کہ ان کا آخر عرفہ کا دن ہو پھر سات دن روزہ رکھے جب وہ اپنے اہل کی طرف واپس آجائے پس یہ مکمل دس روزے ہیں۔

سوال : اگر تین دن کے روزے اس سے فوت ہوجائیں یہاں تک کہ نحر کا دن داخل ہو جائے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اب اسے ہدی کا ذبح کرنا ہی کفایت کرے گا

سوال : جو شخص اپنے اہل کی طرف لوٹنے سے مکہ مکرمہ میں حج کے بعد باقی سات روزے رکھے تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہے؟

جواب : جی ہاں! یہ جائز ہے۔

سوال : ایک شخص نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا لیکن وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوا اور عرفات کا قصد کیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب اس نے عرفات میں وقوف کیا تو وہ عمرہ کو چھوڑنے والا بن گیا اور قِرآن کی ہدی اس سے ساقط ہوگئی اور عمرہ چھوڑنے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہے اور عمرہ کی قضا بھی۔



No comments:

Powered by Blogger.