Qurbani ka byan
قربانی کا بیان
سوال : اسلام میں قربانی کا حکم کیا ہے؟
جواب : ہر مسلمان آزاد عاقل دولت مند مقیم پر واجب ہے پس غلام ، فقیر مسافر پر واجب نہیں۔
سوال : اس واجب کی ادائیگی کیلئے کیا ذبح کرے؟
جواب : ایک شخص کی جانب سے ایک بکری کفایت کرتی ہے اور اگر سات نفوس ایک اونٹ یا گائے میں شریک ہوں تو یہ ان میں سے ہر ایک کی قربانی کی کفایت کرے گا بشرطیکہ ان میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور یہ کہ ان میں سے ہر ایک قربت الہیہ کا ارادہ کرے پس اگر ان میں سے کوئی ایک گوشت کا ارادہ کرے تو ان میں سے کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔
سوال: قربانی کے وقت کی ابتداء کیا ہے؟
جواب : نحر کے دن یعنی دس زوالحجہ کو فجر ثانی یعنی صبح صادق کے طلوع سے قربانی کا وقت داخل ہوتا ہے مگر تحقیق شان یہ ہے کہ شہر والوں کیلئے نماز عید سے پہلے ان کو ذبح کرنا جائز نہیں ۔
سوال : اگر ان میں سے کوئی نماز عید سے پہلے ذبح کرے تو کیا کرے؟
جواب : قربانی کو لوٹائے۔
سوال : وہ بستیوں والے جونماز عید پڑھتے ہیں اگر فجر یعنی صبح صادق کے طلوع کے بعد ذبح کریں تو کیا یہ ان کیلئے جائز ہے؟
جواب : جی ہاں جائز ہے۔
سوال : کیا نحرکا دن یعنی دس زوالحجہ قربانی کیلئے مختص ہے یا اس کے وقت میں وسعت ہے؟
جواب : نحرکے دن میں اور اس کے بعد دو دنوں میں قربانی کو ذبح کرنا جائز ہے۔ پس جب بارہویں تاریخ کو آفتاب غروب ہوجائے اور اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور ان دنوں میں سے افضل دن ان میں سے پہلا دن پھر ان میں سے درمیانہ دن پھر ان میں سے آخری دن ہے۔
سوال : اگر ان دو دنوں کے درمیان میں موجود دو راتوں میں سے کسی رات میں ذبح کرے تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب : جی ہاں یہ جائز ہے لیکن اس احتمال کی وجہ سے مکروہ ہے کہ تاریکی میں بعض رگیں نہ کٹیں۔
سوال : اس قربانی کو بیان کیجئے جو جائز نہیں؟
جواب : اندھی ، کانی اور اس لنگڑی کی قربانی نہ کی جائے جو قربان گاہ تک نہیں چل سکتی اور اس عجفاء یعنی لاغر کی قربانی نہ کی جائے جس کی ہڈی میں گودا نہیں اور کان اور دم کٹی کی قربانی نہ کی جائے اور اسکی قربانی کی نہ جائے جس کے کان یا جس کے دم کا اکثر حصہ ضائع ہوچکا ہے۔
سوال : جب کان اور دم کا اکثر حصہ باقی رہ گیا ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : قربانی میں اس کا ذبح کرنا جائز ہے۔
سوال : کیا جائز ہے کہ بے سینگ، خصی، دیوانی اور خارش زدہ کی قربانی کی جائے؟
جواب : قربانی میں ان تینوں بلکہ چاروں کو ذبح کرنا جائز ہے۔
سوال : کون سا جانور کہ قربانی میں اس کو ذبح کرنا جائز ہے؟
جواب : وہ جانور جس کو ذبح کرنے سے قربانی ادا ہوجاتی ہے وہ صرف اونٹ گائے اور بکری ہے اور ان کے بغیر جائز نہیں اور ان سب میں ثنی یا زائد عمر کا کفایت کرتا ہے مگر دنبہ کیونکہ اس میں سے جزع کفایت کرتا ہے اور بکری اپنی تینوں قسموں کے ساتھ جائز ہے۔
سوال : کیا قربانی کے گوشت میں سے کھائے اور وقت ضرورت کیلئے چھپا رکھے؟
جواب : قربانی کے گوشتوں میں سے کھائے امیروں اور غریبوں کو کھلائے اور وقت ضرورت کیلئے چھپا رکھے اور مستحب ہے کہ صدقہ کو تہائی سے کم نہ کرے۔
سوال : قربانی کی کھال کے ساتھ کیا کیا جائے؟
جواب : اسے صدقہ کردیا جائے یا اس سے ایسا آلہ بنالیا جائے جو گھر میں استعمال کیا جائے جیسے چھلنی ، مشک اور ان جیسی کوئی شے جیسے پوستین ، دسترخوان وغیرہ۔
سوال : کیا اپنی قربانی کو خود ذبح کرے یا اس کیلئے جائز ہے کہ اپنے غیر کو وکیل بنائے؟
جواب : افضل یہ ہے کہ خود ذبح کرے اگر اچھی طرح سے ذبح کرسکے اور اس کا غیر اس کے حکم سے کرے جائز ہے۔
سوال : اگر کتابی اسکی قربانی کو اس کے حکم سے کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اس سے واجب کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گا۔
سوال : دو شخص کہ ہر ایک نے اپنی قربانی کیلئے ایک بکری خریدی پس دونوں نے غلطی کی اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی قربانی کی ذبح کردی تو کیا یہ عمل ان دونوں کی قربانی سے کفایت کرے گا؟
جواب : جی ہاں ان دونوں میں سے ہر ایک کی قربانی کی کفایت کرے گا اور ان پر ضمان نہیں ہے۔

No comments: