Rahaish k masail
رہائش کے مسائل
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ شوہر پر اپنی بیوی کے لیے نفقہ اور رہائش واجب ہے تو کون سے گھر میں اسے رہائش دے؟
جواب : شوہر کے ذمہ ہے کہ وہ اسے علیحدہ مکان میں رہائش دے جس میں اس کے رشتہ داروں میں سے کوئی نہ ہو الا یہ کہ بیوی اسے یعنی شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ رہنا پسند کرے تو جائز ہے۔
سوال : بیوی کو کسی گھر میں رہائش دی اس حال میں کہ بیوی کے پاس بیوی کے والدین اس کے رشتہ دار اور شوہر کے غیر یعنی دوسرے خاوند سے اس کی اولاد آتی ہے تو کیا شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ انہیں بیوی کے پاس آنے سے روکے؟
جواب : اس کے لیے جائز ہے کہ وہ انہیں اس کے پاس آنے سے روکے اور لیکن وہ اس کی طرف دیکھنے اور اس کے ساتھ گفتگو کرنے سے نہ روکے جس وقت میں وہ دیکھنا اور گفتگو کرنا چاہیں۔
معتدہ کے لیے نفقہ اور رہائش کے مسائل
سوال : معتدہ پر اس کی عدت عدت میں کون خرچ کرے؟
جواب : جب مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کے لیے اس کے شوہر کے ذمہ نفقہ اور رہائش ہے جس نے اسے طلاق دی طلاق رجعی ہو یا بائنہ اور بہرحال بیوہ تو اس کے لیے اس کے شوہر کے مال میں نفقہ واجب نہیں ہوتا اور وہ اپنی میراث میں سے خرچ کرے جو اسے ملی۔
سوال : کیا مختلف صورتوں میں سے کسی صورت میں مطلقہ کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے؟
جواب : جب عورت کی طرف سے گناہ کی وجہ سے جدائی آجائے تو اس کے لیے نفقہ نہیں جیسا کہ جب وہ اسلام سے پھر جائے اللہ تعالیٰ کی پناہ یا طلاق سے پہلے اپنے شوہر کے بیٹے کو جماع پر قدرت دے دے تو تحقیق اس کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے۔
سوال : اگر طلاق کے بعد اپنے شوہر کے بیٹے کو جماع پر قدرت دے دے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں اس کا نفقہ ہے۔

No comments: