Ramal or Iztabaa ka bayan
رمل اور اضطباع کا بیان
سوال ہم بعض طواف کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ رمل کرتے ہیں اور اپنی چادروں کا اضطباع کرتے ہیں پس رمل اور اضطباع کا حکم کیا ہے؟
جواب رمل اور اضطباع اس شخص کیلیئے مسنون ہے جو اپنے طواف کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا چاہے پس رمل پہلے تین چکروں میں مشروع و مسنون ہے اور اضطباع تمام چکروں میں مشروع و مسنون ہے تو جس نے طواف قدوم کیا جب وہ طواف کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا چاہے تو وہ اپنے طواف میں رمل کرے اور اضطباع کرے وگرنہ نہیں اور بہر حال عمرہ کرنے والا تو وہ اپنے طواف میں اضطباع کرے اور رمل کرے کیونکہ وہ عمرہ کے طواف کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے
سوال : مسنون رمل کا طریقہ بیان کیجیئے؟
جواب وہ یہ ہے کہ چلنے میں کندھوں کو ہلائے جیسا کہ لڑائی کیلیئے مقابلہ پر نکلنے والا جنگ کی دو صفوں کے درمیان متکبرانہ چال چلتا ہے اور جلدی چلتا ہے
سوال : اضطباع کا طریقہ کیا ہے؟
جواب وہ یہ ہے کہ اپنی چادر کے ایک کنارہ کو اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکالے اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے بائیں کندھے پر ڈال دے اور اس کا دایاں کندھا ظاہر ہو

No comments: