Rujat ka bayan
رجعت کا بیان
سوال : آپ نے ماقبل میں ذکر فرمایا ہے کہ مرد جب اپنی بیوی کو ایک رجعی طلاق یا دو رجعی طلاقیں دے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ عدت میں بیوی سے رجوع کرے تو کیا اس کے لیے بیوی کی رضا کی شرط لازم کی جاتی ہے؟
جواب : اس کی شرط لازم نہیں کی جاتی اور شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ بیوی سے رجوع کرے بیوی اس پر راضی ہو یا راضی نہ ہو۔
سوال : وہ بیوی سے کیسے رجوع کرے؟
جواب : اس سے کہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کیا یا کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا اور یہ قول کے ساتھ رجوع ہے اور اگر اس نے اس سے ہمبستری کر لی یا شہوت کے ساتھ اسے بوسہ دیا یا اسے چھو لیا یا شہوت کے ساتھ اس کی اندر والی شرمگاہ کی طرف دیکھ لیا تو وہ رجوع کرنے والا ہو جائے گا اور یہ فعل کے ساتھ رجوع ہے۔
سوال : کیا شوہر پر واجب ہے کہ وہ رجعت پر گواہ بنائے؟
جواب : گواہ بنانا واجب نہیں اور لیکن اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ رجعت پر دو گواہ بنائے اور اگر وہ گواہ نہ بنائے تب بھی رجعت صحیح ہوگی۔
سوال : بیوی کو رجعی طلاق دی اور عدت ختم ہو گئی پس شوہر نے کہا کہ میں نے عدت میں تجھ سے رجوع کر لیا تھا پس بیوی نے اس کی تصدیق کی یا اس کی تکذیب کی تو کس قول کے ساتھ فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اگر وہ تصدیق کرے تو یہ رجعت ہے اور اگر اس کی تکذیب کرے تو معتبر قول بیوی کا قول ہے اور حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بارے میں بیوی پر قسم نہیں ہے۔
سوال : شوہر نے کہا کہ تحقیق میں نے تجھ سے رجوع کیا پس بیوی نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق میری عدت ختم ہو چکی تو کیا یہ رجعت صحیح ہوگی؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ رجعت صحیح نہیں ہوگی اور صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رجعت اس صورت میں صحیح ہے۔
سوال : کسی مرد نے باندی سے نکاح کیا پھر اسے طلاق رجعی دے دی اور اس کی عدت ختم ہونے کے بعد کہا کہ تحقیق میں نے عدت میں تجھ سے رجوع کر لیا تھا پس آقا نے اس کی تصدیق کی اور باندی نے تکذیب کی تو کیا اس بارے میں شوہر کا قول معتبر ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دونوں کا قول معتبر نہیں اور معتبر قول باندی کا قول ہے۔
سوال : مطلقہ کا خون تیسرے حیض سے منقطع ہوگیا تو کیا اس سے رجعت منقطع ہو جائے گی؟
جواب: اس میں تفصیل ہے
اگر خون دس دنوں پر منقطع ہو تو رجعت منقطع ہو جائے گی اور مدت ختم ہو جائے گی اگرچہ اس نے اس کے بعد غسل نہ کیا ہو اور اگر خون دس دنوں سے کم مدت پر منقطع ہو تو رجعت منقطع نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے یا اس پر ایک نماز کا وقت گزر جائے یا وہ تیمم کر لے اور نماز پڑھ لے اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ اور حضرت ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب وہ تیمم کر لے تو رجعت منقطع ہو جائے گی اگرچہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو۔
سوال : اس نے غسل کیا اور اپنے بدن سے ایک عضو کو بھول گئی جسے پانی نہیں پہنچا تو کیا اس سے رجعت منقطع ہو جائے گی؟
جواب : اس بارے میں دیکھا جائے اگر عضو متروک جسے پانی نہیں پہنچا کامل عضو یا اس سے زائد ہے تو رجعت منقطع نہیں ہوئی اور اگر کامل عضو سے کم ہے تو رجعت منقطع ہو گئی۔
فائدہ : مطلقہ رجعیه کے شوہر کے لیے مستحب ہے کہ وہ مطلقہ رجعیه کے پاس نہ آئے یہاں تک کہ اس سے اجازت طلب کرے یا اسے اپنے جوتوں کی آواز سنائے جیسا کہ مطلقہ رجعیه کے لیے مستحب ہے کہ وہ بناؤ سنگھار کرے اور زینت اختیار کرے اور اگر شوہر نے اس سے ہمبستری کر لی تو وہ گناہگار نہیں ہوگا کیونکہ طلاق رجعی وطی کو حرام نہیں کرتی اور وہ اس عمل سے رجوع کرنے والا ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا۔

No comments: