Shikaar or Zabeehon ka bayan
شکار اور ذبیحوں کا بیان
سوال : صید کیا ہے ؟
جواب : صید وہ شکار کرنا ہے اور اس کا اطلاق مصید (یعنی شکار) پر بھی ہوتا ہے اور وہ (یعنی شکار) آدمی سے بچاؤ کرنے والا وحشی جانور ہے ماکول (یعنی حلال) یا غیر ماکول (یعنی حرام)۔ اور غیر مملوک وحشی جانور کو شکار کرنا غیر محرم کے لیے اور غیر حرم میں جائز ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں۔
وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاِصْطَادْوْ
(المائدہ ٢)
ترجمہ اور جب تم احرام سے باہر آجاؤ تو شکار کیا کرو ۔
سوال : جب مسلمان شکار کرنا چاہے (تو) کیسے شکار کرے ؟
جواب : تعلیم یافتہ کتے تعلیم یافتہ چیتے تعلیم یافتہ باز اور باقی تعلیم یافتہ شکاری جانوروں کے ذریعے شکار کرنا جائز ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ اللہ فرماتے ہیں۔
قُلْ اْحِلَّ لَّكُمْ الطَّيِّبٰتُ وَمَا عٙلّٙمْتُمْ مِنٙ الْجٙوٙارِحِ مُكٙلِّبِيْنٙ تُعٙلِّمُوْ نٙهُنّٙ مِمّٙا عٙلّٙمٙكُمُ الّٰلهُ
( المائده ٤)
ترجمہ " آپ فرما دیجئے کہ تمہارے لیے کل حلال جانور حلال کئے گئے ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم تعلیم دو اس حال پہ تم (ان کو) سدھارنے والے ہو اور تم ان کو اس طریقہ سے تعلیم دو جو تم کو اللہ تعالی نے تعلیم دیا ہے"۔
سوال : جب شکاری تعلیم یافتہ کتے یا تعلیم یافتہ جیتے کو چھوڑ دے پس وہ شکار کو قتل کر دے تو کیا اس (شکار )کو کھانا حلال ہے ؟
جواب : اس جانور کو کھانا حلال ہے جس کا کھانا بشرطیکہ شکاری تعلیم یافتہ شکاری جانوروں کو چھوڑنے کے وقت اللہ تعالی کا نام لے پس جب تعلیم یافتہ شکار کو پکڑ لے اور اسے زخمی کر دے پس وہ (شکار) مر جائے تو حلال ہو گیا اور اسی طرح جب تعلیم یافتہ باز یا تعلیم یافتہ شکرے کو چھوڑ دے اور اللہ تعالی کا نام لے پس وہ پرندے کو پکڑ لے اور اسے زخمی کر دے پس وہ (شکار ) مر جائے (تو) اس کا کھانا حلال ہوگیا۔
سوال : آپ نے زخمی کرنے اور مرنے کے ساتھ کیا مقید کیا؟
جواب : ہم نے زخمی کے ساتھ مقید کیا کیونکہ شکار کے حلال ہونے کے لیے زخمی کرنا ضروری ہے اور یہ (اس لئے) تاکہ اضطراری ذبح ثابت ہو جائے اور بدن کے کسی حصے کو زخمی کرنا ہے اور ہم نے مرنے کے ساتھ مقید کیا کیونکہ مثلا تعلیم یافتہ کتا یا باز جب شکار کو پکڑے اور اسے زخمی کرنے کے بعد زندہ چھوڑ دے اور شکاری اسے اسی طرح (زندہ) پالے تو اسے ذبح کرنا ضروری ہے کیوں کہ اس وقت اختیاری ذبح متعین ہوگیا بس اگر وہ اسے ذبح کرنا چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو (اسے نہ) کھایا جائے۔
سوال : آپ نے شکاری جانوروں کو تعلیم یافتہ کے ساتھ مقید کیا ہے تو ان کی تعلیم کیا ہے؟
جواب : کتے اور چیتے کی تعلیم یہ ہے کہ (شکاری) اسے تعلیم دے کے وہ (شکار) کو پکڑے اور اس میں سے نہ کھائے پس جب وہ اس کا عادی بن جائے اور تین مرتبہ (شکار ) کو کھانا چھوڑ دے تو وہ تعلیم یافتہ ہو گیا اور باز کی تعلیم یہ ہے کہ وہ لوٹ آئے جب اسے بلایا اور اس (تفصیل) سے تعلیم یافتہ کتے اور تعلیم یافتہ باز کے درمیان حکم جدا ہو جاتا ہے پس جب کتا اپنے شکار میں سے کھالے تو وہ شکار نہ کھایا جائے اور جب باز اپنے شکار میں سے کھالے تو اس شکار میں سے کھایا جائے کیونکہ بعض کا تعلیم یافتہ ہونا یہ ہے کہ وہ لوٹ آئے جب اس کا مالک کو اسے بلائے اور اس میں شرط لازم نہیں کی جاتی کہ وہ شکار میں سے نہ کھائے۔
سوال : اگر کتا یا چیتا شکار کا گلا گھونٹ دے اور اس کو زخمی نہ کیا جائے تو کیا اس شکار کو کھانا حلال ہے جب وہ ذبح کرنے سے پہلے مر جائے؟
جواب : اس کو کھانا حلال نہیں ۔
سوال : شکاری نے اپنا تعلیم یافتہ کتا چھوڑا پس اس کے ساتھ دوسرا غیر تعلیم یافتہ کتا یہ مجوسی کا کتا یا ایسا کتا شریک ہوگیا کہ اس کے چھوڑنے والے نے اس کو چھوڑنے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا
(تو )
اس شکار کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس (شکار) کو کھانا حلال نہیں۔
سوال : جو آپ نے ذکر فرمایا یہ شکاری جانور اور شکاری پرندے کے زریعے شکار کرنے کا حکم ہے تو کیا یہاں اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ ہے جو ذکر کیا گیا ؟
جواب : جی ہاں یہاں ایک دوسرا طریقہ ہے اور وہ تیر کے زریعہ شکار کرنا ہے پس اگر مسلمان آدمی (شکار) کی طرف تیر پھینکے اور (تیر ) پھینکتے وقت اللہ تعالی کا نام لے (تو) اس (شکار) کو کھائے جس کو تیر لگے بشرطیکہ تیر اس (شکار) کو زخمی کردے اور وہ مرجائے پس اگر شکاری اسے زندہ پالے تو اسے لازم ہے اسے زیح کرے پس اگر وہ زیبح کرنا چھوڑ دے تو اس کا کھانا حلال نہیں ۔
سوال : اپنا تیر شکار کی طرف پھینکا پس شکار پانی میں گر گیا اور تیر انداز نے اس (شکار ) کو مردہ پایا یا وہ (شکار) چھت یا پہاڑ پر گر گیا اس (جگہ ) سے زمین کی طرف لڑھک گیا (تو) اس شکار کا حکم کیا ہے ؟
جواب : یہ شکار کہ اس کا کھانا حرام ہے۔
سوال : کیا حکم بدل جاتا ہے جب وہ (شکار) شروع سے زمین پر گرے اور مر جائے ؟
جواب : جی ہاں ! حکم بدل جاتا ہے اور اس صورت میں اس (شکار ) کو کھانا حلال ہے۔
سوال : کسی شخص نے شکار کی طرف تیر پھینکا پس وہ شکار کو لگا اور اسے بوجھل کر دیا یہاں تک کہ وہ غائب ہوگیا پھر شکاری نے اسے مردہ پایا (تو ) کیا اس کو کھانا حلال ہے؟
جواب : اگر شکاری اس کی تلاش میں رہا یہاں تک کہ اسے مردہ پایا (تو) کھایا جائے اور اگر اس کی تلاش میں بیٹھ گیا پھر اسے مردہ پایا تو نہ کھایا جائے۔
سوال : شکار پر (تیر) چلایا پس اس کا عضو کاٹ دیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : شکار کھایا جائے اور عضو نہ کھایا جائے۔
سوال : اگر (تیر) اسے کاٹ دے اور اس کے دو ٹکڑے کر دے (تو )اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اگر اس کے دو ٹکڑے کر دے اس حیثیت سے کہ اس کہ دو تہائی ایک ٹکڑا اور اس کا ایک تہائی دوسرا ٹکڑا ہوجاے اور اکثر اس میں سے ہو جو سرین سے ملا ہوا ہے تو تمام (حصوں) کو کھا لے اور اگر اکثر اس میں سے ہو جو سر سے ملا ہوا ہے تو اکثر کو کھا لے اور باقی کو چھوڑ دے .
سوال : اپنا تیر چلایا پس بے پر تیر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس شکار کو نہ کھایا جائے مگر یہ کہ (تیر) اسے زخمی کر دے
(تو اسے کھایا جائے)
سوال : گولی کے شکار کا کیا حکم ہے؟
جواب : اگر شکاری جانور کو گولی پس وہ اس (گولی) سے مر جائے تو اسے نہ کھایا جائے اور جب اسے زندہ پائے پس اسے ذبح کر لے تو اس کا کھانا حلال ہوگیا۔
سوال : کسی شخص نے شکار کو (تیر) مارا پس (تیر) اسے لگا اور اسے سست نہیں کیا اور اسے بچاو کرنے سے نہیں نکالا پس کسی دوسرے شخص نے اسے (تیر) مارا اور اسے قتل کردیا تو یہ شکار پہلے کے لئے ہے یا دوسرے کے لئے ؟ اور کیا اس کا گوشت کھایا جائے یا نہیں؟
جواب : یہ (شکار) دوسرے کا ہے اور کھایا جائے۔
سوال : اگر پہلا (شکاری) اسے سست کر دے اور دوسرا (شکاری) اس کو (تیر) مارے اور اسے قتل کر دے (تو) اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : معاملہ اس میں پلٹ جاتا ہے پس شکار پہلے کا ہے اور اسے نہ کھایا جائے اور دوسرا شکاری پہلے (شکاری) کے لئے (شکار) کی قیمت کا ضامن ہے مگر پہلے زخم نے اس (شکار کی قیمت) میں جو کمی کی ہے (اس کا ضامن نہیں ہوگا) ۔
سوال : کیا اس (جانور) کو شکار کرنا جائز ہے جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا؟
جواب : اس جانور کو شکار کرنا جائز جسکا گوشت کھایا جاتا ہے اور جسکا (گوشت) نہیں کھایا جاتا۔
سوال : کیا لوگوں میں ایسا (شخص) ہے جس کا شکار نا کھایا جائے ؟
جواب : محرم، آتش پرست ، مرتد ، اور بت پرست کا شکار نہ کھایا جائے اگرچہ وہ جانور کو چھوڑنے کے وقت تیر اور تیر چلانے کے وقت اللّه تعالیٰ کا نام لیں اور مسلمان اور کتابی کے شکار کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ وہ (جانور یا تیر) چھوڑنے کے وقت اللّه تعالیٰ کا نام لیں۔

No comments: