Soug karne ka bayan
سوگ کرنے کا بیان
سوال : کیا مطلقہ اور متوفیٰ عنھا زوجھا یعنی بیوہ کے ذمہ عدت کی مدت گزارنے کے سوا کوئی دوسری شے واجب ہوتی ہے؟
جواب : جب بائنہ اور بیوہ بالغ مسلمان ہو تو عدت کے دنوں میں سوگ کرنا اس پر لازم ہے.
سوال : سوگ کرنا کیسا ہے؟
جواب : وہ یہ ہے کہ وہ خوشبو اور زینت چھوڑ دے اور مہندی کے ساتھ رنگین نہ ہو ورس (ایک قسم کی گھاس تل کی مانند جس سے رنگائی کا کام لیتے ہیں) یا زعفران کے ساتھ رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے,تیل نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے مگر عذر کی وجہ سے مذکورہ بالا امور جائز ہیں
سوال : آپ نے مسئلہ کو اس صورت کے ساتھ مقید فرمایا ہے کہ جب بائنہ اور بیوہ بالغ مسلمان ہو تو کیا اس بارے میں حکم مختلف ہوتا ہے جب وہ کافر ہو یا نابالغ بچی ہو؟
جواب : ہم نے اس کے ساتھ مقید کیا کیونکہ کافرہ اور نابالغ بچی کے ذمہ سوگ نہیں.
سوال : باندی کا حکم باقی رہ گیا تو اس کی عدت میں سوگ کرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : جب باندی مسلمان بالغ ہو تو اس کے ذمہ سوگ کرنا ہے اس صورت میں جب اس کا شوہر مر جائے یا اس کی طلاق کو بائن کر دے. بہرحال جب اس کا آقا مر جائے اس حال میں کہ وہ اس کی ام ولد ہے تو اس کے ذمہ سوگ کرنا نہیں.
گھر سے نکلنے کا حکم
سوال : کیا سوگ کرنے کے سوا کوئی حکم ہے جو بیوہ یا مطلقہ کے متعلق ہو؟
جواب : مطلقہ رجعیہ اور مطلقہ بائنہ کے لیئے رات کو اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں اور نہ ہی دن کو جائز ہے اور بہر حال وہ خاتون کہ اس کا شوہر اس سے وفات پا گیا ہو تو اس کیلیئے جائز ہے کہ وہ دن کو اور رات کے کچھ حصے میں نکلے اور وہ اپنے مکان کے سوا کسی اور جگہ شب باشی نہ کرے.
سوال : مطلقہ اور بیوہ عدت کہاں گزاریں؟
جواب : وہ دونوں اس مکان میں عدت گزاریں جو جدائی یا شوہر کی موت کے واقع ہونے کی حالت میں رہائش گاہ کے اعتبار سے ان کی طرف منسوب ہو.
سوال : ایک خاتون کہ اس کا شوہر اس سے وفات پا گیا اور میت کے گھر میں سے اس خاتون کی میراث کا حصہ اسے کفایت کرتا ہے تو کیا جائز ہے کہ وہ اس گھر کو چھوڑ دے اور اپنے والدین کے گھر کی طرف یا ان کے علاوہ کسی گھر کی طرف منتقل ہو جائے؟
جواب : یہ اس کیلیئے عذر کے بغیر جائز نہیں.
سوال : اور اگر میت کے گھر میں سے اس خاتون کا حصہ اسے کفایت نہ کرتا ہو اور ورثہ اپنے حصے سے اسے نکال دیں تو اس گھر سے منتقل ہونا اس کیلیئے جائز ہے؟
جواب : جی ہاں! اس کے لیئے جائز ہے کہ اس صورت میں اس گھر سے منتقل ہو جائے.
متفرق مسائل
سوال : کوئی خاتون وفات کی عدت گزار رہی ہے پس مسلمانوں میں سے کسی نے چاہا کہ وہ اسے پیغام نکاح بھیجے تو کیا یہ اس کے لئیے جائز ہے؟
جواب : یہ یعنی پیغام نکاح صراحتاً بات کہنے کے ساتھ جائز نہیں اور اشارۃً بات کہنے میں کوئی حرج نہیں.
سوال : ذمی نے ذمیہ کو طلاق دے دی یا وہ اس سے مر گیا تو اس کی عدت کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کے ذمہ عدت نہیں جب وہ غیر حاملہ ہو پس جب حاملہ ہو تو اس کے ذمہ عدت ہے.
سوال : مسلمان نے اپنی کتابی بیوی کو طلاق دے دی یا وہ اس سے مر گیا تو کیا اس کے ذمہ عدت ہے؟
جواب : جی ہاں! وہ عدت گزارے غیر حاملہ ہو یا حاملہ پس کسی کے لئیے جائز نہیں کہ وہ اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے اس سے نکاح کرے.
سوال : کوئی خاتون زنا سے حاملہ ہو گئی پس وہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو کیا یہ اس کیلیئے جائز ہے؟
جواب : اگر اس خاتون نے نکاح کیا تو اس کا نکاح جائز ہے لیکن اس کا شوہر اس سے وطی نہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کر دے مگر یہ کہ نکاح کرنے والا وہ زانی ہو جس کے پانی سے یہ حمل پیدا کیا گیا تو تحقیق نکاح کے بعد اس خاتون سے وطی کرنا اس کے لئیے جائز ہے

No comments: