Talaq bain di hui khatoon or 3 talaq di hui khatoon ke nikkah k masail

طلاق بائن دی ہوئی خاتون اور تین تین طلاقیں دی ہوئی خاتون کے نکاح کے متعلق مسائل

سوال : جب شوہر اپنی بیوی کو بائنہ کردے یعنی اسے تین طلاقوں سے کم طلاق بائن دے دے تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس خاتون سے دوبارہ نکاح کرے؟

جواب : جی ہاں! اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی عدت میں اور اس کی عدت ختم ہونے کے بعد اس سے نکاح کرے اور بہرحال اس شوہر کا غیر تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے نکاح کرے مگر عدت کے ختم ہونے کے بعد جائز ہے۔

سوال : سنت کی موافقت کرتے ہوئے یا بدعت کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی آزاد بیوی کو تین طلاقیں دیں تو دوبارہ اس کے نکاح کا حکم کیا ہے جب طلاق دینے والا اس سے نکاح کرنا چاہے؟

جواب : آزاد عورت کے حق میں تین طلاقوں اور باندی کے حق میں دو طلاقوں کا نام مغلظ طلاق رکھا جاتا ہے اور طلاق دینے والے شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرے یہاں تک کہ وہ خاتون عدت کے گزرنے کے بعد اس شوہر کے سوا کسی شوہر سے صحیح نکاح کر لے اور اس کا دوسرا شوہر اس سے صحبت کر لے پھر اسے طلاق دے دے یا اس سے مر جائے اور اس کے بعد اس کی عدت گزر جائے۔

سوال : صحیح نکاح سے مراد کیا ہے اور اس کے ساتھ مقید کرنے کا فائدہ کیا ہے؟

جواب : صحیح نکاح سے مراد نافذ نکاح ہے پس اگر فاسد نکاح کے طور پر نکاح کرنے والے نے اس سے وطی کر لی تو اس وطی کی وجہ سے وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ اس کا نکاح شرعاً غیر نافذ ہے۔

سوال : باندی کو دو طلاقیں دی گئیں پس اس کی طلاق مغلظ ہوگئی پس اس کے آقا نے ملک یمین کی وجہ سے اس سے وطی کر لی تو کیا اس کی وطی حلال نہیں کرتی کہ اس کا شوہر اس سے نکاح کر لے جس نے اس کو مغلظ طلاق دی؟

جواب: یہ اس کے شوہر کے لیے حلال نہیں کیونکہ آیت کریمہ میں مشروط دوسرے شوہر سے نکاح کرنا ہے اور آقا شوہر نہیں۔

سوال : آیت شریف میں دوسرے شوہر کی وطی کرنے کا ذکر نہیں ہے تو آپ نے کس وجہ سے تحلیل کو وطی کی شرط کے ساتھ مقید کیا؟

جواب : یہ تقیید نبی مکرمﷺ سے ثابت ہے۔

سوال : ایک خاتون کو مغلظ طلاق دی گئی پس اس کی عدت گزرنے کے بعد کسی شخص نے اپنے قریب البلوغ لڑکے کا نکاح اس خاتون سے کرا دیا اور اس قریب البلوغ لڑکے نے اس سے وطی کر لی تو کیا اس کی وطی اس خاتون کے طلاق دینے والے شوہر کے لیے نکاح کو حلال کر دیتی ہے؟

جواب : قریب البلوغ لڑکا مغلظ طلاق والی خاتون کو حلال کرنے میں بالغ کی طرح ہے۔

سوال : کسی مرد نے تحلیل کی شرط کے ساتھ تین طلاقیں دی گئی خاتون سے نکاح کیا تو کیا اس صورت میں نکاح صحیح ہو جاتا ہے اور وہ دوسرے شوہر کی وطی کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے؟

جواب : تحلیل کی شرط کے ساتھ نکاح کراہت تحریم کی حیثیت سے مکروہ ہے لیکن وہ نکاح صحیح ہو جاتا ہے جب نکاح کے ارکان پائے جائیں پس اگر یہ شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے یا وطی کے بعد اس سے مر جائے تو وہ خاتون پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔

سوال : جب مرد آزاد خاتون کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دے دے اور اس کی عدت ختم ہو جائے اور وہ دوسرے شوہر سے نکاح کر لے اور نئے نکاح کے ساتھ پہلے شوہر کی طرف لوٹ آئے تو وہ اس کی کتنی طلاقوں کے ساتھ لوٹے گی؟

جواب : وہ اس کی طرف تین طلاقوں کے ساتھ لوٹے گی اور حضرت ابو حنیفہ و حضرت ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرا شوہر تین سے کم طلاقوں کو منہدم کر دیتا ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دوڈرا شوہر تین سے کم منہدم نہیں کرتا۔

سوال : اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پس اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا پھر وہ شریعت میں معتبر شرطوں کے ساتھ پہلے شوہر کی طرف لوٹ آئی تو وہ کتنی طلاقوں کے ساتھ لوٹے گی؟

جواب : وہ تین طلاقوں کے ساتھ لوٹے گی کیونکہ دوسرا شوہر تین طلاقوں کو منہدم کر دیتا ہے اور یہ حکم ہمارے تینوں اماموں کے درمیان اجماع کے ساتھ ہے۔

سوال : کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پس بیوی نے کہا تحقیق میری عدت ختم ہو گئی اور میں نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور اس نے مجھ سے صحبت کی پھر اس نے مجھے طلاق دے دی اور میری عدت ختم ہو گئی تو کیا اس کے پہلے شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ اس خاتون کی بات پر اعتماد کرے اور اس سے نکاح کرے؟

جواب : پہلے شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی تصدیق کرے اور اس سے دوبارہ نکاح کرے بشرطیکہ اس کس غالب گمان یہ ہو کہ وہ سچی ہے بشرطیکہ مدت اس کا احتمال رکھتی ہو ۔



No comments:

Powered by Blogger.