Talaq ka bayan
طلاق کا بیان
سوال : جب مرد عورت سے نکاح کرے پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے موافق نہ ہوں تو مرد کیا کرے؟
جواب : تحقیق اللّٰہ تعالٰی نے حسن معاشرت کا حکم فرمایا ہے پس فرمایا :
وَعَاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ
(النساء : ۱۹)
ترجمہ : "اور بیویوں کے ساتھ شرعی دستور کے مطابق گزران کیا کرو۔"پس اگر یہ ممکن نہ ہو اور خاوند جدائی چاہے تو اللّٰہ تعالٰی نے ان دونوں کے لئے چھٹکارے کی صورت بنائی ہے اور وہ یہ ہے کہ مرد عورت کو طلاق دے دے اور اسے اپنے نکاح سے نکال دے اور مرد اس صورت میں مُطَلِق یعنی طلاق دینے والا اور عورت طَالِق یعنی طلاق والی ہے
سوال : کیا طلاق کئی قسموں پر منقسم ہوتی ہے؟
جواب : طلاق تین قسموں پر منقسم ہے
(۱)
اَحسن طلاق
(۲)
طلاقِ سنت
(۳)
طلاقِ بدعت
پس اول : یہ ہے کہ وہ اسے ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں اس نے اس سے ہمبستری نہ کی ہو پھر وہ اس سے ہمبستری نہ کرے یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہو جائے۔
اور دوم : یہ ہے کہ مدخول بھا کو تین طلاقیں دے ایسے تین طہروں میں جن میں جماع نہ ہو اور فقہاء اس کا نام "طلاقِ حسن"رکھتے ہیں۔اور طلاق میں سنت دو وجہوں سے ہے
وقت میں سنت اور عدد میں سنت۔پس عدد میں سنت تو اس میں مدخول بہا اور غیر مدخول بہا دونوں برابر ہیں۔اور وقت میں سنت صرف مدخول بہا میں ثابت ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اسے ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے اس سے ہمبستری نہ کی ہو۔
اور سوم : یہ ہے کہ وہ اسے ایک کلمہ میں اکٹھی تین طلاقیں دے یا اسے ایک طہر میں تین طلاقیں دے۔پس جب وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دے اس حال میں کہ وہ مدخول بہا ہے تو اس پر طلاق واقع ہو جائے گی لیکن وہ اس سے جدا نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے پس جب وہ اس سے رجوع کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے عدت میں جائز ہے اور جب وہ غیر مدخول بہا ہو تو تحقیق وہ اسے ایک طلاق کے ساتھ جدا ہو جاۓ گی اور شوہر کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس سے عدت میں اور عدت کے بعد رجوع کرے اور ہم بعد میں آپ کے لئے اس مسئلہ کو کھولیں گے ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
سوال : اگر طلاق بدعت دے تو اس طلاق کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور شوہر گنہگار ہوتا ہے کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی۔
سوال : کیا حیض کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
جواب : حیض کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن وہ شرعاً ممنوع ہے پس اسے لازم ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے رجوع کرے پھر جب چاہے اسے ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ ہو اور یہ حکم تب ہے جب بیوی مدخول بہا ہو۔پس اگر حیض کی حالت میں غیر مدخول بہا کو طلاق دے تو یہ جائز ہے
سوال : حمل کی حالت میں طلاق کا حکم کیا ہے؟
جواب : حمل کی حالت میں طلاق جائز ہے اگرچہ جماع کے متصل بعد ہو۔
سوال : ایک مرد مدخول بہا کو سنت کے موافق تین طلاقیں دینا چاہتا ہے تو وہ کیسے کرے؟
جواب : وہ ایک طلاق دے ایسے طہر میں جس میں جماع نہ ہو پھر اسی طرح دوسرے طہر میں طلاق دے پھر اسی طرح تیسرے طہر میں طلاق دے۔
سوال : وہ اسے سنت کے موافق طلاق دینا چاہتا ہے لیکن وہ حیض والی خواتین میں سے نہیں ہے تو کیسے کرے؟
جواب : وہ اسے ایک مہینہ میں ایک طلاق دے پس جب مہینہ گزر جاۓ تو اسے دوسری طلاق دے پس جب مہینہ گزر جاۓ تو اسے تیسری طلاق دے۔
سوال : کیا جائز ہے کہ وہ اس بیوی کو طلاق دے جسے حیض نہیں آتا اس حثیت سے کہ وہ اس سے ہمبستری کرنے اور اسے طلاق دینے کے درمیان زمانہ کے ساتھ فصل نہ کرے یعنی ہمبستری کرنے کے فوراً بعد طلاق دے دے؟
جواب : یہ جائز ہے۔
سوال : ایک مرد کہ اس کی بیوی حاملہ ہے اور وہ اسے سنت کے مطابق تین طلاقیں دینا چاہتا ہے تو ہر طلاق کے درمیان کیسے فصل کرے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ اور حضرت ابو یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک وہ ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کے ساتھ فصل کرے اور حضرت محمد رحمتہ اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ سنت کے مطابق اسے صرف ایک طلاق دے۔
سوال : کیا ہر شوہر کی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
جواب : ہر شوہر کی طلاق واقع ہو جاتی ہے بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہو اور نابالغ بچے،پاگل اور سوۓ ہوۓ شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
سوال : نشیلے اور مجبور کئے ہوئے کی طلاق کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان دونوں کی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
سوال : گونگے کی طلاق کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کی طلاق اشارے سے واقع ہوتی ہے۔
سوال : غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے کسی خاتون سے نکاح کیا تو کون اس خاتون کو طلاق دے؟
جواب : نکاح کرنے والا یعنی غلام اسے طلاق دے پس جب وہ طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور آقا کی طلاق اپنے غلام کی بیوی پر واقع نہیں ہوتی۔

No comments: