Talaq supard karne ka bayan

طلاق سپرد کرنے کا بیان 

سوال : اپنی بیوی سے کہا کہ "اپنے نفس کو اختیار کر " وہ اس  سے طلاق کی نیت کرتا ہے یا اس سے کہا کہ " اپنے نفس کو طلاق دے" تو کیا (بیوی) کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے نفس کو طلاق دے ؟

جواب : اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں میں اپنے نفس کو طلاق دے جب تک وہ اپنی مجلس میں ہو پس اگر وہ مجلس سے کھڑی ہوجائے یا دوسرے کام میں شروع ہوجائے تو (طلاق دینے کا) معاملہ اس کے قبضے سے نکل جائے گا مگر جبکہ مرد کہے کہ  "اپنے نفس کو طلاق دے جب تو چاہے تو (بیوی) کے لئے جائز ہے کہ وہ اس مجلس میں اور اس (مجلس) کے بعد اپنے نفس کو طلاق دے۔ 

سوال : جب بیوی سے کہے کہ اپنے نفس کو اختیار کر پس اس نے اپنی مجلس میں اپنے نفس کو اختیار کر لیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوتی ہے اور اس کا اپنے نفس کو اختیار کرنا تین طلاقیں نہیں ہوتا اگرچہ شوہر نے اس کی نیت کی ہو اور طلاق کے واقع ہونے میں (شوہر) کے کلام میں یا (بیوی) کے کلام میں نفس کا ذکر ضروری ہے۔

سوال : (بیوی) سے کہا کہ اپنے نفس کو طلاق دے پس اس نے طلاق دے دی تو اس سے کون سی طلاق واقع ہوگی؟

جواب : ایک رجعی (طلاق) واقع ہوگی لیکن جب شوہر اس سے تین طلاقوں کا ارادہ کرے اور (بیوی) تین طلاقیں دے دے تو ( تینوں طلاقیں) اس پر واقع ہوجائیں گی اور اگر دو طلاقوں کی نیت کی تو صحیح نہیں مگر جب کہ منکوحہ باندی ہو (تو صحیح ہے)۔

سوال : اگر کسی شخص کو طلاق دینے   کا وکیل بنائے اور کہے کہ "میری بیوی کو طلاق دیجیے " تو کیا یہ (توکیل) مجلس کے ساتھ مقید ہوگی؟

جواب : مجلس کے ساتھ مقید نہیں ہوگی اور اس کے لئے (جائز) ہے کہ وہ اسے مجلس میں اور (مجلس) کے  بعد طلاق دے۔ یہ (حکم) تب ہے جب وہ (توکیل کو) مطلق رکھے اور مشیئت کے ساتھ مقید نہ کرے پس اگر کہے کہ " اسے طلاق دیجیے اگر آپ چاہیں" تو اس کے لئے (جائز) ہے کہ اسے صرف مجلس میں طلاق دے۔



No comments:

Powered by Blogger.