Talaq waqya karne ka bayan

طلاق واقع کرنے کا بیان

سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ طلاق رجعی کے بعد رجوع کرنا جائز ہے تو کیا یہاں کوئی ایسی طلاق ہے جس کے بعد رجوع کرنا جائز نہیں؟

جواب : طلاق تین قسموں پر منقسم ہے 
اول طلاقِ رجعی کہ اس کے بعد عدت میں رجوع کرنا جائز ہے
 اور دوم طلاق بائن کہ اس کے بعد نئے نکاح کے بغیر رجوع کرنا جائز نہیں 
اور سوم مُغَلَّظ کہ اس کے بعد اس شوہر سے نکاح کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ عورت عدت گزارنے کے بعد اس شوہر کے علاوہ کسی شوہر سے نکاح کرلے اور دوسرا شوہر اس سے ہمبستری کرلے پھر وہ اس سے مر جائے یا طلاق دےدے اور اس کی عدت گزر جاۓ۔

سوال : طلاقِ رجعی اور طلاقِ بائن کیسے واقع ہوتی ہے؟

جواب : طلاق الفاظ کی حیثیت دو قسموں میں منقسم ہے : 
(۱) 
صریح 
(۲)
 کنایہ

پس صریح طلاق : مرد کا اپنی بیوی سے کہنا ہے کہ "تو طلاق والی ہے" یا "تو طلاق دی ہوئی ہے" یا "میں نے تجھے طلاق دے دی"۔اور اس سے طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے اور اس سے صرف ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ اس سے زائد کی نیت کرے اور ان الفاظ کے ساتھ طلاق کی نیت کا محتاج نہیں ہوتا اور طلاق میں صریح الفاظ میں اس کا قول ہے : اَنتِ الطَّلاقُ اور اَنتِ طَالِقُ الطَّلاقِ اور اَنتِ طَالِقُ طَلاقًا پس اگر ان الفاظ کے ساتھ اس کی کوئی نیت نہ ہو تو یہ ایک رجعی طلاق ہے اور اگر دو کی نیت کرے تو صرف ایک واقع ہوتی ہے اور اگر تین کی نیت کرے تو تین واقع ہوتی ہے۔اور اگر کہے کہ : "تو طلاق والی ہے"دو مرتبہ تو اس سے دو طلاق رجعی واقع ہوں گی۔اللّٰہ تعالٰی شانہ فرماتے ہیں 
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمسَاکُٗ بِمَعرُفٍ اَو تَسرِیحُٗ بِاِحسَانِ  
البقرہ : ۲۲۹

ترجمہ : طلاق رجعی دو مرتبہ کی ہے پھر خواہ رکھ لینا شرعی دستور کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ

اور دوسری قسم یعنی کنایہ اور یہ وہ ہے جو طلاق میں صریح نہ ہو اس سے صرف نیت کے ساتھ یا دلالت حال کے ساتھ طلاق واقع ہوتی ہے۔

سوال : اس بارے میں ہم مزید وضاحت چاہتے ہیں؟

جواب : کنایہ کے الفاظ دو قسموں پر منقسم ہیں : تین الفاظ ان میں سے وہ ہیں جن سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور ان سے صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے اگرچہ دو یا تین کی نیت کرے اور یہ الفاظ اس کا قول : اِعتَّدِی(شمار کر)،اِستَبرِئِی رِحمَکِ(اپنا رحم صاف کر)اور أَنتِ وَاحِدَةٌ(تو اکیلی ہے)ہیں۔اور بقیہ کنایات کہ ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے اور اگر تین کی نیت کرے تو تین ہوتی ہیں اور اگر دو کی نیت کرے تو ایک ہوتی ہے۔اور یہ الفاظ جیسے اس کا قول : تو جدا ہے،تو کٹی ہوئی ہے،تو کٹی ہوئی ہے،تیری رسی تیری گردن پر ہے،تو اپنے گھر والوں سے مل جا،تو چھوڑ دی گئی ہے یا تو بری ہے۔اور اسی طرح اس کا قول : میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو ہبہ کر دیا،پسند کر لے،میں تجھ سے جدا ہو گیا،تو آزاد ہے۔اور اسی طرح اس کا قول : دوپٹہ اوڑھ لے،چھپ جا،پوشیدہ ہو جا اور خاوندوں کو تلاش کر پس اگر اس کی طلاق کی نیت نہ ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہو گی مگر یہ کہ وہ طلاق کے مذاکرہ میں ہو پس قضا میں یعنی بندوں کے درمیان طلاق واقع ہو جائے گی اور اس کے اور اللّٰہ تعالٰی کے درمیان طلاق واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کی نیت کرے۔اور اگر وہ دونوں طلاق کے مذاکرہ میں نہ ہوں اور وہ دونوں غصے یا جھگڑے کی حالت میں ہوں تو ہر ایسے لفظ کے ساتھ طلاق واقع ہو جاۓ گی جس سے گالی گلوچ مقصود نہ ہو اور ایسے لفظ کے ساتھ واقع نہیں ہوگی جس سے گالی گلوچ مقصود ہو مگر یہ کہ وہ طلاق کی نیت کرلے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
پس حاصل یہ ہے کہ طلاق رجعی صریح لفظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے اور اس کے ساتھ اس کا قول : اِعتَدِی،اِستَبرِئِی رِحمَکِ اور أَنتِ وَاحِدَۃٌ لاحق ہوتا ہے۔اور طلاق بائن وہ ہے جو کنایہ کے لفظ کے ساتھ ہو بشرطیکہ وہ اس سے طلاق کی نیت کرے یا وہاں دلالت حال ہو اور طلاق رجعی بائن ہو جاتی ہے جب عدت ختم ہو جاۓ اور اس نے اس میں رجوع نہ کیا ہو۔
اور طلاق مغلظ : وہ ہے جو تین طلاقوں کے ساتھ ہو برابر ہے کہ تین طہروں میں یا تین مہینوں میں یا ایک طہر میں ایک کلمہ کے ساتھ یا تین کلموں کے ساتھ ہو یا کنایہ کے لفظ کے ساتھ ہو مگر وہ الفاظ جو کنایہ سے مستثنیٰ کردیئے گئے ہیں۔

سوال : جب شوہر طلاق کو کسی قسم کی زیادت کے ساتھ موصوف کرے تو اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہو گی؟

جواب : اس سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے پس جب وہ کہے کہ تو بائن طلاق والی ہے یا تو طلاق والی ہے سخت ترین طلاق یا  قبیح ترین طلاق یا شیطان کی طلاق یا بدعت کی طلاق یا کہے کہ تو پہاڑ کے برابر یا گھر بھرے طلاق والی ہے تو اس کی بیوی اس سے جدا ہو جاۓ گی اور اس کے بعد رجوع جائز نہیں ہوگا۔

سوال : جب طلاق کو عورت کے بعض اجزا کی طرف منسوب کرے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

جواب : جب طلاق کو عورت کے مجموعہ کی طرف یا ایسے عضو کی طرف منسوب کرے جس سے مجموعہ کو تعبیر کیا جاتا ہے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے جیسے یوں کہے کہ تو طلاق والی ہے یا تیری گردن طلاق والی ہے یا تیری روح طلاق والی ہے یا تیرا بدن طلاق والا ہے یا تیرا جسم طلاق والا ہے یا تیری شرمگاہ طلاق والی ہے یا تیرا چہرا طلاق والا ہے اور طلاق اس کے اس قول کے ساتھ واقع نہیں ہوتی کہ تیرا ہاتھ طلاق والا ہے یا تیرا پاؤں طلاق والا ہے کیونکہ ہاتھ اور پاؤں کے ذریعہ مجموعہ کو تعبیر نہیں کیا جاتا۔

سوال : شوہر نے طلاق میں اعضاء میں سے کسی عضو کو ذکر نہیں کیا بلکہ اس نے جزء شائع کو ذکر کیا مثلاً کہا کہ تیرا آدھا حصہ طلاق والا ہے یا تیرا تہائی حصہ طلاق والا ہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

 جواب : جی ہاں!اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

سوال : اگر ایک طلاق کو آدھا کیا یا تہائی کیا مثلاً کہا کہ تو طلاق والی ہے آدھی طلاق یا تہائی طلاق یا دو تہائی طلاق تو اس طلاق دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس سے ایک مکمل طلاق واقع ہوتی ہے کیونکہ طلاق تقسیم نہیں ہوتی۔




No comments:

Powered by Blogger.