Tamta ka bayan
تمتع کا بیان
سوال : تمتع کیا ہے؟
جواب وہ یہ ہے کہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے پس مکہ مکرمہ میں داخل ہو اور حج کے مہینوں میں عمرہ کرے اس طور پر کہ وہ بیت اللّه کا طواف کرے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے اور حلق کرے یا قصر کرے اور جب طواف شروع کرے تلبیہ بند کر دے پا جب حلق یا قصر کر چکے تو تحقیق وہ اپنے عمرہ سے حلال ہو گیا پھر مکہ مکرمہ میں مقیم ہو جائے اس حال میں کہ حلال یعنی احرام کے بغیر ہو اور بیت اللّه کا طواف کرے جب خیال سوجھے اور پانچوں نمازوں کیلیئے مسجد حرام میں حاضر ہو پھر ترویہ کے دن حرم سے حج کا احرام باندھے اور وہ عمل کرے جو مفرد حاجی کرتا ہے پس جب وہ نحر کے دن جمرۂ کبریٰ کی رمی کر چکے تو دو عبادتوں یعنی حج و عمرہ کو جمع کرنے کی وجہ سے اللّه تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلیئے ہدی ذبح کرے پس اگر اس جانور کو نہ پائے جسے وہ ذبح کرے تو حج میں تین دن روزہ رکھے کہ اس کا آخر عرفہ کا دن ہو اور سات دن روزہ رکھے جب وہ اپنے اہل کی طرف واپس آجائے اور اپنے سر کے بال نہ مونڈے یہاں تک کہ ہدی ذبح کر لے اور تحقیق ہم قران کے باب میں ان روزوں کا ذکر کر چکے
سوال : اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا قول ہے جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور اپنے ساتھ ہدی لے گیا؟
جواب : متمتع دو قسم پر ہے
متمتع جو ہدی نہ لے جائے اور تحقیق اس کے تمتع کا طریقہ ہم ذکر کر چکے اور متمتع جو ہدی لے جائے اور اس کے تمتع کا طریقہ یہ ہے کہ وہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے اور مکہ مکرمہ چلا جائے اس حال میں کہ وہ ہدی ہانکنے والا ہو پس اگر ہدی گائے ہو تو توشہ دان یا جوتا اس کے گلے میں ڈال دے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہ اللّه کے نزدیک بدنہ کا اشعار کرے اور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ اشعار نہ کرے اور اشعار یہ ہے کہ بدنہ کی کوہان کو دائیں جانب سے زخم لگا کر خون آلود کیا جائے پس جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو طواف کرے اور عمرہ کیلیئے سعی کرے اور حلال نہ ہو بلکہ حالت احرام میں رہے یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن ہو تو حج کا احرام باندھے اور وہ کرے جو مفرد حاجی کرتا ہے اور جمرۂ کبریٰ کی رمی کے بعد ہدی ذبح کرے پھر حلق کرے یا قصر کرے پس جب حلق کر چکے تو تحقیق وہ دونوں احراموں سے حلال ہو گیا
سوال : اگر متمتع نے اپنا احرام مقدم کیا پس ترویہ کے دن سے پہلے احرام باندھا تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب : جی ہاں یہ جائز ہے اور اس احرام سے بھی متمتع کو جائے گا

No comments: