Tawaf e widaa ka bayan

طواف ِ وداع کا بیان

سوال : پس جب وہ  نظرِ اوّل یا نظرِ ثانی کے بعد مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو کیا کرے؟

جواب :  رمی کے بعد مناسکِ حج میں سے صرف طوافِ ِوداع باقی رہ گیا اور اسے طواف ِ صدر کہا جاتا ہے یہ آفاقی پر واجب ہے پس جب وہ مکہ (مکرمہ) لوٹ آئے تو اس کے لیے جائز ہے کہ طواف ِ وداع کرے اور اپنے وطن چلا جائے اور اگر کوئی مصلحت اسے (مکہ مکرمہ سے) نکلنے سے روک دے تو مکہ (مکرمہ) میں قیام کرے جب تک چاہے۔

سوال: کیا اس وقت طواف ِ وداع کرے جب وہ منیٰ سے لوٹے یا مکہ مکرمہ سے نکلنے کے وقت تک (طواف ِ وداع کو) مؤخر کرے؟

جواب: حاجی جب طواف ِ زیارت کے بعد طواف کرتا ہے تو وہ طواف ِ وداع (بن کر) واقع ہوتا ہے اگرچہ نفل کی نیت سے طواف کیا ہو الاّ یہ کہ اس کے لیے مستحب ہے کہ (مکہ مکرمہ سے)  نکلنے کے وقت تک طواف ِ وداع کو مؤخر کرے اس حال میں کہ وہ اپنے وطن کی طرف سفر کرنے والا ہو۔  

سوال : کیا طوافِ صدر میں رمل اور اضطباع ہے؟

جواب: اس میں رمل اور اضطباع نہیں کیونکہ اس کے بعد سعی نہیں۔

     متفرق مسائل 

سوال  ایک شخص نے میقات سے احرام باندھا اور مکہ میں داخل نہیں ہوا اور عرفات کا قصد کیا  اور اس میں وقوف کیا اور طواف قدوم نہیں کیا تو اس پر کیا لازم ہے ۔ 

 جواب  طواف قدوم اس سے ساقط ہو گیا اور اس کے چھوڑنے کی وجہ سے اس پر کچھ لازم نہیں 

سوال : ایک شخص عرفہ کے دن غروب آفتاب کے بعد عرفات پہنچا تو کیا اس نے حج کو پالیا۔

جواب : جس نے عرفہ کے دن زوال آفتاب سے نحر کے دن فجر یعنی صبح صادق کے طلوع کے درمیان وقوف عرفہ کو پالیا پس تحقیق اس نے حج کو پالیا اگر چہ وقوف عرفہ تھوڑا سا وقت ہو ۔

سوال : کیا حج کو پانے کیلئے عرفہ میں دعا شرط ہے 

جواب : دعا مسنون ہے اور وہ شخص حج کا پالیتا ہے جو عرفات سے گزرے اگرچہ تھوڑے وقت کیلئے برابر ہے کہ سویا ہوا ہو یا بیدار ہو یا بیہوش ہو بشرطیکہ حالت احرام میں ہو یہاں تک جس نے اسے نہیں پہچانا کہ وہ عرفات ہے تو اس گزرنے والے نے اس کو عرفات میں وقوف سے کفایت کیا 

سوال : یہ تمام صرف مرد کے حج کا بیان ہے یا مرد اور عورت دونوں کے حج کا بیان ہے 

جواب عورت ان تمام افعال میں مرد کی طرح ہے مگر یہ کہ وہ احرام میں اپنا سر نہ کھولے اور اپنے چہرے پر چادر یا نقاب نہ لٹکائے اور تلبیہ میں اپنی آواز بلند نہ کرے اور طواف میں رمل نہ کرے اور دو سبز ستونوں کے درمیان سعی میں نہ دوڑے اور اپنے سر کے بال نہ مونڈے اور لیکن سر کے بال چھانٹے پس اگر اس نے احرام باندھا تھا اس حال میں کہ وہ حیض والی یا نفاس والی تھی یا احرام کے بعد وہ حیض والی یا نفاس والی ہو گئی اور وہ پاک نہیں ہوئی یہاں تک کہ ترویہ کا دن آگیا تو وہ طواف قدوم چھوڑ دے اور منی چلی جائے اور حج کے تمام مناسک ادا کرے مگر یہ کہ وہ طواف زیارت نہ کرے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پس اگر وہ طواف زیارت کے بعد حیض والی یا نفاس والی ہو جائے اور تحقیق اس کے کوچ کرنے وقت آ جائے تو اس کے لئیے جائز ہے کہ وہ طواف وداع چھوڑ دے  اور اس سلسلے میں اس پر کچھ لازم نہیں ۔



No comments:

Powered by Blogger.