Zahaar ka bayan
ظھار کا بیان
سوال : لغت اور شریعت کی رو سے ظھار کیا ہے؟
جواب : یہ کلمہ لفظ اَلظًھُر (بمعنی پشت) سے ماخوذ ہے جب شوہر اپنی بیوی سے کہےکہ"تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے"تو تحقیق اس نے اس سے شرعی ظھار کر لیا جس کے ساتھ بعض احکام متعلق ہوتے ہیں
سوال : ان احکام کو بیان کیجیۓاس حیثیت سے کہ مقصود واضح ہو جاۓ؟
جواب : جب شوہر بیوی سے ظھار کر لےتو تحقیق وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے اس سے صحبت کرنا اسے چھونا اور بوسہ دینا اس کے لۓ حلال نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے ظہار کا کفارہ دےدے پس اگر وہ کفارہ دینے سے پہلےاس سے صحبت کر لے تو اللَّہ تعالٰی سے مغفرت طلب کرے اور ایک کفارہ کے سوا اسکے ذمہ کوئ چیز نہیں اور دوبارہ (ایسا)نہ کرے یہاں تک کہ وہ کفارہ دے دے
سوال : کیا کفارہ نفس لفظ ظہار سے واجب ہو جاتا ہےیا وہ کسی دوسری چیز کے ساتھ مقید ہے؟
جواب : وہ بیوی سے صحبت کرنے کے پختہ ارادہ کے ساتھ مقید ہے
اللَّہ تعالٰی شانہ فرماتے ہیں
وٙالّٙذِیْنٙ یُظٰھِرُوْنٙ مِنْ نِسٙائِھِمْ ثُمّٙ یٙعُوْدُوْنٙ لِمٙا قٙالُوْا فٙتٙحْرِیْرُ رٙقٙبٙۃ مِنْ قٙبْلِ اٙنْ یّٙتمٙاسّٙا
الآیۃ
(المجادلہ)
ترجمہ : "اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظھار کرتے ہیں پھر وہ اس کی تلافی کرتے ہیں جو کچھ انہوں نے کہا تو (ان کے ذمہ) ایک بردہ آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ وہ دونوں(میاں بیوی) ایک دوسرے کو چھوئیں"
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ جب (شوہر) اپنی بیوی سے کہےکہ" تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے" تو وہ مظاھر ہو جاتا ہے پس اگر اس نے پشت کے سوا کسی دوسرے عضو کے ساتھ تشبیہ دی تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر اس نے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کے پیٹ کی طرح یا میری ماں کے ران کی طرح یا میری ماں کی شرمگاہ کی طرح ہے تب بھی وہ مظاھر ہو جاۓ گا.
سوال : اگر وہ کہے کہ تیرا سر یا تیری شرمگاہ یا تیرا چہرہ یا تیری گردن یا تیرا آدھا یا تیرا تھائ میری ماں کی پشت کی طرح ہے تو اسکا حکم کیا ہے؟
جواب : تب بھی مظاہر ہو جاۓ گا
سوال : کیا ظھار اس صورت کے ساتھ مختص ہوتا ہے جب وہ اپنی ماں کے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دے یا وہ تمام محارم کے ساتھ تشبیہ دینے کو شامل ہوتا ہے؟
جواب : ظھار صرف ماں کے ساتھ تشبیہ دینے کے ساتھ مختص نہیں بلکہ جب وہ اپنی بیوی کو اپنی محارم میں سےایسی (محرم) کے ساتھ تشبیہ دے جس کی طرف دیکھنا(یعنی نکاح کرنا) ہمیشہ کے طریق پر اس کے لۓ حلال نہیں جیسے اسکی بہن اسکی پھوپھی یا اسکی رضائ ماں
مثلاً : اس نے کہا کہ تو مجھ پر میری بہن کی پشت کی طرح یا اس کے ران کی طرح یا اسکی شرمگاہ کی طرح ہے تو وہ مظاھر ہو جاۓ گا
سوال : اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی مثل یا میری ماں کی طرح ہے تو اس سے کیا مراد لی جاۓ گی؟
جواب : اس بارے میں اس کی نیت کی طرف رجوع کیا جاۓ پس اگر وہ کہے کہ میں نے اس (قول) سے تعظیم کا ارادہ کیا ہے تو وہ(قول) اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا اور اگر وہ کہے میں نے اس (قول) سے ظہار کا ارادہ کیا ہے تو وہ (قول)ظہار ہے اور اگر وہ کہے میں نے اس سے (قول) سے طلاق کا ارادہ کیا ہے تو وہ(قول) طلاقِ بائن ہے اور اگر اسکی کوئ نیت نہیں تویہ(قول) کوئ چیز نہیں (یعنی لغو ہے).
سوال : ایک مرد اسکی کئ بیویاں ہیں پس اس نے کہا کہ تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو تو اسکا حکم کیا ہے؟
جواب : وہ ان (بیویوں) کی جماعت سے مظاھر ہو گیا اور اس کے ذمہ ہر ایک (بیوی) کی طرف سے ایک کفارہ ہے.
سوال : کفارۃ ظہار کیا ہے؟
جواب : اللَّہ تعالٰی نے اسے سورۂ مجادلہ کے شروع میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ بردہ آزاد کرے پس اگر وہ(بردہ) نہ پاۓ تو لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے پس اگر وہ روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاۓ اور یہ سب کچھ (بیوی کو) چھونے سے پہلے ہے

No comments: