Zibah karne ka bayan



ذبح کرنے کا بیان

سوال : ذبح کیا ہے؟ اور کس شرط کے ساتھ ذبیحہ مسلمان کے لئے حلال ہوتا ہے؟ 

جواب :  یہ لٙبّہْ (سینے پر ہار پڑنے کی جگہ) اور دونو جبڑوں کے درمیان(موجود) رگوں کو کاٹنا ہے اور ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے شرط لازم کی جاتی ہے کہ جانور مٙاُْکوْل اللّٙحم ہو اور یہ کہ ذبح کرنے والا مسلمان یہ کتابی ہو اور یہ کہ ذبح کرنے والا ذبح کہ وقت اللّه  تعالیٰ کا نام لے اور اس کا نام زکاة رکھا جاتا ہے۔ 

سوال :  ان رگوں کو بیان کیجیے جو ذبح کے وقت کاٹی جاتی ہیں؟ 

جواب : وہ رگیں جو ذبح میں کاٹی جاتی ہیں چار ہیں 
 حلْقوْم
( سانس کی نالی) 
مٙرِی
 (کھانے پینے کی نالی) 
اور وٙدٙجٙان (خون کی دو نالیاں) پس جب وہ ان رگوں کو کاٹ دے تو کھانا حلال ہوگیا اور اگر ان میں سے اکثر (رگوں) کو کاٹ دے تب (بھی) حضرت ابو حنیفہ  رحمہ اللّه تعالیٰ کے نزدیک اسی طرح کا حکم ہے اور (صاحبین) رحم اللّه تعالی فرماتے ہیں کہ حلقوم  مری اور ودجان (یعنی خون کے دونوں نالیوں میں سے ایک کا کاٹنا ضروری ہے۔

سوال : اگر ذبح کرنے والا ذبح کے وقت تسمیہ چھوڑ دے (تو) اس کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ 

جواب : اگر اسے جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس کا ذبیحہ  مردار ہے نہ کھایا جائے اور اگر اسے بھول کر چھوڑ دے تو اسے کھایا جائے۔ 

سوال : کیا صرف چھری کے ساتھ ذبح کرنا متعین ہے ؟

جواب : چھری کے ساتھ ذبح کرنا متعین نہیں پس اگر بانس کے چھلکے اور دھاری دار پتھر سے اور ہر ایسی شے سے ذبح کرے جو خون کو بہا دے تو ذبح حاصل ہوجاے گا مگر (منہ میں) برقرار دانت اور (انگلی میں) برقرار ناخن ( کہ ان سے ذبح جائز نہیں)۔

سوال : بکری یا گاۓ یا اونٹ کو ذبح کیا پس اس کے پیٹ میں مردہ جٙنِیْن پایا (تو) اس جٙنِیْن کا حکم کیا ہے ؟

جواب : یہ مردہ جٙنیْن نہ کھایا جائے( جٙنیْن) کے بال نکلے ہوں یا بال نہ نکلے ہوں پس اگر وہ زندہ نکلے (تو ) اسے ذبح کیا جائے اور کھایا جائے اور اگر ذبح سے پہلے مر جائے (تو) نہ کھایا جائے ۔

سوال : اگر بکری کو اس کی گدی ( کی جانب) سے ذبح کرے (تو) کیا اس کو کھانا جائز ہے؟

جواب :  اگر جانور رگوں کے کاٹنے تک زندہ ہے (تو) اس کو کھانا جائز ہے لیکن یہ عمل مکروہ ہے اور اگر رگوں کے کاٹنے سے پہلے مر جائے تو یہ مردار ہے نہ کھایا جائے۔ 

سوال : شکار کے ذبح کا حکم کیا ہے (جو) مانوس ہوجاے اور مانوس جانور (کے ذبح) کا حکم (کیا) ہے (جو) وحشی ہوجاے؟ 

جواب : جو شکار مانوس ہوگیا تو اس کی زکاة ذبح ہے اور جو چوپایہ وحشی ہوجاے تو اس کی ذکاة عٙقْر یعنی زخمی کرنا ہے اور اس کا نام اضطراری ذبح رکھا جاتا ہے۔

سوال : مسلمان اور کتابی کے سوا کے ذبیحہ کا حکم کیا ہے؟ 

جواب : ان دونوں کے سوا کا ذبیحہ نہ کھایا جائے پس اگر مرتد یا آتش پرست یا بت پرست ذبح کرے تو اس کا کھانا حلال نہیں جس کو انہوں نے ذبح گیا اگر ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لیں۔ 

سوال : محرم کے ذبیحہ کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب محرم شکار کو ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ مردار ہے اس کو کھانا حلال نہیں اور ہم اس (مسُلہ)کو کتاب الحج میں ذکر کر چکے اور وہ گائے یا بکری یا مرغی کو ذبح کرے یا اونٹی کو ذبح کرے تو ان سب کو کھانا جائز ہے۔




No comments:

Powered by Blogger.