Ch : 7 Gawahion ka bayan

گواہیوں کا بیان

سوال : گواہی کہ سفید شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: حقوق کو زندہ کرنےاورضائع ہونے کی وجہ سے ان کو بچانےکی وجہ سے گواہی کی ادائیگی گواہوں پر فرض ہےاور گواہی کو چھپانا ان کےلیے جائز نہیں جب صاحب حق ان سے مطالبہ کرےکہ وہ اس کےلیے گواہی دیں. 
وَلَا یاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا
(البقرہ:282)
 ترجمہ:"اور گواہ انکار نہ کریں جب ان کو گواہ بننے کے لیے بلایا جاۓ" اور اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں وَلَاتَکْتُمُواالشَّھَادَۃَ وَمَنْ یَّکْتُمْہَافَاِنَّہٗ اَثِمُٗہ قَلْبُہٗ*
(البقرہ:28)

  ترجمہ:"اور گواہی مت چھپاؤ اور جو (گواہی) کو چھپاۓ تحقیق اس کا دل گنہگار ہے"
 اور یہ (حکم) حقوق میں ہے اور بہر حال حدود تو ان میں گواہ کو چھپانے اور ظاہر کرنے میں اختیار دیا جاتا ہے اور چھپانا افضل ہے مگر یہ کہ چوری میں مال کی گواہی دینا واجب ہے پس (گواہ) کہے اس نے مال لیا  اور نہ کہے کہ اس نے چرایا
سوال:کیا گواہی کے کئی درجے ہیں؟

جواب : گواہی کئی درجوں پر (منقسم) ہے
(1)
 ان میں سے زنا میں گواہی ہے اس میں چار مردوں کی گواہی پر اعتبار کیا جاتا ہے  اور عورت کی گواہی قبول نہیں کی جاتی 
 (2)
 اور ان میں سے قصاص اور بقیہ حدود میں گواہی ہے اس میں دو مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے اور اس میں خواتین کی   گواہی قبول نہیں کی جاتی
 (3)

اور ان کے علاوہ حقوق میں دو مردوں یا ایک مرد یا دو عورتوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے برابر ہے کہ وہ (حق)مال ہو یا غیر مال جیسے نکاح,طلاق,وکالت اور وصیت
 (4)
 ولادت ,بکارت اور خواتین کے عیوب میں (بدن کی) ایسی جگہ جہاں پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے ایک خاتون کی گواہی قبول کی جاتی ہے

سوال :  کیا گواہی کو قبول کرنے کے لیے کسی شے کی شرط لازم کی جاتی ہے؟

جواب : جی ہاں! ان سب (قسموں) میں عدالت اور لفظ شہادت کی شرط لازم ہو جاتی ہے پس اگر گواہ لفظ شہادت ذکر نہ کرے اور کہے کہ "میں جانتا ہوں" یا "میں یقین کرتا ہوں" تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جاۓ گی.

سوال : کیا ظاہر عدالت پر اکتفا کیا جاۓ گا یا گواہوں کے حال کے بارے میں پوشیدہ اور ظاہری طور پر تفتیش کی جاۓ گی؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قاضی مسلمان کی عدالت کےظاہرپر اکتفا کرے مگر حدود اور قصاص میں کہ گواہوں کے بارے میں دریافت کرے جیساکہ وہ دریافت کرتا ہے جب مد مقابل (گواہوں) میں عیب لگاۓاور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ضروری ہے کہ ان کے بارے میں پوشیدہ اور ظاہری طور پر دریافت کرے

جس کی گواہی قبول کی جاتی ہے اور جس کی (گواہی)قبول نہیں کی جاتی 

سوال : کیا لوگوں میں ایسے ہیں جن کی گواہی قبول نہیں کی جاتی؟

جاب : جی ہاں ! یہاں ایسے لوگ ہیں جن کی گواہی قبول نہیں کی جاتی.
(1)
نابینا کی گواہی قبول نہیں کی جاتی
 (2)
مملوک(یعنی غلام اور باندی) کی گواہی قبول نہیں کی جاتی

 (3) 
تہمت میں حد لگاۓ ہوۓ کی گواہی قبول نہیں کی جاتی اگرچہ وہ توبہ کر لے
(4) 
ولد کی گواہی اپنے ماں باپ کےلیے ,اپنےاجدادکےلیےاوراپنےولداور اپنے ولد کے ولد کے لیےقبول نہیں کی جاتی

.(5)
خاوند بیوی میں سےایک کی گواہی دوسرے کےلیےقبول نہیں کی جاتی
 (6)
 آقا کی گواہی اپنے غلام کےلیےاور اپنے مکاتب کےلیے قبول نہیں کی جاتی.
 (7)
 حصہ دار کی گواہی قبول نہیں کی جاتی اس میں جس میں وہ حصہ دار ہے.
  (8)
 مخنث
(جو اپنے اختیار سے اقوال اور افعال میں عورتوں سے مشابہت کرے اور لواطت پر قدرت دے)

(9)
 نوحہ کرنے والی

(10)
گانے والی 

(11)
لہو کے طور پر (شراب کے علاوہ دیگرنشہ آور مشروبات)پینے میں ہمیشگی کرنے والےکی گواہی قبول نہیں کی جاتی 
(12)

جو پرندوں سے کھیلتاہے 
 (13)
 جولوگوں کی خاطر گاتا ہے
 (14)
جو کبیرہ گناہوں کے دروازے پر آتا ہے(یعنی کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتاہے) خصوصا وہ (کبیرہ) جس سے حد متعلق ہو
 (15)
 جو تہبند کے بغیر غسل خانےمیں داخل ہوتاہے
 (16)
 جو سود کھاتا ہے(ان سب کی) گواہی قبول نہیں کی جاتی.
 (17)
اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جو نرد اور شطرنج کے ساتھ جوا کھیلتا ہے.
 (18)
اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جو گھٹیا افعال کا ارتکاب کرتا ہے جیسے راستےمیں پیشاب کرنااور(راستے) پر گزرتے ہوۓ کھانا
 (19)
اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جو سلف (صالحین) کو برا بھلا کہتا ہے
 (20) 
ذمی کے خلاف حربی کی گواہی قبول نہیں کی جاۓ گی
 (21)
 دشمن کے خلاف اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جس کا وہ دشمن ہو اگر دشمنی دنیوی ہو

سوال : اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم اسے معلوم کریں جس کی گواہی قبول کی جاتی ہے اور ردنہیں کی جاتی؟

جواب : درج ذیل (سطروں) میں جو ہم ذکر کریں اسے زبانی یاد کر لیجیۓ 

(1) 
کسی شخص کی گواہی اپنے بھائی اور اپنے چچاکےلیے قبول کی جاتی ہے
 (2)
  خطابیہ(روافض کی ایک جماعت ہے جو ابو الخطاب محمد بن وہب اجدع  کی طرف منسوب ہے.یہ ایک کوفی شخص ہے جس کا اعتقاد ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بڑے معبود اور حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ چھوٹے   معبود ہیں العیاذ باللہ امیر عیسی بن موسی رحمہ اللہ نے اسے قتل کرا دیا) کے سوا اہل بدع ( بشرطیکہ بدعت کفر تک پہنچانے والی نہ ہو)کی گواہی قبول کی جاتی ہے
 (3)
 ذمی لوگ کہ ان میں سے  بعض کی گواہی بعض کے خلاف قبول کی جاتی ہے (اگرچہ انکی ملتیں مختلف ہوں اور وہ یہود,نصاری اور مجوس ہیں)
 (4)
اس کی گواہی قبول کی جاتی ہے جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب ہوں بشرطیکہ وہ ان میں سے ہو جو بڑے گناہوں سےپرہیز کرتے ہیں اگرچہ وہ چھوٹے گناہ کا مرتکب ہو.
 (5)
غیرمختون ,خصی اور ولد گناہ کی گواہی قبول کی جاتی ہے.
 (6)
  خنثی کی گواہی قبول کی جاتی ہے
(7) 
حربی مستأمن کے خلاف ذمی کی گواہی قبول کی جاتی ہے جیسا کہ حربی اور ذمی کے خلاف مسلمان کی گواہی قبول کی جاتی ہے

فائدہ
 (1) 
جب گواہی دعوی کےموافق ہو(تو)قبول کی جاۓ اور اگر اس کے مخالف ہو (تو) قبول نہ کی جاۓ
 (2)
 حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک لفظ اور معنی میں دونوں گواہوں کے متفق ہونے کا اعتبار کیا جاتا ہے
(حضرت ابو یوسف اور حضرت امام محمد رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ معنی میں اتفاق ہی معتبر ہے لفظ میں نہیں)



No comments:

Powered by Blogger.