Ch : 8 Wakalat ka bayan

وکالت کا بیان

سوال : وکالت کیا ہے؟

جواب : یہ شریعت میں معلوم تصرف میں غیر کو اپنے قائم مقام کرنے کا نام ہے اور ہر عقد کہ جائز ہے کہ انسان خود اسکا عقد کرے کہ جائز ہے کہ اپنے غیر کو اس (عقد) کا وکیل بنائے

سوال :  وکالت کیوں مشروع کی گئی ہے؟

جواب :  کیوں کہ انسان اپنی کمزوری یا عدم موجودگی کی وجہ سے کبھی ایسے (شخص) کا محتاج ہوتا ہے جسے کام سپرد کرے

سوال : وکلاء جن( عقود) کا عقد کرتے ہیں ان عقود میں تفصیل کیا ہے؟

جواب : یہ عقود دو قسم پر (مبنی) ہیں
اول
وہ عقد جسے وہ اپنی طرف منسوب کرے جیسے  بیع، شراء اور اجارہ تو اس عقد کے حقوق وکیل کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں موکل کے ساتھ نہیں پس وکیل  مبیع کو سپرد کرے اور ثمن پر قبضہ کرے اور اس ثمن کا مطالبہ کیا جائے کہ جب وہ فروخت کرے اور مبیع پر قبضہ کرے اور عیب دار  (چیز) میں جھگڑا کرے جب وہ خریدے
اور دوئم
 وہ عقد جو وکیل اپنے موکل کی طرف منسوب کرے جیسے نکاح خلع اور دم عمد سے صلح اور اس عقد کے حقوق موکل کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں وکیل کے ساتھ نہیں پس شوہر کے وکیل سے مہر کا مطالبہ نہ کیا جائے اور عورت کے وکیل کو (عورت) سپرد کرنا لازم نہیں.

سوال : کیا جواب دہی کا وکیل بنانا جائز ہے؟

جواب : جی ہاں تمام حقوق میں جوابدہی اور ان (حقوق) کو ثابت کرنے کا وکیل بنانا جائز ہے پس مدعی کا وکیل صحیح دعوی پیش کرے اور مدعی علیہ کا وکیل دعویٰ اور جو اس کے متعلق ہو اس کا جواب پیش کرے گا.

سوال : کیا مدمقابل کی رضا کے بغیر جوابدہی کا وکیل بنانا جائز ہے؟.

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مد مقابل کی رضا کے بغیر جوابدہی کا وکیل بنانا جائز نہیں مگر یہ کہ موکل بیمار یا تین دن یا اس سے زائد کی مسافت تک غائب ہو اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یعنی جوابدہی کا وکیل بنانا مد مقابل کی رضا کے بغیر جائز ہے.

سوال : حقوق وصول کرنے کا وکیل بنانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : یہ توکیل جائز ہے مگر حدود و قصاص میں (نہیں) کیونکہ مجلس سے موکل کے عدم موجودگی کے ساتھ (حدودوقصاص) وصول کرنے کی وکالت جائز نہیں.

سوال : کیا صرف اور سلم کے عقد کا وکیل بنانا جائز ہے؟

جواب :  جی ہاں! یہ جائز ہے پس جب قبضہ کرنے سے پہلے وکیل اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے (تو) عقد باطل ہو جائے گا اور موکل کی جدائی کا اعتبار نہیں کیا جاتا.

سوال : کیا وقالت کی صحت کے لئے کچھ شرطوں کی شرط لگائی جاتی ہے؟

 جواب : جی ہاں! اس کی صحت کے لیے شرط لگائی جاتی ہے کہ موکل اس میں سے تصرف کا مالک ہوتا ہے اور حکام اسے لازم ہوتے ہیں اور شرط لگائی جاتی ہے کہ وکیل اس میں سے جو خریدوفروخت کی سمجھ رکھتا ہوں اور اس کا ارادہ رکھتا ہو.


سوال : آزاد بالغ نے اپنے جیسے (یعنی آزاد بالغ) کو اور مأزون غلام نے اپنے جیسے (یعنی ماذون غلام) کو وکیل بنایا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ دونوں توکیلین جائز ہیں.


سوال : ایک شخص نے محبور بچے کو وکیل بنایا جو خرید و فروخت کی سمجھ رکھتا ہے یا مہجور غلام وکیل بنایا تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب : یہ توکیل صحیح ہے لیکن حقوق دونوں وکیلوں کے ساتھ متعلق نہیں ہوں گے بلکہ ان کے موکلوں کے ساتھ متعلق ہوں گے.

 سوال : ایک شخص نے بچنے کا وکیل بنایا پس وکیل نے اس کے لیے بیجاپس موکل نے خریدار سے ثمن طلب کیا تو خریدا اس صورت میں کیا کرے ؟

جواب : جائز ہے کہ وہ  اس سے روک لے یعنی اس منتقل نہ دے پس اگر وہ سمجھنا سے دے تو جائز ہے اور اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس سے دوسری مرتبہ کا مطالبہ کرے.

سوال : کیا خریدنے کا وکیل بنانے کے لیے ایسی چیز کی شرط لگائی جاتی ہے جو ضروری ہو؟

جواب :  جی ہاں!مبیع کی جنس،اس کی صفت اور اس کے ثمن کی مقدار بیان کرنا ضروری ہے مگر یہ کہ اسے وکالت عامہ کا وکیل بناۓ اور کہے کہ "میرے لیے خریدیۓ جو آپ مناسب سمجھیں".

سوال :  وکیل نے سامان خریدا اور اس پر قبضہ کر لیا پھر وہ عیب پر مطلع ہوا تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ سامان فروخت کنندہ کو لوٹا دے؟

جواب : عیب کی وجہ سے سامان کو لوٹانا اس کے لیے جائز ہے جب تک کہ مبیع اس کے قبضہ میں موجود ہو پس اگر وہ سامان موکل کو سپرد کر دے تو وہ موکل کی اجازت کے بغیر سامان نہ لوٹائے۔

سوال : خریداری کے وکیل نے اپنے مال میں ثمن دیا اور مبیع پر قبضہ کر لیا تو اس مال کو حاصل کرنے میں کیسے کرے جس کے ساتھ اس نے خریدا؟

جواب : موکل پر ثمن کے ساتھ رجوع کر ے اور اسے مبیع روکنے کا حق ہے یہاں تک کہ وہ ثمن وصول کر لے۔

سوال : وکیل نے مبیع پر قبضہ کیا اور وہ اس کے قبضہ میں موجود ہے اور اپنے موکل سے اس کو روکنے سے پہلے وہ ہلاک ہو گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : مبیع موکل کے مال سے ہلاک ہوئی اور ثمن اس کی ذمہ داری سے ساقط نہیں ہوا۔

سوال : اگر وکیل ثمن وصول کرنے کے لیے اسے روک لے اور وہ اس کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : ہلاک ہونے والی مبیع اس وقت حضرت ابو یوسف کے نزدیک ضمان رہن کی طرح اور حضرت محمد کے نزدیک ضمان مبیع کی طرح مضمون ہو گی۔

سوال : ایک شخص نے دو شخصوں کو وکیل بنایا تو کیا وکالت کے کام پر جمع ہونا ان دونوں کو لازم ہے؟

جواب : جی ہاں! جمع ہونا ان دونوں کو لازم ہے اور ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے بغیر اس کام میں تصرف نہ کرے جس کام میں ان دونوں کو وکیل بنایا مگر یہ کہ وہ ان دونوں کو جوابدہی کایا اپنی بیوی کو عوض کے بغیر طلاق دینے کا یا اسی طرح ( یعنی عوض کے بغیر) غلام آزاد کرنے کا یا اس کے پاس موجود امانت کو واپس کرنے کا یا اس کے ذمہ میں موجود دین کو ادا کرنے کا وکیل بناۓ۔

سوال : کیا وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسرے شخص کو وکیل بناۓ اس (کام)میں جس (کام)میں اسے وکیل بنایا گیا ہے؟

جواب : یہ اس کے لیے جائز ہے مگر یہ کہ موکل اسے اجازت دے دےیا اس سے کہے کہ" اپنی تدبیر کی رسائی کے مطابق کام کیجیے".

سوال : پس اگر وہ اپنے موکل کی اجازت کے بغیر وکیل بناۓ اور وہ وکیل ثانی عقد کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : اگر وکیل ثانی وکیل اول کی موجودگی میں عقد کرے تو یہ عقد موکل اول کے حق میں جائز ہوگا اور اگر وکیل اول کی موجودگی کے بغیر عقد کرے اور ( وکیل اول) اسے نافذ کر دے (تب) بھی جائز ہے وگرنہ نہیں۔

سوال : کیا وکیل کے معاملات بعض قیود کے ساتھ مقید ہو تے ہیں؟

جواب : جی ہاں! حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک خریدوفروخت کی وکالت مقید ہو تی ہے کہ وکیل اپنے والد،اپنے دادے،اپنی اولاد،اپنی اولاد کی اولاد،اپنی بیوی،اپنے غلام اور اپنے مکاتب کے ساتھ عقد نہ کرے اور حضرت ابو یوسف وحضرت محمد فرماتے ہیں کہ اپنے غلام اور اپنے مکاتب کے سوا (مذکورہ بالا رشتہ داروں) کے مثل قیمت کے ساتھ اس کا بیچنا جائز ہے۔

سوال : کیا بیچنے کے وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ تھوڑے اور زیادہ (ثمن) کے عوض بیچے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک تھوڑے اور زیادہ (ثمن) کے عوض اس کا بیچنا جائز ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ ایسے نقصان کے ساتھ اس کا بیچنا جائز نہیں کہ لوگ اس (نقصان) کے مثل میں ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا تے ہوں۔

سوال : خریداری کے وکیل کا حکم اس کے عقد کرنے میں کیا ہے؟

جواب : اس کا عقد کرنا مثل قیمت کے ساتھ اور ایسی زیادت کے ساتھ جائز ہے کہ لوگ اس (زیادت) کے مثل میں ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں۔

سوال : اس تغابن (یعنی ایک دوسرے کو  نقصان پہنچانے) کا مطلب کیا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے؟
  
جواب : یہ وہ ہے جو قیمت لگانے والے (ماہرین) کے قیمت لگانے کے تحت داخل نہ ہو.

سوال : کسی شخص کو اپنا غلام بیچنے کا وکیل بنایا پس اس نے آدھا (غلام),بیچ دیا تو کیا یہ اس کیلئے جائز ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک یہ اس کیلئے جائز ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں ک صحیح نہیں مگر یہ کہ دوسرا آدھا ( بھی ) بیچ دے

سوال : اگر اسے غلام خریدنے کا وکیل بنائے پس وہ آدھا (غلام) خرید کے تو اس خریداری کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ خریداری موقوف ہے پس اگر وہ (غلام) کا باقی (آدھا) خرید لے تو موکل کو لازم ہو جائے گا 

سوال : کسی شخص کو ایک درہم کے عوض دس رطل(34 تولہ ڈیڑھ ماشہ) گوشت خریدنے کا وکیل بنایا پس اس نے ایک درہم کے عوض ایسے گوشت کے بیس رطل خرید لئے کے اس جیسا (گوشت) ایک درہم کے عوض دس رطل بیچا جاتا ہے تو موکل کو کیا لازم ہو گا ؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک اسے آدھے درہم کے عوض اس( گوشت) کے دس رطل لازم ہوں گے اور بہرحال (صاحبین) کے نزدیک تو اسے ایک درہم کے عوض بیس رطل لازم ہوں گے

سوال : کسی شخص کو معین چیز خریدنے کا وکیل بنایا تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ اسے اپنے لئے خرید لے؟

جواب : یہ اس کے لئے جائز نہیں پس اگر وہ اسے اپنے لئے خرید لے تو خریداری موکل کے لئے واقع ہو گی

سوال : کسی شخص کو غیر معین غلام خریدنے کا وکیل بنایا پس اس نے غلام خریدا تو یہ غلام کس کے لیے ہو گا ؟

جواب : یہ وکیل کے لیے ہو گا مگر یہ کہ وہ کہے کہ میں نے موکل کے لیے خریدنے کی نیت کی یا وہ اسے موکل کے مال سے خریدے

سوال : کیا جوابدہی کے وکیل کے لئے جائز ہے کہ وہ اس پر قبضہ کرے جسے وہ جوابدہی کے ذریعہ حاصل کرے؟
 
جواب : حضرت ابو حنیفہ, حضرت ابو یوسف, اور حضرت محمد (رحمھم اللہ تعالی) کے نزدیک جوابدہی کا وکیل قبضہ کرنے کا وکیل بھی ہے اور حضرت زمر(رحمۃ اللہ) فرماتے ہیں کہ وہ قبضہ کرنے کا مالک نہیں ہوتا_

سول : دَین پر قبضہ کرنے کا وکیل کیا اس کے لئے (جائز )ہے کہ وہ جواب دے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک دَین پر قبضہ کرنے کا وکیل جوابدہی کا وکیل بھی ہے (صاحبین) کے نزدیک نہیں_

سوال : اپنے موکل کے خلاف جوابدہی کے وکیل کے اقرار کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب جوابدہی کا وکیل قاضی کے پاس اپنے موکل کے خلاف اقرار کرے(تو) اس کا اقرار جائز ہے اور حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد(رحمھم اللہ) کے نزدیک غیر قاضی کے پاس (موکل)کے خلاف اس کا اقرار جائز نہیں اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس کا اقرار (موکل) کے خلاف غیر قاضی کے پاس بھی جائز ہے_

سوال : ایک شخص نے دعوی کیا کہ وہ اپنے غائب موکل کی طرف سے دَین پر قبضہ کرنے کا وکیل ہے (تو) کیا (قرضدار) کو اسے دین سپرد کرنے کا حکم دیا جائے؟

جواب : اگر قرضدار اس کی تصدیق کرے تو اسے اس کا حکم دیا جائے 

سوال : قاضی نے اسے دین سپرد کرنے کا حکم دیا اس وجہ سے کہ قرضدار نے اس کی تصدیق کر دی پھر غائب حاضر ہو گیا تو اس وکیل کو جس نے دین پر قبضہ کیا اور اس قرضدار کو جس پر دین ہےکس (چیز) کا حکم دیا جائے

جواب : اگر آنے والا غائب اس کی تصدیق کر دے تو کوئی سوال نہیں اور کوئی جواب نہیں اور اگر وہ اس کی تصدیق نہ کرے تو قرضدار اسے دوسری مرتبہ دین دے اور وہ اس (دین) کے ساتھ وکیل پر رجوع کرے اگر اس کے قنضے میں باقی ہو

سوال : ایک شخص نے امین سے کہا کہ میں امانت پر قبضہ کرنے کا وکیل ہوں اور امین نے اس کی تصدیق کر دی تو کیا امین کو اسے ( امانت) سپرد کرنے کا حکم دیا جائے.

جواب : اسے اس کا حکم نہ دیا جائے 

سوال : بیچنے کے وکیل نے بیچا پھر وہ خریدار کی طرف سے ثمن پر قبضہ کرنے کا ضامن ہو گیا تو اس کے ضمان کا حکم کیا ہے ؟

 جواب : اس کا ضمان باطل ہے.

 سوال : جب موکل اپنے وکیل کو معزول کردے اور وکیل اس کے بعد تصرف کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟

 جواب : جب موکل اسے معزول کر دے اور اسے اس کے موکل( کرنے کی) خبر پہنچ جائے تو اس کا تصرف جائز نہیں .پس اگر اسے معزول (کرنےکی) خبر نہیں پہنچی تو وہ اپنی وکالت پر (برقرار) ہے اور تصرف جائز ہے اور تصرف اس کے موکل پر واقع ہوگا یہاں تک کہ اسے علم ہو جائے کہ وہ معزول ہے.

 سوال : ان سورتوں کو بیان کیجیے جن سے وکالت باطل ہو جاتی ہے ؟

 جواب : وہ درج ذیل ہیں

موکل کا مرنا
 2 
اسے جنون مطبق( حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جنون مطبق وہ جنون ہے جو ایک ماہ کو گھیرے ہوئے ہو اور حضرت کے نزدیک وہ گروہ ہے جو ایک سال کو گھیرے ہوئے ہو اور یہی صحیب قول ہے)کا لاحق ہونا

3
 اس کا مرتد ہو کر دارالحرب چلے جانا
ان دو شریکوں کا جدا ہونا کہ ان میں سے ایک دوسرے کا وکیل ہو
 5
 کتابت کے مال سے مکاتب کا عاجز ہو جانا بعد اس کے کہ وہ کسی کو وکیل بنائے
 6 
مأذون (غلام) پر حجر کا طاری ہونا جسے وکیل بنایا گیا ہو . پس یہ اسباب وکالت کو باطل کر دیتے ہیں.وکیل کو علم ہو یا علم نہ ہو
وکیل کا مرنا
 8
اسے جنون مطبق کا لاحق ہونا
9
اس کا مرتد ہو کر دار الحرب چلے جانا مگر یہ کہ وہ اپنے لحاق کے حکم سے پہلے مسلمان ہو کر لوٹ کر آئے
10
 موکل کا خود تصرف کرنا اس کام میں جس کام کا اس نے وکیل بنایا




No comments:

Powered by Blogger.