Dakoun k ahkam ka bayan

ڈاکوؤں کے احکام کا بیان 

سوال : ڈاکہ زنی کی سزا کیا ہے ؟ 

جواب : تحقیق  اللّه تعالی نے  اپنی  معزز  کتاب  میں  اس (سزا)  کو بیان فرمایا ہے ۔

اِنِّما جَزٰؤُا  الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ  اللّهَ  وَ  رَسُوْلَہ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ  فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ  اَرْجُلُھُمْ مِنْ  خِلَاف اَوْ یُنْفَوْا مِنَ  الْاَرْضِ  ذَالِکَ  لَھُمْ خِزْی فِی الدُّنْیَا  وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَاب عَظِیْم   اِلَّا  الَّذِیْنَ  تَابُوْا  مِنْ  قَبْلِ  اَنْ  تَقْدِرُوْا  عَلَیْھِمْ فَاعْلِمُوْا  اَنَّ  اللّهَ غَفُوْر رَّحِیْم      
(المائدہ : ٣٣، ٣۴) 

ترجمہ " سواۓ اس کے نہیں ان (لوگوں) کی سزا جو  اللّه تعالی اور اسکے رسول سے لڑتے ہیں اور  زمین  میں فساد پھیلاتے ہیں ۔ یہ  ہے کہ  ان کو قتل کردیا جاۓ یا ان کو سولی  دے دی جائے یا انکے ہاتھ یا انکے پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دیئے جائیں  یا  انکو  جلا وطن کردیا جائے یہ ان  کے  لیے دنیا میں بڑی  رسوائی  ہے اور  انکے  لیۓ آخرت میں بڑا  عذاب  ہے  مگر جنہوں نے توبہ کر لی قبل  اس  کے کہ ان کو گرفتار  کرو تو  جان  لو کہ بے شک  اللّه  تعالی بہت  بخشنے  والے بہت مہربان  ہیں ۔" 

پس جب کوئی گروہ نکلے اس حال میں کے وہ راستہ روکنے والا ہو  یا  ایک شخص (نکلے جو) راستہ روکنے پر قدرت  رکھتا ہو پس وہ ڈاکہ زنی کا ارادہ کریں تو وہ پکڑلئے جائیں قبل  اس  کے کہ وہ مال لوٹیں  اور  قبل اسکے کہ  وہ  کسی جان  کو قتل کریں تو حاکم اس کو قید کر لے یہاں تک کے وہ توبہ کر لیں اور  اگر  وہ مسلمان یا زمی کا مال لوٹیں  اور  مال  جب  انکے گروہ پر تقسیم کیا جاۓ (تو ) ہر ایک دس درہم یا زائد کو یا اس شے کو پالے  جس کی قیمت دس درہم کو پہنچتی ہو تاکے مخا لف جانب سے اس  کے ہاتھ  اور پاؤں کاٹ دیے  اور اگر  کسی جان کو قتل  کریں  اور  مال  نہ  لوٹیں   تو حاکم  انکو  حاکم  کے طور   پر  قتل  کر  دے  پس  اگر   مقتول  کے  اولیاء  انہیں  معاف کر دیں  تو  انکی  معافی کی  طرف  توجہ   نہ   دی  جائے    اور  اگر  وہ قتل کریں  اور  مال لوٹیں تو  حاکم با  اختیار  ہے   اگر  چاہے مخالف  جانب سے ان کے  ہاتھ اور  ان  کے پاؤں کاٹ دے اور ان کو قتل کر دے یا ان  کو سولی دے دے اور  اگر چاہے ان کو قتل کر دے اور اگر چاہے ان کو سولی دے دے ۔

سوال : سولی دینے کا طریقہ کیا ہے ؟ 

جواب : اسے سولی دی جاۓ اس حال میں کہ زندہ ہو اور نیزے سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا جائے یہاں تک کے وہ مر جاۓ  اور اسے تین دن سے زائد سولی نہ دی جاۓ ۔ 

سوال : اگر ان ( ڈاکوؤں ) میں نا بالغ یا پاگل یا مقطوع علیہ کا ذی رحم ہو  تو اس کا کیا حکم ہے ؟ 

جواب : حد باقیوں سے ساقط  ہوجاۓ گی اور قتل (کا حق) اولیاء کی طرف منتقل ہو جاۓ گا اگر وہ چاہیں قتل کر دیں اور  اگر چاہیں معاف کر دیں ۔ 

سوال : ڈاکوؤں میں سے ایک نے قتل کا ارتکاب  کیا تو کیا قتل کا حکم سب پر جاری ہوگا ؟

جواب : جی ہاں ! ان سب پر جاری ہوگا ۔




No comments:

Powered by Blogger.