Donon gawahon ki mawafqat or namawafaqat
دونوں گواہوں کی موافقت اور ناموافقت
سوال : کبھی دو گواہ گواہی میں اختلاف کرتے ہیں مثلاًان میں سے ایک نے ہزار کی اور دوسرے نے دو ہزار کی گواہی دی تو ایسی گواہی پر کیسے عمل کیا جاۓ گا؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دونوں کی گواہی قبول نہ کی جاۓ اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہزار کی(گواہی)قبول کر لی جاۓ۔
سوال : دونوں(گواہوں)میں سے ایک نے ہزار کی اور دوسرے نے ایک ہزار اور پانچ سو کی گواہی دی اور مدعی ایک ہزار اور پانچ سو کا دعویٰ کرتا ہے(تو)ان دونوں گواہیوں کا کیا حکم ہے؟
جواب : صرف ایک ہزار کے بارے میں ان دونوں کی گواہی قبول کی جاۓ۔
سوال : دو گواہوں نے ایک ہزار کی گواہی دی لیکن ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ تحقیق اس نے (ہزار) میں سے پانچ سو اداکر دیۓ ہیں (تو)اس صورت میں کس(چیز)کے ساتھ فیصلہ دیا جاۓ؟
جواب : ہزار کا فیصلہ دیاجاۓاور اس پر ان دونوں کی گواہی قبول کی جاۓاور اسکی(یہ)بات نہ سنی جاۓ کہ تحقیق اس نے (ہزار) میں سے پانچ سو اداکر دیۓ ہیں الّا یہ کہ اسکے ساتھ دوسرا گواہی دے اور گواہ کے لیے مناسب ہے کہ ہزار کی گواہی نہ دےجب اسے(پانچ سو کی اداٸیگی)کا علم ہو یہاں تک کہ مدعی اقرار کرے کہ اس نے پانچ سو پر قبضہ کیا ہے۔
سوال : دو گواہوں نے گواہی دی کہ زید نحر کے دن(دس ذولحجہ)کو مکہ(مکرمہ)میں قتل کیا گیااور دیگر دو گواہوں نے گواہی دی کہ وہ(یعنی زید)نحر کے دن کوفہ میں قتل کیا گیا اور یہ( سب گواہ)قاضی کے پاس جمع ہوگٸے(تو)ان دونوں کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جاۓ؟
جواب : قاضی دونوں گواہیاں ردکردے۔
سوال : اگر دونوں گواہیوں میں سے ایک سبقت لے جاۓ ار قاضی اس(گواہی)کے ساتھ فیصلہ دے دے اور پھر دوسرے دو گواہ حاضر ہو جاٸیں(تو)کیا وہ فیصلہ توڑ دے؟
جواب : پہلی گواہی کے ساتھ فیصلہ کے بعد دوسری گواہی قبول نہ کی جاۓ اور فیصلہ نہ توڑا جاۓ۔
ایک دوسرے سے سننے کے ساتھ گواہی کا بیان
سوال : کیا گواہ کے لیے جاٸز ہے کہ وہ ایسی شے کی گواہی دے جسے اس نے نہیں دیکھا؟
جواب : یہ اس کے لیے جاٸز نہیں مگر
نسب،موت،نکاح،ہمبستری اور قاضی کی ولایت کے بارے میں تواس کے لیے جاٸز ہے کہ وہ ان چیزوں کی گواہی دےجب اسے وہ(شخص)خبر دے جس پر اسے اعتمادہے۔

No comments: