Gawahi par gawahi ka bayan

گواہی پر گواہی کا بیان

سوال : گواہی پر گواہی مشروع ہے یا نہیں؟پس اگر مشروع ہے تو اس کی صورت کیا ہے اور کیا اس میں گواہ بنانا لازم ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب : گواہ جس گواہی کا متحمل ہوتا ہے وہ گواہی دو قسموں پر منقسم ہے ان دونوں میں سے ایک قسم وہ ہے جس کا حکم بذات خود ثابت ہوتا ہے جیسے بیع,اجارہ,نکاح,اقرار,غصب,قتل,قاضی کا فیصلہ پس جب گواہ اسے سنے یا اسے دیکھے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کی گواہی دے اگرچہ اسے اس پر گواہ نہ بنایا گیا ہو اور وہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے بیچا اور یہ نہ کہے اس نے مجھے گواہ بنایا اور دوسری قسم وہ ہے جس کا حکم بذات خود ثابت نہیں ہوتا اور وہ گواہی پر گواہی ہے پس جب وہ کسی گواہی پر گواہی ہے پس جب وہ کسی گواہ کو سنے کہ وہ کسی شے کی گواہی دیتا ہے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسکی گواہی دے مگر یہ کہ وہ اسے گواہ بنائے اور اسی طرح اگر وہ اس کو سنے کہ وہ کسی گواہ کو اپنی گواہی پر گواہ بنا رہا ہے تو سننے والے کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس پر گواہی دے اور گواہی پر گواہی ہر ایسے حق میں جائز ہے جو شبہ سے ساقط نہیں ہوتا اور گواہی پر گواہی حدود اور قصاص میں قبول نہیں کی جاتی اور دو گواہوں کی گواہی پر دو گواہوں کی گواہی جائز ہے اور ایک کی گواہی پر ایک کی گواہی قبول نہیں کی جاتی

سوال : گواہ بنانے کا طریقہ بیان کیجئے؟

جواب : وہ یہ ہے کہ شاہد اصل شاہد فرع سے کہے مثلا میری گواہی پر گواہی دیجیئے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں بن فلاں نے میرے پاس اتنے مال کا اقرار کیا ہے اور مجھے اپنے خلاف گواہ بنایا ہے اور اگر یہ نہ کہے کہ اس نے مجھے اپنے خلاف گواہ بنایا ہے تو جائز ہے.

سوال : جب شاہد فرع گواہی دینا چاہے تو کیسے کہے؟

جواب : شاہد فرع گواہی ادا کرنے کے وقت کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں نے میرے پاس اتنے مال کا اقرار کیا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ اتنے مال کے بارے میں میری گواہی پر گواہی دیجئے پس میں اس کے بارے میں گواہی دیتا ہوں

سوال : کیا فرع کی گواہی کو قبول کرنے کے لئے کسی شے کی شرط لازم کی جاتی ہے؟

جواب : شہود فرع کی گواہی قبول نہیں کی جاتی مگر یہ کہ شہود اصل مر جائیں یا تین دن یا زائد کی مسافت تک غائب ہو جائیں یا سخت بیمار ہو جائیں کہ اس بیماری کے ساتھ وہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہونے کی طاقت نہ رکھتے ہوں

سوال : شہود فرع کا شہود اصل کو عادل قرار دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب : اگر شہود فرع شہود اصل کو عادل قرار دیں جائز ہے اور اگر ان کو عادل قرار دینے سے خاموش رہیں تو جائز ہے اور قاضی ان کے حال کے بارے میں غور و فکر کرے.

سوال : شہود فرع نے چاہا کہ وہ گواہی دیں لیکن شہود اصل نے شہود فرع کو گواہ بنانے سے انکار کر دیا تو کیا اس صورت میں شہود فرع کی گواہی قبول کی جائے؟

جواب : قبول نہ کی جائے




No comments:

Powered by Blogger.