Gawahi se rujoo karne ka bayan
گواہی سے رجوع کرنے کا بیان
سوال : کبھی واقع ہوتاہے کہ گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر لیتے ہیں تو اس صورت میں قاضی کیا کرے؟اور کیا ضمان گواہوں پر واقع ہوگاجب قاضی
ان کی گواہی کے ساتھ فیصلہ دے؟
جواب : اس میں تفصیل ہے اور آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے دل کو حاضر کرنے کے ساتھ اسے سنیں اور زبانی یاد کیجٸےجیسا کہ درج ذیل ہے
(١)
جب گواہ اپنی گواہی سے(گواہی)کے ساتھ فیصلہ دینے سے پہلے رجوع کر لیں(تو)انکی گواہی ساقط ہو جاۓ گی اور ان پر ضمان نہں ہو گا۔
(٢)
پس اگر قاضی انکی گواہی کے ساتھ مدعیٰ علیہ کے خلاف مال کا فیصلہ دے دے پھر وہ رجوع کر لیں(توقاضی)فیصلے کو نہ توڑےاور (گواہوں) پر اس(مال)کا ضمان واجب ہو گا جو(مال)انہوں نے مدعیٰ علیہ کے خلاف اپنی گواہی کے ذریعہ ضاٸع کیا۔
(٣)
اگران دونوں(گواہوں)میں سے ایک رجوع کرے تو آدھے(مال)کا ضامن ہو گا۔
(٤)
اگر تین شخص مال کی گواہی دیں پس ان میں سے ایک رجوع کر لے تو اس پر کوٸی ضمان نہیں اور اگر دوسرا رجوع کر لے تو دونوں رجوع کرنے والے آدھے مال کے ضامن ہوں گے۔
(٥)
اگر ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں تو پس ان دو(عورتوں)میں سے ایک عورت رجوع کر لے(تو)رجوع کرنے والی چوتھاٸی حق کی ضامن ہو گی اور اگر دونوں(عورتیں)رجوع کر لیں تو آدھے حق کی ضامن ہوں گی۔
(٦)
اگر ایک مرد اور دس خواتین گواہی دیں پس ان(خواتین)میں سے آٹھ عورتیں رجوع کر لیں تو ان پر کوٸی ضمان نہیں پس اگر کوٸی اور(خاتون)رجوع کر لے(تو)رجوع کرنے والی خواتین کے ذمہ چوتھاٸی(١/٤)حق ہوگاپس اگر مرد اور تمام خواتین رجوع کر لیں تو حضرت ابو حنیفہ ر حمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرد پر حق کا چھٹا(١/٦)حصہ اور خواتین پر(حق)کے پانچ چھٹے حصے(٥/٦)ہیں۔اور(صاحبین)رحمہااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مردپر آدھا(حق)اور خواتین پر آدھا(حق)ہے۔
(٧)
اگر دو گواہ کسی عورت پر اس کے مہر مثل یا زاٸد کی مقدار کے ساتھ نکاح کی گواہی دیں پھر رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں اور اگر مہر مثل سے کم کی گواہی دیں پھر رجوع کر لیں تو نقصان کے ضامن نہیں ہوں گے۔
(٨)
اگر کسی شخص پر(عورت)کے مہر مثل یا کم کی مقدار کے ساتھ عورت سے نکاح کرنے کی گواہی دیں پھر رجوع کر لیں تو ضامن نہیں ہوں گے اور اگر مہر مثل سے زاٸد کے ساتھ نکاح کرنے پر گواہی دیں اور پھر رجوع کر لیں(تو)زیادت کےضامن ہوں گے۔
(٩)
اگر قیمت کے مثل یا زاٸد کے ساتھ کسی شےکی بیع پر گواہی دیں پھر رجوع کر لیں تو ضامن نہیں ہوں گےاور اگر(بیع)قیمت سے کم کے ساتھ ہو(تو گواہی سے رجوع کرنےکی صورت میں)نقصان کے ضامن ہوں گے۔
(١٠)
اگر کسی شخص کے خلاف گواہی دیں کہ اس نے اپنی بیوی کواس کے ساتھ ہمبستری کرنےسے پہلے طلاق دی ہے پھر وہ(گواہ)رجوع کر لیں(تو)آدھے مہر کے ضامن ہوں گےاور ہمبستری کرنے کے بعد(طلاق دینے کی گواہی دیں پھر)رجوع کر لیں(تو)کسی شے کے ضامن نہیں ہوں گے۔
(١١)
اگر گواہی دیں کہ اس نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا ہے پھر رجوع کر لیں تو(غلام)کی قیمت کے ضامن ہوں گے۔
(١٢)
اگر قصاص کی گواہی دیں پھر قتل کے بعد رجوع کر لیں(تو)دیت کے ضامن ہوں گےاور ان سے قصاص نہیں لیا جاۓ گا۔
(١٤)
اگر شہودِاصل رجوع کریں اور کہیں کہ ہم نے شہودِفرع کواپنی گواہی پر گواہ نہیں بنایا تو ان پر کوٸی ضمان نہیں اور اگر کہیں کہ ہم نےان کو گواہ بنایااور ہم نےغلطی کی(تو)ضامن ہوں گے(یہ حضرت امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا مسلک ہے اور شیخین رحمہااللہ تعالیٰ کے نزدیک اصول پر کوٸی ضمان نہیں جب وہ وجوع کریں<ہدایہ>)
(١٥)
اگر شہودِفرع کہیں کہ شہودِاصل نے جھوٹ بولا ہے یا کہیں کہ(شہودِاصل)نےاپنی گواہی میں غلطی کی ہے(تو)انکی اس بات کی طرف توجہ نہ دی جاۓ۔
(١٦)
جب چار شخص زنا کی گواہی دیں اور دو شخص احصان کی گواہی دیں پھر( زانی) کے سنگسار کیے جانے کے بعداحصان کے گواہ رجوع کر لیں(تو)ضامن نہیں ہوں گے۔
(١٧)
جب تزکیہ کرنے والے تزکیہ سے رجوع کر لیں(تو)ضامن ہوں گے۔
(١٨)
جب دو گواہ قسم کے بارے میں
اور دیگر دو(گواہ)شرط کے پاۓ جانے کے بارے میں گواہی دیں پھر(تمام گواہ)رجوع کر لیں تو ضمان صرف قسم کے گواہوں پر(لازم)ہے۔

No comments: