Guftagoo karne me qasam ka bayan

گفتگو کرنے میں قسم کا بیان

سوال : (کسی) نے قسم کھائی کہ وہ گفتگو نہیں کرے گا پس اس نے نماز میں قرآن شریف کی تلاوت کی (تو) کیا وہ اس سے حانث ہو جائے گا؟

جواب : حانث نہیں ہو گا

سوال : (کسی) نے قسم کھائی کہ لَا یُکَلِّمُ فُلَانًا حِیْنَاً اَوْ زَمَانًا(کہ وہ فلاں سے ایک وقت یا ایک زمانے تک گفتگو نہیں کرے گا یا قسم کھائی کہ لَا یُکَلِّمُ فُلَانًا الحِیْنَ اَوِالزَّمَانَ کہ وہ فلاں سے ایک وقت یا ایک زمانے تک گفتگو نہیں کرے گا تو  کتنے زمانے پر یہ قسم واقع ہوگی؟

جواب : چھ ماہ پر واقع ہو گی۔

سوال : اگر قسم کھائے کہ لَا یُکَلِّمُہ دَھْرًا  کہ وہ زمانہ بھر اس سے گفتگو نہیں کرے گا یہ گفتگو کس پر محمول کی جائے؟

جواب : صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ گفتگو چھ ماہ پر  محمول ہے اور بہرحال حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ تو آپ نے اس بارے میں کسی شے کا فیصلہ نہیں دیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ دہر کیا ہے۔

سوال : اگر کسی نے قسم کھائی کہ لَا یُکَلِّمُہ اَیَّامًا کہ وہ اس سے کئی دن گفتگو نہیں کرے گا  تو کتنے دنوں پر قسم واقع ہو گی؟

جواب : تین دنوں پر واقع ہو گی اور یہ حکم تب ہے جب لفظ ایام نکرہ لائے پس بہرحال جب لام تعریف کا اضافہ کر دے اور کہے کہ لا یُکَلِّمُہ الْاَیَّامَ کہ وہ اس سے کئی دن گفتگو نہیں کرے گا تو یہ قسم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک دس دنوں پر اور آپ کے صاحبین رحمہمااللہ تعالیٰ کے نزدیک ہفتہ کے دنوں یعنی سات دنوں پر واقع ہو گی۔


سوال : اس بارے میں تینوں اماموں یعنی ابوحنیفہ،امام ابویوسف اور امام محمد رحہم اللہ تعالیٰ کا قول کیا ہے جب وہ قسم کھاۓ کہ لَا یُکَلِّمُہُ الشُّھُورَ کہ وہ اس سے کٸ ماہ گفتگو نہیں کرے گا؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ قسم دس مہینوں پر واقع ہوگی
اور صاحبین رحمہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قسم بارہ مہینوں پر واقع ہوگی۔

سوال : کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ فلاں سے گفتگو نہیں کرے گا پس اس نے اس سے گفتگو کی اس حال میں کہ وہ ایسی جگہ ہے کہ وہ سنتا ہے لیکن وہ سویا ہوا ہے تو آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب : وہ اس صورت میں حانث ہو جاۓ گا۔

سوال : کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ فلاں سے اسکی اجازت کے بغیر گفتگو نہیں کرے گا پس فلاں نے اسے اجازت دے دی لیکن قسم کھانے والے نےاس سے گفتگو کی اس حال میں کہ وہ اجازت کے بارے میں نہیں جانتا تو کیاوہ اس سے حانث ہو جاۓ گا؟

جواب : جی ہاں! حانث ہوجاۓ گا۔

سوال :  کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ اس چادر کے مالک سے گفتگو نہیں کرے گا پس چادر کے مالک نےچادر کو بیچ دیا پھر اس قسم کھانے والے نےاس سے گفتگو کی تو کیا وہ اس صورت میں حانث ہو جاۓ گا؟

جواب : جی ہاں!حانث ہو جاۓ گا۔

سوال : کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ اس جوان سے گفتگو نہیں کرے گا پس اس نے اس سے گفتگو کی بعد اس کے کہ وہ بوڑھا ہو گیا تو  کیا وہ اس سے حانث ہو جاۓ گا؟

جواب : جی ہاں ! حانث ہو جاۓ گا۔

سوال : کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ فلاں کی بیوی سے بات نہیں کرے گا پس فلاں نے اس کو طلاق دے دی پھر اس قسم کھانے والے نےاس خاتون سے گفتگو کی تو کیا وہ اس صورت میں حانث ہو جاۓ گا؟

جواب : حانث ہوجاۓ گا۔

سوال :  کسی نے قسم کھاٸی کہ وہ فلاں کے غلام سے گفتگو نہیں کرے گا یا فلاں کے گھر میں داخل نہیں ہوگا پس اس نے اپنا غلام یا اپنا گھر بیچ دیا پھر اس نے غلام سے گفتگو کی یا وہ گھر میں داخل ہوا تو کیا وہ حانث ہو جاۓ گا؟

جواب : حانث نہیں ہوگا۔





No comments:

Powered by Blogger.