Gum shudah admi ka bayan

گم شدہ آدمی کا بیان 

سوال : بعض اوقات آدمی اپنے شہر سے غائب ہو جاتا ہے اور اس کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہوتا اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیا وہ زندہ ہے یا مردہ اب جب اس طرح ہو تو کون اس کے مال وغیرہ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوگا ؟

جواب : قاضی ایسے شخص کو مقرر کرے جو اس کے مال کی حفاظت کرے اس کے حقوق وصول کرے اس کی بیوی اور اس کے نابالغ بچے  پر اس کے مال میں سے خرچ کرے ۔

سوال : کیا گم شدہ آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردے اورا سے اجازت دے کہ وہ نکاح کر لے؟ 

جواب : قاضی گم شدہ آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرے یہاں تک کہ گم شدہ آدمی کی عمر 120 سال پوری ہو جائے اس دن سے جس دن وہ  پیدا ہوا پس جب اس کی عمر پوری ہو جائے تو اس کا فیصلہ دے دیا جائے اور اس کی بیوی وفات کی عدت گزارے پھر وہ نکاح کرلے اگر چاہے ( تنبیہ ؛ متاخرین علمائے احناف نے اس مسئلہ میں حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر فتوی دیا ہے کہ عورت قاضی کے پاس جاکر شباعت شرعیہ سے ثابت کرے کہ میرا خاوند گم ہوگیا ہے اور قاضی مکمل جستجو کے بعد جب مایوس ہو جائے تو عورت کو چار سال انتظار کا حکم دے اور چار سال پورے ہونے کے بعد عورت عدت وفات مکمل کرکے دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے ۔تفصیل کے لیے حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ کا رسالا الحیلة الناجزة للحلیلة العاجزة ملاحظہ فرمائیے)۔

سوال : جب اس کی موت کا فیصلہ دے دیا جائے اس حال میں کے اس کے بعد ورثہ موجود ہو اور بعض دیگر اس سے پہلے مر گئے ہو ان میں سے جو میراث کے مستحق ہیں تو اب میراث کیسے تقسیم کی جائے ؟

جواب : اس کا مال اس کے ان ورثہ میں تقسیم کیا جائے جو اس وقت میں موجود ہیں اور جو ان میں سے اس سے پہلے مر گیا ہو وہ اس (میراث) میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا ۔

 سوال : (گم شدہ آدمی) کے رشتے داروں میں سے کچھ لوگ اس کی موت کا فیصلہ دینے سے پہلے مر گئے تو کیا گم شدہ آدمی ان کا وارث ہوگا ؟

جواب : گمشدہ آدمی  ایسے کسی (آدمی) کا وارث نہیں ہوگا جو اس کی گمشدگی کی حالت میں مر گیا ۔



No comments:

Powered by Blogger.