Had e Qazaf ka bayan
حدِقٙذْف کا بیان
سوال : حدِقٙذْف کیا ہے ؟
جواب : یہ اس (شخص) کی سزا ہے جو کسی محْصٙنْ یا محْصٙنٙہْ کو زنا کے صریح
(لفظ)
(مثلا یوں کہے اے زانی یا تو نے زنا کیا ہے یا تو زانی ہے.کنائی لفظ سے تہمت کی حد ثابت نہیں ہوتی مثلا کسی نے کسی کو زنا کی تہمت لگائی اور کسی تیسرے نے کہا کہ تو نے سچ کہا تو اس پر حد نہیں جس نے کہا کہ تو نے سچ کہا کیونکہ یہ تہمت لگانے میں صریح لفظ نہیں) کے ساتھ تہمت لگائے اور یہ (حد) دو مردوں کی گواہی سے یا تہمت لگانے والے کے ایک مرتبہ اقرار کرنے سے ثابت ہوتی ہے اور حد واجب ہوتی ہے جب تہمت ذدہ مطالبہ کریں ۔
سوال : تہمت لگانے والے کی کیا سزا ہے ؟
جواب : اس کی سزا یہ ہے کہ اسے اسی کوڑے لگائے جائیں اور اس کے اعضاء پر ضرب کی تفریق کی جائے اور اسے اس کے کپڑوں سے ننگا نہ کیا جائے مگر یہ کہ پوستین اور فالتو کپڑا اس سے اتار لئے جائیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں
فٙاجْلِدوْھمْ ثٙمٰنِیْنٙ جٙلْدٙةً وّٙلٙا تٙقْبٙلُوْا لٙھُمْ شٙہٙادٙةً اٙبٙدًا
( النور ۴)
ترجمہ ۔ بس میں ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو ۔
سوال : اگر تہمت لگانے والا غلام ہو (تو) اس بارے میں اس کی حد کا حکم کیا ہے ؟
جواب : حد اس کے حق میں آدھی ہوگی بس اسے چالیس کروڑوں کی حد لگائی جائے۔
سوال : اس احصان کی صفت کیا ہے جس کے ساتھ جب کوئی انسان متصب ہو تو مُحْصٙنْ بن جاتا ہے ؟
جواب : احصان یہ ہے کہ تہمت زدہ آزاد بالغ عاقل مسلمان زنا کے فعل سےپاک امن ہو پس جو اس صفت میں (متصب) ہو مرد ہو یا عورت تو وہ مُحْصٙنْ ہے اس کے تہمت لگانے والے کو حد لگائی جائے ۔
سوال : اگر تو تہمت کا اقرار کرے پھر رجوع کرلے (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس کا رجوع قبول نہ کیا جائے اور اسے حد لگائی جائے جب تہمت زدہ اس کا مطالبہ کرے ۔
سوال : کسی شخص نے اپنے غیر سے کہا کہ تو اپنے باپ کا نہیں (تو) اسے تہمت شمار کیا جائے گا ؟
جواب : جی ہاں یہ تہمت ہے اسے حد لگائی جائے جو یہ کہے ۔
سوال : کسی شخص سے کہا اے زانیہ کے بیٹے حالانکہ اس کی ماں مردہ مُحْصٙنٙہُ ہے (تو) اس بارے میں حدقذف کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جب بیٹا حد کا مطالبہ کرے تو تہمت لگانے والے کو حد لگائی جائے اور میت کے لیے حد قذف کا مطالبہ نہ کرے مگر وہ شخص کہ تہمت لگانے والے کی تہمت کی وجہ سے جس کے نسب میں عیب واقع ہوتا ہو اور وہ والد اور ولد ہے ۔
سوال : کسی شخص نے کسی مُحْصٙنْ کو تہمت لگائے تو کیا اس کے کافر بیٹے اور اس کی غلام ولد کے لئے جائز ہے کہ وہ ولد کا مطالبہ کرے ؟
جواب : جی ہاں اس صورت میں ان دونوں کے لئے حد کا مطالبہ جائز ہے.
سوال : ایک غلام کے اس کی ماں آزاد ہے بس اس کے آقا نے اس کی ماں کو تہمت لگائی (تو) کیا غلام کیلئے (جائز) ہے کہ وہ اپنے آقا کے خلاف حد قذف کا مطالبہ کرے ؟
جواب : یہ اس شخص کے لئے (جائز) نہیں ۔
سوال کسی شخص نے عربی سے کہا اے نبطی( النبط ایک عجمی قوم جو عراقین کے درمیان رہتی تھی پھر اس لفظ کا استعمال عوام الناس کے لئیے ہونے لگا), یا کسی شخص سے کہا ہے اے بارش کے پانی کے بیٹے(یہ ہر اس شخص کا لقب ہے جو ظاہر و باطن کی صفائی اور جود و سخا کے ساتھ متصف ہو اور یہ نعمان بن منذر کے دادے کا نام ہے) (تو) کیا اس بارے میں حد لگائی جائے ؟
جواب : حد نہ لگائی جائے کیونکہ اس سے قذف نہیں اعتبار کیا جاتا ۔
سوال : کسی شخص کو اس کے چچے کی طرف یا اس کے ماموں کی طرف یا اس کے ماں کے (سابق) شوہر کی طرف منسوب کیا (تو) اسے تہمت لگانے والا گمان کیا جائے ؟
جواب : ان صورتوں میں اسے تہمت لگانے والا گمان نہ کیا جائے ۔
سوال : کسی شخص نے اپنے مِلک کے سوا حرام وطی کی پس کس شخص نے اسے تہمت لگائی (تو) اس تہمت لگانے والے کا حکم کیا ہے ؟
جواب ۔ اس تہمت لگانے والے کو حد نہ لگائی۔
سوال : ایک خاتون کہ اس کے شوہر نے تہمت لگائی پس اس خاتون نے اس سے قاضی کے ہاں لعان کیا پھر تہمت لگانے والے نے اسے تہمت لگائی تو کیا اس تہمت لگانے والے کو حد لگائی جائے ؟
جواب : جب لعان خاوند بیوی کے درمیان ولد کی نفی کے سبب سے ہو پھر تہمت لگانے والا اسے تہمت لگائے (تو) اسے حد نہ لگائی جائے اور اگر لعان خاوند کا (بیوی) کو زنا کی تہمت لگانے کی وجہ سے ہو اور ان کے درمیان ولد نہ ہو تو اس (خاتون) کے تہمت لگانے والے کو حد لگائی جائے ۔
سوال : ایک شخص نے کسی باندی یا غلام یا کافر کو زنا کی تہمت لگائی تو کیا اس کی وجہ سے اسے حد لگائی جائے ؟
جواب : اسے حد نہ لگائی جائے بلکہ سزا دی جائے ۔
سوال : اگر کسی مسلمان سے کہے اے فاسق یا اے کافر یا اے خبیث تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اس میں حد نہیں بلکہ اس میں تعزیز (یعنی سزا) ہے ۔
سوال : اگر کسی شخص سے کہے اے گدھے اے سور تو کیا اس میں حق ہے یا تعزیر ؟
جواب : اس میں نہ حد ہے اور نہ تعزیز ۔
سوال : حاکم نے حد شرعی لگائی یا سزا دی پس اس سے مضروب مر گیا (تو) کیا اس میں دیت ہے ؟
جواب : اس کا خون رائیگاں ہے اس میں کوئی دیت نہیں ہے۔
سوال : کیا تہمت لگانے والا کسی زائد کا مستحق ہوتا ہے اس کے سوا جو اسے ضرب لگائی گئی ؟
جواب : جب مسلمان کو تہمت حد لگائی جائے تو اس کی گواہی ہمیشہ کے لئے ساقط ہو جاتی ہے اگرچہ وہ اس کے بعد توبہ کرلی اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں
فٙاجْلِدوْھمْ ثٙمٰنِیْنٙ جٙلْدٙةً وّٙلٙا تٙقْبٙلُوْا لٙھُمْ شٙہٙادٙةً اٙبٙدًا
( النور ۴)
ترجمہ ۔ بس میں ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو ۔
سوال : کافر نے کسی شخص کو تہمت لگائی پس اسے حد لگائی پھر وہ مسلمان ہو گیا تو کیا اس کی گواہی ساقط ہو جائے گی ؟
جواب : اس کی گواہی مقبول ہے ساقط نہیں ہو گی ۔
فوائد
(١)
زیادہ سے زیادہ تعزیز 39 کوڑے ہیں اور کم سے کم (تعزیز) تین کوڑے ہیں اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تعزیز 75 کوڑوں تک پہنچ سکتی ہیں ۔
(٢)
اگر حاکم مناسب سمجھے کہ (کوڑے) مارنے کے ساتھ قید کو ملایا جائے (تو) یہ اس کیلئے جائز ہے ۔
(٣)
سخت ترین ضرب تعزیز پھر زنا کی حد پھر (شراب) پینے کی حد پھر تہمت لگانے کی حد ہے ۔

No comments: