Had e zina ka bayan

حد زنا کا بیان 

 سوال : زنا کی حد بیان کیجیۓ ؟

 جواب : زنا کی حد دو قسم پر(منقسم)ہے
اول:سو کوڑے مارنا اور یہ(حد)غیر مُحصَن مرد اور غیرمُحصَنہ کے لیے ہے
اوردوم:سنگسار کرنااور یہ(حد) مُحصَن و مُحصَنہ کے لیے ہے۔

 سوال :  قاضیوں کے پاس زنا کیسے ثابت ہوتا ہے؟

 جواب : زنابیّنہ یااقرارسےثابت ہوتا ہے۔
پس بیّنہ یہ ہے کہ چار گواہ کسی مرد یا عورت کے خلاف زنا کی گواہی دیں پس جب وہ گواہی دیں تو حاکم ان سے زنا کے بارے میں پوچھےکہ وہ کیا ہے؟اور وہ کیسے ہے؟اور اس نے کہاں زنا کیا؟اورکب زنا کیا؟اور کس سے زنا کیا؟پس جب وہ اسے بیان کر دیں اور کہیں کہ ہم نے اسے دیکھاکہ سرمہ دانی میں سلاٸی کی طرح اسکی شرمگاہ میں اس سےوطی کی اور حاکم گواہوں کے بارے میں پوچھےکہ نیکی اور عدالت کی حیثیت سےانکا حال کیسا ہے۔پس جب پوشیدہ اور علانیہ طور پر ان(گواہوں)کومعتبر جان لیا جاۓتوانکی گواہی پر فیصلہ دے دےاور حد نافذ کردےاوراگرانکاعددچارسےکم ہوجاۓیاانکافِسق ثابت ہوجاۓتو ان سب کو تہمت کی حد لگاٸی جاۓ۔
اور اقرار یہ ہے کہ عاقل بالغ اپنے خلاف اقرار کرنے والوں کی مجلسوں میں سے چار مجلسوں میں چار مرتبہ زنا کا اقرار کرےجب بھی وہ اقرار کرے(تو)قاضی اس(کےاقرار)کورد کردےاور قاضی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اسے رجوع کرنےکی تلقین کرےاس سے کہے کہ شایدتو نے چھوا ہو یا بوسہ دیا ہو پس جب اسکا اقرار مکمل ہو جاۓاسکے مطابق جو ذکر کیا گیا(تو)قاضی اس سے زنا کے بارے میں پوچھےکہ وہ کیا ہے؟وہ کیسے ہے؟اس نے کس سے زنا کیا؟اورکہاں زنا کیا؟پس جب وہ اسے بیان کردے توحد اسے لازم ہوجاۓ گی۔

 سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایاکہ غیر مُحصَن کہ اسکی حد سو کوڑے ہیں تواس جَلد(یعنی کوڑے مارنے)کا طریقہ کیا ہے؟

 جواب : پہلے اس سے اسکے کپڑے اتارلےمگر وہ(کپڑا)ننگیز چھپانےمیں جسکی ضرورت ہوتی ہے(تو وہ نہ اتارا جاۓ)پھر جلّاد اسےایسے کوڑے کےساتھ درمیانے درجےکی ضرب لگاۓ جس میں گرہ نہ ہواوراسکےأعضإپر ضرب کی تفریق کرےاور اسکے سر،اسکےچہرے اور اسکی شرمگاہ پر نہ مارے۔

 سوال : کیا اس میں مرد اورعورت کے درمیان کوٸی فرق ہے؟

 جواب : مرد اور عورت اس میں برابر ہیں مگر یہ کہ عورت کہ اس سے اسکے کپڑے نہ اتارے جاٸیں مگر پوستین اور فالتو کپڑے(اتارلیےجاٸیں)۔

 سوال : اسے ضرب لگاٸی جاۓ اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو یا بیٹھا ہو؟

 جواب : مرد کو حدود میں ضرب لگاٸی جاۓاس حال میں کہ(وہ)کھڑا ہو اور(عورت)کوضرب لگاٸی جاۓ اس حال میں کہ(وہ)بیٹھی ہوٸی ہو۔

 سوال : اِحصان کیا ہے؟

 جواب : رجم کا احصان یہ ہے کہ وہ آزاد،عاقل،بالغ،مسلمان ہو تحقیق وہ صحیح نکاح کے ساتھ وطی کر چکا ہواور شرط لازم کی جاتی ہے کہ خاوند بیوی وطی کے وقت محصن ہوں۔

 سوال : اِحصان کے بعد جو زنا کرے اس کو کیسے سنگسار کیا جاۓ؟

 جواب : سنگسار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے پتھر مارے جاٸیں یہاں تک کہ وہ مر جاۓ حاکم اسے میدانی زمین کی طرف نکالے اور گواہ اسے سنگسار کرنے کی ابتدإ کریں پھر حاکم اور پھر لوگ۔پس اگرگواہ ابتدإ کرنے سے رک جاٸیں تو رجم ساقط ہو جاۓ گا اور اگر زانی اقرار کرنے والا ہو تو حاکم ابتدإ کرے پھر لوگ اس کی پیروی کریں اوراگر(عورت)کے لیے رجم میں گڑھا کھود لیا جاۓ تو بہتر ہے۔

 سوال : کیا سنگسار کیے ہوۓ کو غسل دیا جاۓ اور اس پر نمازِ(جنازہ)پڑھی جاۓ؟

 جواب : جی ہاں!اسے غسل دیا جاۓ،اسے کفن دیا جاۓاور اس پرنمازِ(جنازہ)پڑھی جاۓ۔

 سوال : ایک شخص کہ اسکا غلام یا باندی ہے جن پر حد واجب ہوگٸ تو کیا وہ(خود)ان پر حد قاٸم کریں؟

 جواب : آقاحاکم کی اجازت کے بغیر اپنے غلام پراور اپنی باندی پر حد قاٸم نہ کرے۔




No comments:

Powered by Blogger.