Hajj ki wasiyat ka bayan
حج کی وصیت کا بیان
سوال : اگر اسلام کے حج کی وصیت کرے (تو) ورثہ پر کیا واجب ہوتا ہے ؟
جواب : ان پر واجب ہوتا ہے کہ وه اس کی طرف سے اس کے شہر سے کسی شخص کو حج کرنے کے لئے بھیجیں
١ (با شرطیکہ نفقہ حج تہائی ترکہ سے نکلتا ہو ) اور مامور اس طرف سے سوار ہو کر حج کرے پس اگر وصیت نفقہ کو نہ پہنچے تو اس کی طرف سے اس جگہ سے حج کے لیے بھیجیں جہاں سے
(وصیت نفقہ کو )
پہنچتی ہو ۔
سوال : اپنے شہر سے نکلا اس حال میں کہ حج کرنے والا ہے پس وہ راستے میں مر گیا اور اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے حج کرنے کے لئے بھیجا جائے تو اس صورت میں کہاں سے حج کرنے کے لئے بھیجنا واجب ہوتا ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کے شہر سے اس کی طرف سے حج کرنے کے لئے بھیجا جائے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جہاں وہ مرا ہے وہاں سے اس کی طرف سے حج کرنے کے لئے بھیجا جائے ۔
متفرق مسائل
(١)
مکاتب کی وصیت درست نہیں ہوتی اگرچہ وہ وفا (حقوق واجبہ کو پورا کرنے کے لائق مال) چھوڑ جائے
(٢)
وصیت سے رجوع کرنا موصی کے لیے جائز ہے پس جب وہ رجوع کی تصریح کرے (تو) وہ رجوع ہوگا اور اگر وہ وصیت کا انکار کرے (تو) رجوع نہیں ہوگا ۔
(٣)
مقررہ سالوں کے لئے اپنے غلام کی خدمت اور اپنے مکان کی رہائش کی وصیت کرنا جائز ہے جیسا کہ ہمیشہ کے لیے جائز ہوتی ہیں پس اگر غلام کی گردن تہائی سے نکلتی ہے تو (غلام) خدمت کے لیے مُوْصٰی لٙہُ کو سپرد کردیا جائے اور اگر (غلام) کے سوا (مُوْصٰی) کا کوئی مال نہ ہو (تو) وہ ورثہ کی دو دن اور مُوْصٰی لٙہ کی ایک دن خدمت کرے پس جب مُوْصٰی لٙہ مر جائے (تو) کامل طور پر ورثہ کی طرف لوٹ آئے گا ۔

No comments: