Hibah ka bayan
ہِبَہ کا بیان
وَاھِب: ہبہ کرنےوالا
مَوھُوب لَہُ: جس شخص کو ہبہ کیا گیا ہو
مَوھُوب: جو چیز ہبہ کی گٸی ہو
سوال : ہبہ کیا ہے؟
جواب : یہ عوض کے بغیر کسی چیز کا مالک بنانا ہے۔
سوال : اسکے دو رکن کون سے ہیں؟
جواب : اس کے دو رکن ایجاب اور قبول ہیں۔
سوال : کیا اس کےمکمل ہونے کے لیے ایجاب و قبول کے بعد کسی دوسری چیز کی ضرورت ہوتی ہے؟
جواب : اس کے مکمل ہونے کے لیے قبضہ کی ضرورت ہوتی ہے پس اگر مَوھُوب لَہُ مجلس میں قبضہ کر لے اگرچہ واہب کی اجازت کے بغیر(تو)جاٸز ہےاور اگر جدا ہونے کے بعد قبضہ کرے تو صحیح نہیں مگر یہ کہ واہب اسے قبضہ کرنے کی اجازت دے دے۔
سوال : اس ہبہ کے الفاظ کیا ہیں جن کے ساتھ واہب کی طرف سے ہبہ منعقد ہوتا ہے؟
جواب : ہبہ اسکے قول کے ساتھ منعقد ہوتا ہے کہ میں نے ہبہ کیا،میں نے عطیہ دیا،میں نے عطا کیا،میں نے آپ کو یہ کھانا کھلایا،میں نے یہ کپڑا آپکے لیے کردیا،میں نے یہ چیز آپ کو عمر بھر کے لیے دے دی اور میں نے آپکو اس جانور پر سوار کیا بشرطیکہ وہ سوار کرنے سے ہبہ کی نیت کرے۔
سوال : اس چیز میں ہبہ کا حکم کیا ہے جس کی تقسیم ہوتی ہو جبکہ وہ اس میں سے ایک حصہ ہبہ کرے؟
جواب : ہبہ اس چیز میں جاٸز نہیں جس کی تقسیم ہوتی ہو مگر جبکہ ہبہ کردہ حصہ تقسیم کردہ جمع کردہ ہو۔
سوال : کیا مشترک چیز کا ہبہ جاٸز ہے؟
جواب : مشترک چیز کا ہبہ جاٸز ہے جسکی تقسیم نہیں ہوتی جیسے غلام،غسلخانہ اور چکی۔
سوال : اگر مشترک حصہ ہبہ کر دیا اس میں سے جس کی تقسیم ہوتی ہے(تو)اس ہبہ کا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ ہبہ فاسد ہے پس اگر مشترک حصہ تقسیم کردے اور مَوھُوب لَہُ کو وہ حصہ سپرد کردےجو اس نے اسکو ہبہ کیا(تو)جاٸزہے۔
سوال : گندم میں موجود آٹا یا تِلوں میں موجود تیل ہبہ کیا(تو)اس ہبہ کا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ ہبہ فاسد ہے۔
سوال : پس اگر گندم پیس دے اور سپرد کردے تو کیا یہ ہبہ صحیح ہے؟
جواب : یہ نٸے عقد کے بغیر صحیح نہیں۔
سوال : آپ نے ذکر فرمایا کہ ہبہ قبضہ کرنے سے مکمل ہوتا ہے اور تحقیق ممکن ہے کہ چیز مَوھُوب لَہُ کے قبضہ میں ہبہ سے پہلے(موجود)ہو پس اب کیسے کیا جاۓ؟
جواب : اس کے سابقہ قبضہ کرنے پر اکتفا کیا جاۓ اور وہ محض عقدِ ہبہ سے مالک ہوجاۓگا اگرچہ اس نے اس میں نیا قبضہ نہیں کیااور اس جیسی وہ صورت ہے جب باپ اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کرے کیونکہ وہ نفسِ ہبہ سے موہوب کا مالک ہوجاتا ہےکیونکہ اس کا باپ قبضہ کرنے میں اس کی طرف سے ناٸب ہے۔
سوال : اجنبی نے چھوٹے بچے کو کوٸی چیز ہبہ کی(تو)یہ ہبہ کیسے مکمل ہوگا؟
جواب : جب اس کا والد قبضہ کر لے تو ہبہ مکمل ہو جاۓ گا کیونکہ وہ اس کا ولی ہے اور جب اس کا والد مر جاۓ اور اس(بچے)کا ولی(والد)کے سواہو پس وہ ولی اس ہبہ کردہ چیز)پر قبضہ کر لے توجاٸز ہے۔
سوال : یتیم اپنی ماں کی گود میں ہےپس ماں نے اس چیز پر قبضہ کیا جو یتیم کو ہبہ کی گٸی تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ جاٸز ہے بلکہ جب وہ یتیم ایسے اجنبی کی گود میں ہو جو اس کی تربیت کر رہا ہے پس اس نے اس(یتیم)کیلٸے قبضہ کیا(تب)بھی جاٸز ہے۔
سوال : کیا ہبہ مکمل نہیں ہوتا جب بچہ خود قبضہ کرے؟
جواب : ہبہ مکمل ہو جاتا ہے جب بچہ خود قبضہ کرے بشرطیکہ وہ سمجھ رکھتا ہو وگرنہ اس(شخص)کا قبضہ کرنا ضروری ہے جو اس کی تربیت کا انتظام کرتا ہے اس کے مطابق جو ابھی گزرا۔
سوال :دو شخصوں کا ایک شخص کو مکان ہبہ کرنے کا حکم اور ایک شخص کا دو شخصوں کو مکان ہبہ کرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : پہلی صورت میں ہبہ صحیح ہے اور دوسری صورت میں صحیح نہیں اور یہ(حکم)حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہےاور آپ کے صاحبین رحہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی صحیح ہے۔
سوال : کیا ہبہ میں عوض دینا صیح ہے؟
جواب : ہبہ عوض کی شرط کے ساتھ صحیح ہے اور دونوں عوضوں میں ایک ساتھ باہم قبضہ کرنے کا اعتبار کیا جاتا ہے۔پس جب وہ دونوں باہم قبضہ کرلیں تو عقد صحیح ہو جائے گا اور یہ (ہبہ)بیع کے حکم میں ہوگا پس اسے عیب اور خیار رؤیت کی وجہ سے رد کیا جائے گا اور شفہ اس میں ثابت ہوگا۔
سوال : ایک شخص کو باندی ہبہ کی اور اس کا حمل مستثنی کرلیا تو اس استشنا کا حکم کیا ہے؟
جواب : ہبہ اس صورت میں صحیح ہے اور استثناء باطل ہے۔
سوال : ہبہ میں رُجوع کا حکم کیا ہے؟
جواب : جب اجنبی کو ہبہ کرے تو اس میں رجوع کا(حق)ہے۔مگر جبکہ مٙوْھُوْب لٙہ اس (ہبہ)کا عوض دے یا موھوب لہ میں زیادت متصلہ کا اضافہ کردے اور رجوع اس میں اگرچہ ان شرطوں کے ساتھ جائز ہے مگر وہ سخت ترین کراہت یعنی کراہت تحریمی کے درجہ میں مکروہ ہے کیونکہ نبی پاکؐ نے فرمایا
"اپنے ہبہ میں رجوع کرنے والا کتے کی طرح ہے (جو)اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔ ہمارے لیے بری مثال نہیں ہونی چاہیے (یعنی ہمیں جانوروں کی گھٹیا صفات کی ساتھ متصف نہیں ہونا چاہیے)۔
سوال : آپ نے مسئلہ کو اجنبی کو ہبہ کرنے کے ساتھ مقید کیوں کیا؟کیا ہبہ میں رجوع جائز نہیں جب موھوب لہ رشتہ داروں میں سے ہو؟
جواب : جب وہ ذی رحم محرم کو ہبہ کرے تو اس میں رجوع جائز نہیں اور اسی طرح خاوند بیوی میں سے ایک دوسرے کو جو (چیز) ہبہ کرئے (تواس میں رجوع جائز نہیں)۔
سوال : تحیق آپ نے ذکر فرمایا کہ جب موھوب لہ ہبہ کا عوض دے تو اس میں رجوع صحیح نہیں پس اس عوض دینے کا مطلب کیا ہے جو رجوع سے روکتا ہے؟
جواب : اس کی صورت یہ ہے کہ موھوب لہ واہب سے کہے کہ یہ (چیز )اپنے ہبہ سے عوض کے طور پر یا اس سے بدل کے طور پر یا اس کے مقابلہ میں لیجئے پس جب وہ اسے عوض دے دے اور واہب اس پر قبضہ کرے تو رجوع سا قط ہوجائے گا اور اسی طرح جب کوئی اجنبی موھوب لہ کی طرف سے تبرع کرتے ہوئے اسے عوض دے اور واہب عوض پر قبضہ کرے(تب) بھی رجوع کا حق سا قط ہوجائے گا۔
سوال : موھوب لہ نے ہبہ کا عوض دیا پھر آدھے ہبہ میں حق ثابت ہوگیا (تو)کیا عوض کا مالک کسی چیز کے ساتھ رجوع کرتے؟
جواب : وہ آدھے عوض کے ساتھ رجوع کرئے۔
سوال : اگر آدھے عوض میں حق ثابت ہو جائے تو کیا واہب اپنے ہبہ میں رجوع کرے؟
جواب : واہب اس صورت میں کسی چیز کے ساتھ رجوع نہ کرے مگر یہ کہ وہ اس عوض کو واپس کر دے جو باقی رہ گیا ہے پھر پورے ہبہ میں رجوع کرے.
سوال : کیا رجوع کی صحت کیلئے شرائط لازم کی جاتی ہیں؟
جواب : رجوع صحیح نہیں ہوتا اس صورت میں جس میں رجوع جائز ہوتا ہے مگر دو امروں میں سے ایک (امر)کے ساتھ یا تو باہم عقد کرنے والے دونوں (شخصوں) کی باہم رضا مندی کے ساتھ یا قاضی کے فیصلہ کے ساتھ۔
سوال : ہبہ کردہ چیز ضائع ہوگئی پھر کوئی مستحق اس کا حقدار ہوگیا پس مٙوھُوْب لٙہ ضامن ہوگیا (تو) کیا (مُوْھُوْب لٙہ) کو (حق) ہے کہ واہب پر رجوع کرئے؟
جواب : وہ اس پر کسی چیز کے ساتھ رجوع نہ کرے
سوال : کیا فقیر کے مالک ہونے کیلئےصدقہ میں قبضہ کرنے کی شرط لازم کی جاتی ہے؟
جواب : صدقہ،ہبہ کی طرح ہے۔پس فقیر قبضہ کرنے کے بغیر مالک نہیں ہوتا اور ایسی مشترک (چیز) میں صدقہ جائز نہیں جو تقسیم کا احتمال رکھتی ہو۔
سوال : جب دو فقیروں پر ایک چیز کا صدقہ کرئے (تو) کیا یہ جائز ہے؟
جواب : جائز ہے۔
سوال : کیا صدقہ میں رُجوع صیح ہے؟؟
جواب : قبضہ کرنے کے بعد (صدقہ) میں رُجوع صحیح نہیں۔
سوال : ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک عُمری (وہ مکان یا زمین جس کو زندگی بھر کے لئے دیا جائے) اور رُقبی(کسی کو مکان وغیرہ اس شرط پر دینا کہ اگر میں تم سے پہلے مر جاؤں تو یہ مکان تمھارے لیے ہے اور تم مر گئے تو پھر میں واپسے لوں گا) کا حکم کیا ہے؟
جواب : عُمری جائز ہے اور یہ مُعٙمّٙرْ لٙہ کیلئے ہے اور اس کے بعد اس کے وٙرٙثٙہ کیلئے ہے اور حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمدؐ کے نزدیک رُقْبی باطل ہے اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔

No comments: