Hijre / Hijde / Common gender ka bayan

ہیجڑے کا بیان

سوال : جب بچہ میں فرج عورت کی شرمگاہ اور ذکر مرد کا عضو تناسل ہوں اور لوگ اس کا نام ہیجڑا رکھتے ہیں تو اس کے حق میں کیسے احکام کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اگر وہ ذکر سے پیشاب کرتا ہے تو وہ لڑکا ہے اور اگر فرج سے پیشاب کرتا ہے تو لڑکی ہے.

سوال : اگر دونوں سے پیشاب کرے تو کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : پیشاب کی طرف دیکھا جائے اگر ان دونوں راستوں میں سے ایک سے پیشاب نکلنا سبقت کرتا ہے تو اسی کی طرف منسوب کیا جائے اور اگر وہ یعنی پیشاب سبقت کرنے میں برابر ہے تو اسے اس راستہ کی طرف منسوب کیا جائے جو پیشاب کے اعتبار سے اکثر ہے یعنی جس راستہ سے زیادہ پیشاب آئے اس کی طرف اس کو منسوب کیا جائے یہ حکم ان دونوں یعنی صاحبین رحمھما اللہ تعالی کے نزدیک ہے اور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثرت کا اعتبار نہیں ہے.

سوال : کیا اس کے علاوہ کوئی دوسری علامت ہے جس کے ذریعہ پہچان ہو کہ وہ مرد ہے یا عورت؟

جواب : جب ہیجڑا بالغ ہو جائے اور اس کی داڑھی نکل آئے یا وہ عورت تک پہنچ جائے یعنی عورت سے صحبت کر سکے تو وہ مرد ہے اور اگر عورت کے پستانوں کی طرح اس کے پستان ظاہر ہو جائیں یا اس کے پستانوں میں دودھ اتر آئے یا اسے ماہواری خون جاری ہو جائے یا وہ حاملہ ہو جائے یا فرج کی جانب سے اس تک پہنچنا ممکن ہو تو وہ عورت ہے.

سوال : اگر ان علامات میں سے کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اس کے مردمی اور اس کی نسوانیت کا فیصلہ نہ دیا جائے اور کہا جائے کہ وہ خُنْثیٰ مُشَکِل ہے.

سوال : جب وہ نماز کے لیئے حاضر ہو تو یہ خنثیٰ مشَکل کس صف میں کھڑا ہو؟

جواب : یہ مردوں کی صف اور عورتوں کے درمیان کھڑا ہو اور لڑکے اس سے آگے کھڑے ہوں.

سوال : خنثی مشَکِل اپنے باپ کی میراث سے کیا حاصل کرتا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک وہ میراث کے حقدار ہونے میں لڑکی شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ جب میت بیٹا اور ہیجڑا چھوڑے تو مال ان دونوں کے درمیان تین حصوں پر تقسیم ہو گا بیٹے کے لئے دو حصے اور ہیجڑے کے لئے ایک حصہ مگر یہ کہ اس کے سوا ثابت ہو جائے.اور حضرت ابو یوسف اور حضرت محمد رحمھما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہیجڑے کے لئے لڑکے کی میراث کا آدھا اور لڑکی کی میراث کا آدھا ہے اور یہ حضرت شعبی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے.

سوال : حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ اور حضرت محمد رحمھما اللہ نے حضرت شعبی رحمہ اللہ کا قول لیا ہے تو کیا ان کے درمیان حضرت شعبی رحمہ اللہ کے قول کی شرح میں اختلاف ہے؟

جواب : جی ہاں ! صاحبین رحمھما اللہ نے حضرت شعبی کے قول کے قیاس میں اختلاف کیا ہے پس حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹے اور ہیجڑے کے درمیان مال کے سات حصے کیے جائیں,بیٹے کے لئے چار حصے اور ہیجڑے کے لئے تین حصے ہیں اور حضرت محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مال کو ان دونوں کے درمیان بارہ حصوں پر تقسیم کیا جائے,بیٹے کے لئے سات حصے اور ہیجڑے کے لئے پانچ حصے ہیں.

سوال : ہیجڑے کا ختنہ کون کرے؟

جواب : اس کے مال میں سے اس کے لئے باندی خریدی جائے وہ اس کا ختنہ کرے پس اگر اس کا مال نہ ہو تو حاکم بیت المال سے باندی خریدے پس جب وہ اس کا ختنہ کر لے تو حاکم اس باندی کو بیچ دے اور اس کا ثمن بیت المال میں لوٹا دے



No comments:

Powered by Blogger.