Jis k sath yameen munaqad hoti hy or jiske sath munaqid nahi hoti

جس کے ساتھ یمین منعقد ہوتی ہے اور جس کے ساتھ منعقد نہیں ہوتی

سوال : حلف کی اس صورت کو بیان کریں جس سےمسلمان شخص حالف شمار کیا جاتاہے؟

جواب : (مسلمان شخص) حالف شمارکیا جاتاہے جب وہ اللّٰه تعالٰى كى قسم کھاۓ یا (اللہ تعالی) کےناموں میں سے کسی نام کی (قسم کھاۓ) جیسے الرحمٰن اور الرحیم یا( اللّٰه تعالٰى) کی ذات کی صفات میں سے کسی صفت کی (قسم کھاۓ) جیسے اللّٰه تعالٰى کی عزت,اس کا جلال اور اس کی کبریائی مگر حالف کاقول "اللّٰه کے علم کی قسم" تویہ یمین شمارنہیں کیا جاتا

سوال : اگر قسم کھاتے ہوۓ کہے "اللہ تعالٰى کےغضب یا االلّٰه تعالٰى کی ناراضگی کی قسم" تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : وہ اس (قول) سے حالف نہیں بنے گا

سوال : اگر وہ کہے "اگر میں نے ایسا کیا تو مجھ پر اللہ تعالی کا غضب یا اس کی ناراضگی (نازل) ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : وہ اس صورت میں حالف نہیں ہے

سوال : اللّٰه تعالٰى کےساتھ اور آپ کے ناموں اور آپ کی صفتوں کےساتھ حلف کیسے ثابت ہوتا ہے؟

جواب : حلف,قسم کےان حروف کےساتھ ثابت ہوتاہے جو مَحْلُوْف بِهٖ پر داخل ہوتے ہیں

سوال : حروف قسم کیا ہیں اور کتنے ہیں؟

جواب : یہ تین حروف ہیں :واؤ جیسے اس کا قول :وَاللّٰہِ (قسم بخدا) , باء جیسے اس کا قول :بِاللّٰہِ (قسم بخدا)اور تاء کا قول جیسے تَاللّٰہِ (قسم بخدا) اور کبھی حروف (قسم)پوشیدہ کر دیئے جاتے ہیں پس وہ حالف ہو جاتاہےجیسے اس کا قول: اللّٰهِ لَاَفْعَلَنَّ كَذَا (قسم بخدا میں ایسا ضرور بالضرور کروں گا

سوال : اگر وہ کہےکہ "اللہ کے حق کی قسم" تو کیا وہ حالف ہوجاۓگا؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمة اللّٰه عليه فرماتے ہیں کہ وہ اس لفظ کے ساتھ حالف نہیں ہو گا 
(اور یہ امام محمد رضى اللّٰه كا قول اور امام ابو يوسف رضى اللّٰه کی ایک روایت ہے اور امام ابو یوسف کی دوسری روایت یہ ہے کہ یہ یمین ہے 
(ہدایہ )


سوال : ان أفعال کو بیان کیجیۓ جن کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے؟

جواب : جب وہ کہے:اُقْسِمُ يا اُقْسِمُ بِاللّٰهِ يا اَحْلَفُ يا اَحْلَفُ بِاللّٰهِ يا اَشْهَدُ يا اَشْهَدُبِاللّٰهِ تو وہ حالف ہے اسی طرح وہ اپنے (اس) قول سے حالف بن جاتا ہے وَعَهْدِاللّٰهِ وَمِيْثَاقِهٖ
(کہ اللّٰہ تعالٰی کے عہد اور اس کے میثاق کی قسم )

سوال : جب اللّٰه تعالٰى کے ساتھ قسم کھاۓ اور کہے ان شاء اللّٰہ تو کیا یہ یمین ہوگی؟

جواب : جب وہ اپنی قسم کے متصل اِنْ شَآءَاللّٰہُ کہے پھر وہ محلوف علیہ کا ارتکاب کرے تووہ حانث نہیں ہوگا.

سوال : اگر کہے کہ اگر میں نے ایسا کیا  تو میں یہودی یا نصرانی یا مجوسی یا مشرک ہوں تو کیا یہ یمین ہو گی؟

جواب : جی ہاں!یہ یمین ہے اوت کفارہ واجب ہو جائے گا جب وہ حانث ہو.

سوال : اگر کہے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو میں زانی یا شراب پینے والا یا سود خور ہوں تو کیا یہ قسم ہوگی؟

جواب : ان الفاظ کے ساتھ وہ حالف شمار نہیں کیا جاتا.

سوال اگر اللہ عزوجل کے غیر کی قسم کھائے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم,قرآن پاک اور کعبہ تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : وہ حالف نہیں ہو گا جب اللہ تعالی کے غیر کی قسم کھائے اور اللہ تعالی کے غیر کی قسم کھانا شرک ہے.

سوال : کسی شخص نے گناہ پر قسم کھائی مثلا کہا کہ قسم بخدا میں نماز نہیں پڑھوں گا یا میں اپنے باپ سے کلام نہیں کروں گا یا اس نے کہا کہ میں فلاں کو ضرور بالضرور قتل کروں گا تو کیا کرے؟

جواب : گناہ کا پختہ ارادہ گناہ ہے اور نافرمانی پر قسم کھانا نافرمانی کے اعتبار سے زیادہ سخت ہے اور اس کے کئے حلال نہیں کہ جو اس کے ساتھ قسم کھائے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے بلکہ اس پر واجب ہوتا ہے کہ وہ خود کو حانث بنائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے.

سوال : کسی شخص نے اپنے اوپر اس میں سے کسی شے کو حرام قرار دیا جس کا وہ مالک ہے تو کیا وہ شے حرام ہو جائے گی؟

جواب : وہ شے حرام نہیں ہو گی لیکن اگر وہ اس شے پر اقدام کرے تو اپنی قسم کا کفارہ دے.

سوال : اگر کہے کہ ہر حلال مجھ پر حرام ہے تو وہ اس سے کیا مراد لے؟

جواب : عرف کی وجہ سے اس سے کھانے کی چیز اور پینے کی چیز مراد لی جائے مگر کہ کہ وہ اس کے سوا کی نیت کرے.

سوال : اگر کافر قسم کھائے پھر وہ اپنے کفر کی حالت میں یا اپنے اسلام کے بعد حانث ہو جائے تو کیا کفارہ اس پر واجب ہوگا؟

جواب : اس کی قسم سفید شریعت میں معتبر قسم نہیں ہے پس اس پر کوئی شے واجب نہیں ہوگی جب وہ حانث ہو جائے.

سوال : کبھی کوئی شخص ایسے کام پر قسم کھاتا ہے جسے وہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مثلا وہ کہے کہ وہ ضرور بالضرور آسمان پر چڑھے گا یا وہ ضرور بالضرور اس پتھر کو سونے میں بدل دے گا تو کیا اس کی قسم منعقد ہو جائے گی اور قسم کے منعقد ہونے کے بعد حانث ہونے کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اس صورت میں اس کی قسم منعقد ہو جائے گی اور قسن کے متصل بعد وہ حانث ہو جائے گا

سوال : قسم کھائی کہ وہ ضرور بالضرور مثلا بصرہ آئے گا پس وہ بصرہ نہیں آیا  یہاں تک کہ وہ مر گیا تو کب حانث ہونے کا فیصلہ دیا جائے؟

جواب : اس کی زندگی کے آخری جزء میں اس کے حانث ہونے کا فیصلہ دیا جائے گا



No comments:

Powered by Blogger.