Kafalat ka bayan
کفالت کا بیان
کفالت:ضمانت
کفیل:ضامن
مکفول لہ: جس کو ضمانت دی جائے
مکفول عنہ: جس کی طرف سے ضمانت دی جائے
مکفول بہ :جس مال یا جان کی ضمانت دی جائے
سوال : کفالت کیا ہے؟
جواب : یہ مطالبہ میں (ایک کی) ذمہ داری کو (دوسرے کی) ذمہ داری کے ساتھ ملانا ہے.
سوال : کیا کفالت چند اقسام کی طرف منقسم ہوتی ہے؟
جواب : کفالت کی دو قسمیں ہیں
جان کی کفالت اور مال کی کفالت
سوال : جان کی کفالت کیسے منعقد ہوتی ہے؟
جواب : یہ منعقد ہوتی ہے اس کے قول کے ساتھ کہ میں فلاں کی جان یا اس کی گردن یا اس کی روح یا اس کے جسم یا اس کے سر یا اس کے نصف یا اس کی تہائی کا ضامن ہو گیااور اس کے قول کے ساتھ کہ میں اس کا ضامن ہو گیا.یا وہ میرے ذمہ ہے یا وہ میری جانب ہے یا میں اس کا زعیم(یعنی ضامن) ہوں یا میں اس کا قبیل( یعنی ضامن) ہوں
سوال : جان کی کفالت میں کفیل کو کیا لازم ہوتا ہے؟
جواب : مکفول بہ کو حاضر کرنا اسے لازم ہوتا ہے پس اگر کفالت میں معین وقت میں اسے حاضر کرنے کی شرط لگائے تو اسے حاضر کرنا اسے لازم ہوتا ہے جب مکفول لہ اس وقت میں اس سے مطالبہ کرے پس اگر وہ مطالبہ کے بعد اسے حاضر نہ کرے تو قاضی اسے قید کر لے یہاں تک کہ وہ اسے حاضر کرے.
سوال : کفیل جان کی کفالت سے کیسے آزاد ہو گا؟
جواب : وہ بری ہو جائے گا جب وہ ایسی جگہ میں مکفول بہ کو حاضر کرے کہ مکفول لہ اس سے جھگڑا کرنے پر قادر ہو جیسا کہ وہ مکفول بہ کے مرنے سے بری ہو جاتا ہے.
سوال : ضامن ہوا کہ وہ اسے قاضی کی مجلس میں سپرد کرے گا اور اس نے اسے بازار میں یا جنگل میں سپرد کر دیا تو کیا وہ اپنی ضمانت سے بری ہو جائے گا؟
جواب : وہ بری ہوجاۓگا جب وہ اسے بازار میں سپرد کرے اور بری نہیں ہوگا جب وہ اسے جنگل میں سپرد کرے ۔
سوال : ( کسی )کی جان کا ضامن ہوا اس شرط پر کہ اگر وہ اسے نہ لایا تو وہ اس (مال )کا ضامن ہے جو اس کے ذمہ ہے پس اس نے اس وقت میں اسے حاضر نہیں کیا جو اس نے مقرر کیا تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : مال کا ضمان اسے لازم ہو گیا اور وہ جان کی کفالت سے بری نہیں ہوا ۔
سوال : حدود اور قصاص میں جان کی کفالت کا حکم کیا ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رح کے نزدیک حدود اور قصاص میں جان کی کفالت جائز نہیں ۔
سوال : مال کی کفالت کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : وہ یہ ہے کے انسان کسی شخص کی طرف سے کفیل ہو کہ وہ مال ادا کرے گا جو اس کے ذمہ ہے اس کو جس کا حق ہے اور یہ شریعت میں جائز ہے اور برابر ہے کہ مٙکفُول بِہ یعنی مال معلوم یا مجہول بشرطیکہ دٙین صحیح (دین صحیح جیسے سامان فروختگی کا ثمن جنایت کی دیت ، ہلاک کردہ شے کی قیمت قرض اور مہر دین صحیح کی قید سے بدل کتابت سے احتراز مقصود ہو)ہو.
سوال : کفیل ہونے کے الفاظ کیا ہیں ؟
جواب : وہ یہ ہے کہ مثلاً میں اس کی طرف سے ہزار درہم کا کفیل ہو گیا یا میں اس (دٙین ) کا کفیل ہوگیا جو آپ کےلیے اس کے ذمہ ہے یا (میں ) اس چیز کا (کفیل ہو گیا ) جو آپ کو اس بیع میں لاحق ہو ۔
سوال : جب کوئی شخص کفیل ہوجاۓ تو کیا مکفول لہ کیلئے جائز ہے کہ وہ مکفول عنہ سے مطالبہ کرے ؟
جواب : مکفول لہ با اختیار ہے اگر چاہے اس سے مطالبہ کرے جس کے ذمہ دین ہے اور اگر چاہے کفیل سے مطالبہ کرے ۔
سوال :کیا کفالت کو شروط کے ساتھ معلق کرنا جائز ہے ؟
جواب : جی ہاں ! یہ جائز ہے مثلا یوں کہے کہ آپ فلاں سے عقد بیع کریں تو وہ میرے ذمہ ہے یا جو آپکے لیۓ اس کے ذمہ ثابت ہو تو وہ میرے ذمہ ہے یا فلاں آپ سے جو (چیز ) چھینے تو وہ میرے ذمہ ہے ۔
سوال : (کسی) نے کہا کہ میں کفیل ہوگیا اس چیز کا جو آپکے لیۓ اس کے ذمہ ہے پھر کفیل اور مکفول عنہ نے دین کی مقدار میں اختلاف کیا تو انکے درمیان کیسے فیصلہ دیا جاۓ ؟
جواب : بینہ کے ساتھ فیصلہ دیا جائے پس جب مکفول عنہ کے خلاف مثلا ہزار (درہم )کے ساتھ بینہ قائم ہوجائے تو کفیل اس ہزار کا ضامن ہوگا ۔
سوال : اگر بینہ قائم نہ ہو ؟
جواب : پس معتبر قول اس وقت اس بارے میں کفیل کا قول اس کی قسم کے ساتھ ہے اس مقدار میں جس کا اعتراف کرتا ہے ۔
سوال : اگر مکفول عنہ اس سے زیادہ کا اعتراف کرتا ہے جو کفیل بیان کرتا ہے تو کیا اس بارے میں( مکفول عنہ) کی تصدیق کی جاۓگی ؟
جواب : اس کی ذات کے خلاف اس کی تصدیق کی جاۓ گی اور کفیل کے خلاف اس کی تصدیق نہیں کی جاۓ گی ۔
سوال : کیا کفالت مکفول عنہ کے حکم کے بغیر جائز ہے ؟
جواب : کفالت مکفول عنہ کے حکم کے ساتھ اور اس کے حکم کے بغیر جائز ہے لیکن جب وہ اس کے حکم کے ساتھ کفیل بنے (تو ) وہ مکفول عنہ پر رجوع کرے گا اس چیز کے ساتھ جو وہ ادا کرے گا اور اگر وہ اس کے حکم کے بغیر کفیل بنے تو وہ اس پر کسی چیز کے ساتھ رجوع نہیں کرے گا ۔
سوال : کیا مال کے بارے میں کفیل کا مطالبہ کرنا صحیح ہے ؟
جواب : (مال ) ادا کرنے سے پہلے صحیح نہیں پس جب وہ اس کو ادا کرے (تو ) اس کے لیۓ جائز ہے کہ وہ اس سے مطالبہ کرے ۔
سوال : ایک شخص عمرو کی طرف سے کفیل ہوگیا اور قرض خواہ اسکے ساتھ گھومنے لگا (تو ) کفیل کیا کرے ؟
جواب ؛ وہ مکفول عنہ کے ساتھ گھومے یہاں تک کہ مکفول عنہ اسے مطالبہ سے چھڑادے ۔
سوال : قرض خواہ نے مکفول کو بری کر دیا یا اس سے اپنا حق وصول کر لیا تو کیا کفیل کی کفالت میں سے کوئی چیز باقی رہ جاتی ہے ؟
جواب : کفیل اس صورت میں کفالت سے بری ہوگیا اور کوئی چیز اس کے ذمہ باقی نہیں ۔
سوال : اگر قرض خواہ کفیل کو بری کر دے (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : کفیل بری ہوجاۓ گا اور مکفول عنہ بری نہیں ہوگا ۔
سوال : کیا کفالت سے براءت کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنا جائز ہے ؟
جواب : جائز نہیں( ١) یعنی شرط سے معلق براءت باطل ہوجاتی ہے اور کفالت اپنی اصل پرباقی رہتی ہے
سوال : جب کوئی کفیل خریدار کی طرف سے یا فروخت کنندہ کی طرف سے کفیل ہوجاۓ (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جب وہ خریدار کی طرف سے ثمن کا کفیل ہو (تو ) جائز ہے اور جب فروخت کنندہ کی طرف سے مبیع کا کفیل ہو (تو) صحیح نہیں ۔
سوال : ایک شخص نے بار برداری کے لیۓ جانور کرایہ پر لیا پس کوئی شخص بار برداری کا کفیل ہوگیا تو کیا یہ کفالت صحیح ہوتی ہے ؟
جواب : اگر جانور معین ہے تو کفالت صحیح نہیں اور اگر غیر معین ہے (تو) جائز ہے ۔
سوال : کیا کفالت کی صحت کے لیۓ مکفول لہ کے قبول کی شرط لازم کی جاتی ہے ؟
جواب : کفالت عقد کی مجلس میں مکفول لہ کے قبول کرنے کے بغیر صحیح نہیں ہوتی مگر ایک مسئلہ میں اور وہ یہ ہے کہ مریض اپنے وارث سے کہے کہ میری طرف سے اس دین کا کفیل ہوجائیے جو میرے ذمہ ہے پس وہ قرض خواہوں کی عدم موجودگی کے باوجود اس ( دین ) کا کفیل ہوگیا تو تحقیق یہ جائز ہے ۔
سوال : دو شخصوں نے قرض لیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا کفیل ہوگیا پس ان دونوں میں سے ایک نے (قرض) ادا کر دیا تو کیا اس کے لیۓ جائز ہے کہ وہ اپنے ساتھی پر اس (قرض )کے ساتھ رجوع کرے جو اس نے ادا کیا ؟
جواب : وہ اپنے ساتھی پر اس قرض کے ساتھ رجوع نہ کرے جو اس نے ادا کیا یہاں تک کہ وہ اس قرض سے زائد دے دے جو اسکے ذمہ ہے ۔
سوال : دو شخص ایک شخص کی طرف سے ہزار (درہم) کے کفیل ہوے اس شرط پر کے ان دونوں میں سے ایک نے کجھ (قرض) یا تمام (قرض) ادا کر دیا (تو) کیا وہ اپنے شریک پر رجوع کرے ؟
جواب : جی باں ! وہ اپنے شریک پر اس ( قرض ) کے آدھے کے ساتھ رجوع کرے جو اس نے ادا کیا تھوڑا ہو یا زیادہ ۔
سوال : کیا کتابت کے مال کے ساتھ کفالت جائز ہے ؟
جواب : جائز نہیں برابر ہے کے آزاد یا غلام اس (مال) کا کفیل بنے کیونکہ (کتابت کا مال ) دین صحیح نہیں
سوال : ایک شخص مر گیا اس حال میں کے اس کے ذمہ دُیون ہیں اس نے کوئی چیز (وراثت میں) نہیں چھوڑی پس کوئی اس کی طرف قرض خواہوں کے لیۓ کفیل ہوگیا ( تو ) کیا یہ کفالت صحیح ہوتی ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رح کے نزدیک یہ کفالت صحیح نہیں ہوتی اور آپ رح کے صاحبین رح کے نزدیک صحیح ہوتی ہے ۔

No comments: