Laqeet ka bayan
لَقِیْط کا بیان
سوال : بچہ یا بچی، ان دونوں میں سے ایک پھینکا ہوا پایا گیا (تو) وہ کیسے کرے جو انہیں پائے؟
جواب : وہ اسے اسکی جگہ سے اٹھا لے تاکہ وہ ضائع نہ ہو اور وہ ہلاک ہونے سے محفوظ ہو جائے۔ اور اسکا نام لَقِیْط رکھا جاتا ہے اس وجہ سے کہ اسے زمین سے اٹھالیا گیا۔
سوال : جب اسے وہ (شخص) اٹھا لے جو اسے دیکھے (تو) کون اس (لَقِیْط) پر خرچ کرے؟
جواب : اس پر بیت المال سے خرچ کیا جائے۔
سوال : ایک شخص نے اسے زمین سے اٹھا لیا تو کیا دوسرے شخص کے لیے (جائز) ہے کہ وہ اسے اس سے لے لے؟
جواب : یہ اس کے لیے (جائز) نہیں۔
سوال : اگر کوئی دعویٰ کرنے والا دعویٰ کرے کہ وہ (لقیط) اسکا بیٹا ہے تو کیا اسکا قول قبول کیا جائے؟
جواب : جی ہاں! قسم کے ساتھ اسکا قول قبول کیا جائے۔
سوال : اگر دو شخص آئیں، ان دونوں میں سے ہر ایک دعویٰ کرے کہ وہ (لقیط) اس کا بیٹا ہے تو ان دونوں کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اگر ان دونوں میں سے ایک اس کے بدن میں کوئی علامت بیان کر دے (تو) وہ اسکا زیادہ حقدار ہے اور اگر ان دونوں میں سے کوئی (بھی) علامت بیان نہ کرے تو وہ ان دونوں کا بیٹا ہے اور اگر ان دونوں میں سے ایک کا دعویٰ سبقت کر جائے تو وہ اسکا بیٹا ہے۔
سوال : ایک بچہ مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں یا ان کی بستیوں میں سے کسی (بستی) میں پایا گیا پس ذمی نے دعویٰ کیا کہ وہ اسکا بیٹا ہے (تو) کیا اس (لقیط) کا نسب اس (ذمی) سے ثابت ہو جائے گا؟
جواب : نسب اس سے ثابت ہو جائے گا لیکن لقیط کے اسلام کا فیصلہ دیا جائے گا کیونکہ وہ دار الاسلام میں پایا گیا۔
سوال : اگر وہ (لقیط) اہلِ ذمہ (یعنی ذمی لوگوں) کی بستیوں میں سے کسی بستی میں یا یہود کے کلیسا میں یا عیسائیوں کے گرجا میں پایا جاۓ (تو) اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : وہ اس صورت میں ذمی ہے۔
سوال : ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ لقیط اس کا غلام یا اس کی باندی ہے (تو) کیا اس کا قول قبول کیا جائے؟
جواب : قبول نہ کیا جائے کیونکہ وہ آزاد لوگوں میں سے ہے۔
سوال : غلام نے دعویٰ کیا کہ وہ (لقیط) اسکا بیٹا ہے (تو) کیا اس کا دعویٰ قبول کیا جائے؟
جواب : اس کا قول قبول کیا جائے لیکن لقیط آزاد لوگوں میں سے شمار کیا جائے۔
سوال : لقیط کے ساتھ مال پایا گیا جو اس پر باندھا گیا ہے (تو) یہ مال کس کے لئےہو گا؟
جواب : وہ لقیط کا مال ہے کیونکہ وہ اس کے قبضہ میں ہے اور وہ (لقیط) اہلِ مِلک میں سے ہے۔
سوال : ایک شخص نے لقیط کو زمین سے اٹھایا پھر اس نے اس کا نکاح کرانا یا اس کے مال میں تصرف کرنا چاہا (تو) کیا یہ اس کے لیے (جائز) ہے؟
جواب : مُلْتَقِط کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس (لقیط) کا نکاح کرائے اور (جائز) نہیں کہ اس کے مال میں تصرف کرے لیکن اسے اس (لقیط) کے مال میں سے اس پر خرچ کرنے اور اس (چیز) کو خریدنے کی ولایت (حاصل) ہے جو (چیز) اس (لقیط) کے لیے ضروری ہے جیسے خوراک اور پوشاک۔
سوال : اگر کوئی شخص (لقیط) کو کوئی (چیز) ہبہ کرے (تو) کون اس پر قبضہ کرے؟
جواب : مُلتَقِطْ اس پر قبضہ کرے۔
سوال : کیا مُلتَقِط کے لیے جائز ہے کہ وہ لقیط کو کسی پیشہ میں سپرد کرے یا اسے کسی کام میں مزدور بنائے؟
جواب : یہ اس کے لیے جائز ہے۔

No comments: