Mashroobat ka bayan
مشروبات کا بیان
سوال : کون سا مشروب کہ اس کا پینا حرام ہوتا ہے؟
جواب : حرام قرار دئیے گئے مشروبات چار ہیں
شراب اور وہ کچے انگور کا شیرہ ہے جب وہ جوش مارے اور سخت ہو جائے(سخت ہونے سےمراد مدہوش کرنے کے لائق ہونا ہے)اور جھاگ پھینکے(حضرت امام ابو یوسف و حضرت امام محمد رحمھما اللہ جھاگ پھینکنے کی شرط لازم نہیں کرتے,امام مالک,امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا مسلک بھی یہی ہے,حضرت ابو حفص الکبیر رحمہ اللہ نے اسی قول کو لیا ہے اور یہی قول اظہر ہے)
انگور کا شیرہ جب اسے پکایا جائے یہاں تک کہ اس کے دو تہائی سے کم جل جائے
کھجور کا نقیع(پانی میں کشمش یا کھجور ڈال دی جائے تا کہ وہ تر ہو جائے اور مٹھاس پانی میں آجائے تو ایسے مشروب کو "نقیع"کہتے ہیں
سوال : کھجور اور کشمش کے نبیذ میں آپ کا قول کیا ہے جب ان میں سے ہر ایک کو پکایا جائے؟
جواب : وہ حلال ہے جب اسے معمولی سا پکایا جائے اگرچہ وہ جوش مارے بشرطیکہ وہ لہو و مستی کے نبیذ اس میں سے اتنی مقدار پئے کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ اسے مدہوش نہیں کرے گی.
سوال : خلیطین(مراد کھجور اور کشمش کا پانی ہے جب ان کو آپس میں ملا دیا جائے اس کے بعد ان کو ہلکا سا پکایا جائے اور چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ جوش مارے اور سخت ہو جائے) کا حکم کیا ہے؟
جواب : وہ حلال ہے
سوال : شہد, انجیر, گندم, جو اور مکئی کے نبیذ کا حکم کیا ہے اگر اسے نہ پکایا جائے؟
جواب : وہ حلال ہے(امام محمد رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا نبیذوں کی قلیل اور کثیر کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے اور اسی قول پر فتوی دیا جاتا ہے,بزازیہ میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو چیز نشہ آور ہو اس کی کثیر اور قلیل مقدار حرام ہے اور ناپاک بھی ہے.اگر اس کے پینے سے مست ہو جائے تو ہمارے زمانے میں مختار قول یہ ہے کہ اسے حد لگائی جائے اور شیخین اور امام محمد رحمھم اللہ کا یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب ان کے استعمال سے قوت حاصل کرنا مقصود ہو اگر ان کو لہو ومستی کے طور پر استعمال کیا جائے تو بالاجماع حرام ہے.بھنگ,افیون وغیرہ کا کھانا حرام ہے اور ان میں حد نہیں تعزیر ہے) پکایا گیا ہو یا نہ پکایا گیا ہو بشرطیکہ اسے لہو و مستی کے لئے نہ پیا جائے.
سوال : انگور کے شیرے کا کیا حکم ہے جب اسے پکایا جائے یہاں تک کہ اس کا وہ تہائی جل جائے؟
جواب : وہ حلال ہے اگرچہ سخت ہو جائے.
سوال : شراب کا حکم کیا ہے جب وہ سرکہ بن جائے یا اس کا سرکہ بنا دیا جائے؟
جواب : شراب از خود یا ایسی شے سے سرکہ بن جائے جو اس میں ڈال دی گئی ہو تو اس کا سرکہ کھانا حلال ہے
سوال : شراب کا سرکہ بنانے کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کا سرکہ بنانا جائز ہے.
سوال : کیا دبّاء(کدو کے برتن) حنْتُم ( سبز گھڑے) مزّفْت (تار کول لگائے ہوئے برتن) اور نَقیرْ(کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) میں نبیذ بنانے کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان برتنوں میں نبیذ بنانا جائز ہے اور البتہ تحقیق ان (برتنوں کے استعمال) سے روکا گیا پھر رخصت دے دی گئی

No comments: