Mosa Lahu ka bayan

موصیٰ لہ کا بیان

سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ وصیت تہائی یا اس سے کم کے سوا کی جائز نہیں ہوتی اور یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی شخص کیلیئے اپنے تہائی مال کی اور دوسرے کیلئیے بھی اپنے تہائی مال کی وصیت کی اور ورثہ نے جائز قرار نہیں دیا تو یہ وصیت کیسے نافذ ہوگی؟

جواب : اس کو نافذ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان تہائی کو آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے

سوال : اگر ان دونوں میں سے ایک کے لئیے تہائی کی اور دوسرے کیلیئے چھٹے حصے کی وصیت کرے تو ان کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : ان دونوں کے درمیان تہائی کا فیصلہ تین تہائیوں میں دیا جائے یعنی تہائی والے کو تہائی کی دو تہائیاں اور دوسرے یعنی چھٹے حصے والے کو تہائی کی ایک تہائی دی جائے

سوال : اگر ان دونوں میں سے ایک کے لئیے اپنے تمام مال کی اور دوسرے کے لئیے تہائی مال کی وصیت کرے اور ورثہ جائز قرار نہ دیں تو ان دونوں کے درمیان تہائی کو کیسے تقسیم کیا جائے؟

جواب :  حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تہائی ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمھما اللہ کہ تہائی ان دونوں کے درمیان چار حصوں پر منقسم ہے تمام مال والے کے لئیے تین حصے اور تہائی مال والے کے لئیے ایک حصہ ہے

سوال :  کیا حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی مختلف صورتوں میں سے کسی صورت میں موصیٰ لہ کو تہائی سے زائد دیتے ہیں؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک موصی لہ کو تہائی سے زائد نہ دیا جائے مگر محابات
سعایہ اور دراھم مرسلہ میں تہائی سے زائد دیا جائے
محابات کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کے دو غلام ہیں ایک کی قیمت گیارہ سو دراہم اور دوسرے کی قیمت چھ سو درہم ہے مالک نے وصیت کی کہ ایک غلام کسی کو سو درہم کے عوض اور دوسرا غلام کسی دوسرے کو سو درہم کے عوض فروخت کیا جائے تو اس صورت میں ایک کو ہزار اور دوسرے کو پانچ سو محابات حاصل ہو گئی اور یہ سب کچھ وصیت ہے کیونکہ حالت مرض میں ہے پس اگر اس کا کل ترکہ یہی دو غلام ہوں اور ورثہ اس وصیت کو جائز قرار نہ دیں تو تہائی کے بقدر محابات جائز ہو گی پس وہ تہائی تین تہائیوں میں تقسیم ہوگی.اور وصیت کے مطابق ہزار والے موصیٰ لہ کو ہزار اور دوسرے موصی لہ کو پانچ سو دئیے جائیں گے تو جس کو ہزار کی محابات حاصل ہے وہ تہائی کی دو تہائیاں لے گا اور جس کو پانچ سو کی محابات حاصل ہت وہ تہائی کی ایک تہائی لے گا کیونکہ ہزار,پندرہ سو کی دو تہائیاں ہے
سعایہ کی صورت یہ ہے کہ اپنے دو غلاموں کو آزاد کرنے کی وصیت کی ایک کی قیمت ایک ہزار اور دوسرے کی قیمت دو ہزار ہے اور کل ترکہ یہی دو غلام ہیں پس اگر ورثہ اس وصیت کو ناجائز قرار دیں تو دونوں غلام تہائی مال سے آزاد ہوں گے اور تہائی مال ایک ہزار ہے پس یہ ہزار وصیت کے مطابق ان میں تقسیم ہوگا,دو ہزار کی قیمت والے غلام کو ہزار کی دو تہائیاں اور ایم ہزار کی قیمت والے غلام کو ہزار کی ایک تہائی ملے گی اور یہ دونوں غلام اپنے باقی حصے میں کمائی کریں گے
دراہم مرسلہ جن میں تہائی یا آدھے وغیرہ کی کوئی قید نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ زید کیلئیے تیس درہم اور عمرو کے لئیے ساٹھ درہم کی وصیت کی اور کل مال نوے درہم ہے تو یہ وصیت تہائی مال میں نافذ ہو گی اور زید و عمرو کو اس کی وصیت کے موافق کل ترکہ کی تہائی میں سے دیا جائے گا

سوال : کسی شخص کے لئے اپنے تہائی درہموں یا اپنی تہائی بکریوں کی وصیت کی پس ان درہموں یا بکریوں کی وہ تہائیاں ہلاک ہو گئیں تو موصیٰ لہ کیا لے گا؟

جواب : اگر یہ باقی تہائی اس کے اس مال کی تہائی سے نکلتی ہے جو باقی رہ گیا تو اس کے لئے وہ تمام دراہم یا بکریاں ہیں جو باقی رہ گئیں

سوال : اپنے کپڑوں کی تہائی کی وصیت کی پس ان کپڑوں کی دو تہائیاں ہلاک ہو گئیں اور ان کی ایک تہائی باقی رہ گئی اس حال میں کہ وہ تہائی اس کے اس مال کی تہائی سے نکلتی ہے جو باقی رہ گیا تو موصیٰ لہ کس کا مستحق ہوگا؟

جواب : وہ صرف اس کے ان کپڑوں کی تہائی کا مستحق ہو گا جو باقی رہ گئے(مشائخ عظام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم تب ہے جب کپڑے مختلف جنسوں سے ہوں اگر ایک جنس سے ہوں تو کپڑے دراہم کے حکم میں ہیں اور اسی طرح کَیلی اور وزنی اشیاء بھی دراہم کے حکم میں ہیں)

سوال :  کسی شخص کے لئیے ہزار درہم کی وصیت کی اس حال میں کہ اس کے پاس کچھ نقد اور کچھ دوسروں کے ذمے قرض کا مال ہے تو موصی لہ کیلیئے موصی کے مال میں سے کیسے تقسیم کیا جائے؟

جواب : اگر ہزار نقد کی تہائی سے نکلتا ہے تو وہ ہزار موصی کہ کو دے دیا جائے اور اگر نہیں نکلتا تو اسے نقد  کی تہائی دی جائے اور جب بھی قرض حاصل ہو تو وہ اس کی تہائی لے لے یہاں تک کہ وہ ہزار وصول کر لے

سوال : کیا حمل کے لئیے وصیت جائز ہے؟

جواب : جائز ہے

سوال : کیا حمل کی وصیت جائز ہے؟

جواب : جائز ہے بشرطیکہ وہ حمل وصیت کے دن سے چھ ماہ سے کم مدت میں وضع کیا جائے

سوال : کسی شخص کیلیئے باندی کی وصیت کی اور اس کے حمل کا استثنا کیا تو اس وصیت کا حکم کیا ہے؟

جواب : وصیت  درست ہے اور استثناء درست ہے

سوال : کسی شخص کیلئیے باندی کی وصیت کی اور اس کے ولد کے بارے میں خاموش رہا پا باندی نے موصی کی موت کے بعد ولد جنا قبل اس کے کہ موصی لہ وصیت قبول کرے پھر اس نے اس کے بعد وصیت قبول کی تو کیا اس کے لئے صرف باندی ہے یا وہ باندی اس کے لئے اپنے ولد سمیت ہے؟

جواب : اگر ماں اور اس کا ولد دونوں تہائی سے نکلتے ہوں تو وہ دونوں موصی لہ کیلئیے ہیں اور تہائی سے نہیں نکلتے تو حضرت ابو یوسف وحضرت محمد رحمھمااللہ کے نزدیک اسے تہائی دی جائے اور وہ ان دونوں یعنی باندی اور اس کے ولد میں سے حصہ لے اور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تہائی مال میں سے پس اگر تہائی میں سے کچھ باقی رہ جائے تو ولد میں سے لے

سوال : فلاں کی اولاد یا فلاں کے ورثہ کیلئیے وصیت کی تو ان میں کیسے تقسیم کی جائے؟

جواب : پہلی صورت میں ان میں لڑکے اور لڑکی کیلئیے برابر تقسیم کی جائے اور دوسری صورت میں وراثت  کے طریقے پر تقسیم کی جائے یعنی لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے

سوال : زید اور عمرو کے لئیے اپنے تہائی مال کی وصیت کی تو اچانک معلوم ہوا کہ عمرو مردہ ہے تو تہائی مال کیسے تقسیم کیا جائے؟
 
جواب : اس صورت میں تقسیم نہیں ہے اور کل تہائی زید کے لئیے ہے


سوال : اگر کہے کہ میرا مال تہائی زید اور عمرو کے درمیان منقسم ہے اس حال میں کہ زید مردہ ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : عمرو کیلیے آدھی تہائی ہو گی

سوال : اپنے تہائی مال کی وصیت کی حالانکہ اسکے پاس مال نہیں ہے پھر اس نے کمائی کی تو موصی لہ کس کا مستحق ہوگا؟

جواب : موصی لہ اس مال می تہائی کا مستحق ہو گا موصی موت کے وقت جس کا مالک ہوگا

سوال : موصی لہ موصی کی زندگی میں مر گیا تو وصیت کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس صورت میں وصیت باطل ہوگئی

سوال : اگر اپنے بیٹے کے حصے کی مثل کی وصیت کرے تو اس وصیت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ وصیت جائز ہے پس اگر موصی کے دو بیٹے ہوں تو ان دونوں کے لئے دو تہائیاں اور موصی لہ کے لئے ایک تہائی ہے

سوال : کسی شخص نے اپنے مال کے کسی حصے کی وصیت کی اور حصے کی تعیین نہیں کی تو موصی لہ کس کا مستحق ہو گا؟

جواب : وہ ورثہ کے حصوں میں سے کم تر حصے کا مستحق ہو گا مگر یہ کہ وہ حصہ چھٹے حصے سے کم نہ ہو پس اس کے لئے چھٹا حصہ مکمل ہوگا

سوال : اگر اپنے مال کے کسی جزء کی وصیت کرے تو موصی لہ کو کیا حاصل ہوگا؟

جواب : ورثہ سے کہا جائے گا کہ اسے دو جو تم چاہو اور اس کے لئے وہ ہے جو وہ اسے دیں

سوال : اپنے پڑوسیوں کے لئے وصیت کی تو ان میں سے کون موصی بہ مال کا مستحق ہوگا

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک پڑوسی وہ ہیں جو متصل ہیں پس وہ موصی بہ مال کے مستحق ہوں گے.

سوال : اپنے اصہار یعنی سسرال والوں کو اور اختان یعنی دامادوں کے لئیے وصیت کی تو لفظ صہر اور لفظ ختن کس پر صادق آتا ہے؟

جواب : جب اپنے سسرال والوں کے لئیے وصیت کرے تو یہ اس کی بیوی کے ہر ذی رحم محرم کے لئیے وصیت ہے اور جب اپنے دامادوں کے لئیے وصیت کرے تو یہ اس کی ہر ذی رحم خاتون کے شوہر کے لئیے وصیت ہے

سوال : اپنے رشتہ داروں کے لئیے وصیت کی تو اس وصیت میں کون داخل ہوگا؟

جواب : اس وصیت میں اس کے ہر ذی رحم محرم میں سے زیادہ تر قریبی رشتہ دار پھر زیادہ قریبی رشتہ دار داخل ہو گا اور ان میں والدین اور ولد داخل نہیں ہوں گے اور یہ مال وصیت دو یا زیادہ کے لئیے ہو گا

سوال : جب رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے اس حال میں کہ اس کے دو چچے اور دو ماموں ہیں تو جس کی وصیت کی گئی کون اس کا مستحق ہوگا؟

جواب : یہ وصیت دونوں چچوں کے لئے معتبر ہوگی

سوال : اگر اس کا ایک چچا اور دو ماموں ہوں تو ان کے استحقاق کا حکم کیا ہے؟

جواب : چچا کے لئیے آدھا اور دونوں ماموں کے کئیے آدھا ہے اور یہ حکم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمھم اللہ کے نزدیک جب وہ رشتہ داروں کے لئیے وصیت کرے تو وصیت ہر اس شخص کو شامل ہو گی جو اسلام میں اس کے آخری باپ کی طرف منسوب ہو





No comments:

Powered by Blogger.