Nasab ke Saboot ka bayan
نسب کے ثبوت کا بیان
سوال : اولاد کا نسب اپنے آباء سے کیسے ثابت ھوتا ھے؟
جواب : ایک مرد نے کسی خاتون سے نکاح کیا اور وہ قمری چھ ماہ یا اس سے زائد مدت میں ولد لائی تو اس (ولد) کا نسب اس (مرد) سے ثابت ھو گا بشرطیکہ شوہر اس (نسب) کا اعتراف کرے یا خاموش رھے اور اگر وہ اپنے نکاح کرنے کے دن کے وقت سے چھ ماہ سے کم (مدت) میں ولد لائی تو اس کا نسب اس سے ثابت نھیں ھو گا
سوال : تحقیق ممکن ھے کے عورت نے زنا کیا ھو اور یہ حمل اس(فعل) سے ظاہر ھوا ھو تو اس (حمل) کا نسب اس کے شوہر سے کیسے ثابت ھو گا؟
جواب : شوہر سے نسب ثابت ہو گا اور اس بارے میں اس جیسے احتمال کی طرف نہیں دیکھا جاۓ گا یہاں تک کہ اگر اس نے حقیقت میں زنا کیا ہو تو نسب شوہر سے ثابت ہو گا بشرطیکہ مدت اس کا احتمال رکھتی ہو. رسول اللہ صل اللہ علیہ نے فرمایا: "ولد(صاحب) فراش(یعنی شوہر) کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر (یعنی محرومی) ہے"
. ١
اَللَّھُمَّ اِلاَّ یہ کہ عورت کا شوہر اپنی ذات سے اس (حمل) کے نسب کی نفی کر دے تو لِعان کا فیصلہ دیا جائے گا اور لِعان کا مطلب اور اس کی کیفیت (کا بیان) عنقریب (لعان) کے باب میں آ رہا ہے انشاءاللہ تعالیٰ
سوال : کسی خاتون نے ولد جنا اور اس کا شوہر ولادت کا انکار کرتا ہے (تو) ولادت کیسے ثابت ہو گی؟
جواب : اس (خاتون) کے جننے کے بارے میں ایک خاتون کی گواہی سے (ولادت) ثابت ہو جائے گی
سوال : تحقیق آپ نے اس شوہر سے نسب کے ثابت ہونے میں شرعی حکم ذکر فرمایا جس نے طلاق نہیں دی تو اس شوہر سے نسب کے ثابت ہونے میں تفصیل کیا ہے جس نے (بیوی) کو طلاق دے دی؟
جواب اس میں تفصیل ہے اور اسے یاد کیجیۓ جیسا درج ذیل ہے
(1)
مطلقہ رجعیہ کے ولد کا نسب ثابت ہوگا بشرطیکہ وہ دو سال یا اس سے زائد مدت میں ولد لاۓ اور دوسری صورت میں یوں کہا جاۓ کہ تحقیق شوہر نے عدت میں اس سے وطی کی اور اس سے رجوع کر لیا
(٢)
اگرمطلقہ رجعیہ دو سال سے کم مدت میں ولد لاۓ تو اسکا نسب شوہر سے ثابت ہوگا اور وہ اپنے شوہر سے بائنہ ہو جائیگی۔
(٣)
مطلقہ بائنہ کہ اسکے ولد کا نسب اس شوہر سےثابت ہوگا جس نے اسے طلاق دی بشرطیکہ وہ دو سال سے کم مدت میں ولد لاۓ اور اگر وہ جدائی کے دن سے دو سال کے پورے ہونے پر ولد لاۓ تو اسکا نسب ثابت نہیں ہوگا مگر یہ کہ شوہر اسکا دعویٰ کرے۔
(٤)
بیوہ کے ولد کا نسب وفات کے وقت سے دو سال کے پورے ہونے تک ثابت ہوگا۔
(٥)
معتدہ نے اپنی عدت ختم ہونے کا اعتراف کیاپھر وہ چھ ماہ سے کم مدت میں ولد لائی تو اسکا نسب ثابت ہوگا اور اگر وہ چھ ماہ مکمل ہونے پر ولد لائی تو نسب ثابت نہیں ہوگا۔
سوال : کیا معتدہ کے ولد کے نسب کے ثبوت کے لیۓ جو زمانہ ذکر کیا گیاہے اسکے سوا کوئی شرط ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللٌہ تعالٰی نے معتدہ کے ولد کے نسب کے ثبوت کے لیۓشرط لازم کی ہے کہ دو مرد یاایک مرد اوردو عورتیں معتدہ کے جننے کے بارے میں گواہی دیں مگر یہ کہ وہاں ظاہر حمل یا شوہر کی طرف سے اعتراف موجود ہو تو نسب شہادت کے بغیر ثابت ہوگا اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمدرحمہما اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ نسب تمام صورتوں میں ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہو جائیگا۔
فائدہ : حمل کی اکثر مدت دو سال ہے اور اسکی اُقل(مدت)چھ ماہ ہے۔

No comments: