Nazr ke ahkam ka bayan

نذر کے احکام کا بیان

سوال : کسی شخص نے کہا کہ مجھ پر نذر ہے یا اللہ تعالیٰ کے لئے نذر ہے اور اس نے منذور کو ذکر نہیں کیا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ لفظ کے اعتبار سے نذر ہے اور معنی کے اعتبار سے یمین ہے اور اس میں کفارہَ یمین ہے۔

سوال : جس نے کوئی نذر مانی اور منذور کو بیان کیا (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب وہ مطلق (یعنی) شرط کےساتھ غیر معلق  نذر مانے اور اس کو بیان کرے جس کی وہ نذر مانے جیسا کہ وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے میرے ذمہ ایک ماہ کے روزے یا میرے ذمہ حج یا دو رکعت کی نماز ہے تو اس کو پورا کرنا واجب ہے جس کی اس نے نذر مانی۔

سوال : اگر نذر کو شرط کے ساتھ معلق کرے جیسا کے وہ کہے ک اگر اللہ تعالیٰ میرے مریض کو شفا دیں گے یا جب میرا ولد آئے گا تو میرے ذمے اتنے روزے یا (اتنی) نمازیں یا (اتنے) حج یا (اتنےغلام)آزاد کرنے ہیں تو کیا (نذر) پوری کرنا واجب ہو گا جب شرط پائی جائے؟

جواب : جی ہاں! اس صورت میں بھی (نذر) پوری کرنا واجب ہو گا کیوںکہ (اللہ تعالیٰ ) کا لفظ عام ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں 
: وَلیُوفوانُذُورَھُم
 (الحج:29)

ترجمہ اور چاہئے کہ وہ اپنی نذروں کو پورا کریں

 اور حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کیا گیا ہے کہ  آپ فرماتے ہیں کہ جب وہ نذر مانے کہ اگر میں ایسا کروں تو میرے ذمہ حج یا ایک سال کے روزے ہیں تو کفارہَ یمین سے اس نذر سے کفایت کرے گا اور یہ  حضرت محمد رحمہ اللہ کا قول ہے. 

سوال : اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے (تو) کیسے کرے؟ 

جواب : اپنی نذر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے بلکہ کفارہَ یمین کی طرح اس (نذر) کا کفارہ دے۔

سوال : نذر مانی کہ وہ اپنا مال صدقہ کرےگا (تو)اسے کیا لازم ہے؟

جواب : اسے لازم ہے کہ وہ اس (مال) کی جنس کو صدقہ کرے جس میں زکوۃ واجب ہوتی۔

سوال :  نذر مانی کہ وہ اس (مال) کو صدقہ کرےگا جس کا وہ مالک ہے (تو) اس صورت میں اسےکیا لازم ہو گا؟

جواب :  اسے لازم ہے کہ تمام (مال) صدقہ کر دے جس کا وہ مالک ہے اور اس سے کہا جاۓ کہ اس (مال) میں سے اتنی مقدار روک لے جو تو اپنی ذات اور اپنے گھر کے لوگوں پر خرچ کرے یہاں تک کہ تو مال کی کمائی کر لے پس جب تو مال کی کمائی کر لے توتو صدقہ کرے اس کے مثل جو (مال) تو نے اپنی ذات کے لئے اور اپنے گھر کے لوگوں کے لئے روکا۔



No comments:

Powered by Blogger.