Olad ki parwarish or razaat ka bayan
اولاد کو دودھ پلانے اور ان کی پرورش کرنے کا بیان
سوال : والدین کا دودھ پیتا بچہ ہے (تو ) کون اسے دودھ پلائے اور کون اسکے لیۓ دائی پلائی طلب کرے ( یعنی کون دائی پلائی کی اجرت دے ؟
جواب : اگر اسکی ماں اسے دودھ پلانے پر راضی ہو تو یہ ولد کے لیۓ زیادہ اچھا اور زیادہ عمدہ ہے لیکن یہ اس پر واجب نہیں پس اگر وہ انکار کردے (تو ) باپ اسکے لیۓ ایسی (خاتون ) کو اجرت پر لے جو اسے اس کی ماں کے پاس دودھ پلائے ۔
سوال : کیا اس کی ماں کے لیۓ جائز نہیں کے وہ اسے اجرت کے ساتھ دودھ پلائے جیسا کے دوسری (خاتون ) اسے ( اجرت کے ساتھ ) دودھ پلاتی ہے ؟
جواب : اگر دودھ پلانے والی ولد کے باپ کی بیوی یا اس کی معتدہ ہو جو اپنا نفقہ لیتی ہے تو اپنے ولد کو دودھ پلانے پر اجرت لینا انکے لیۓ جائز نہیں کیونکہ ان دونوں کا نفقہ دوسری جہت سے ( ولد ) کے باپ پر واجب ہے ۔ پس اگر مطلقہ اپنی عدت کے ختم ہونے پر اپنے ولد کو اجرت پر دودھ پلائے تو یہ اس کے لیۓ جائز ہے ۔
سوال : باپ اجرت پر دائی پلائی لایا پس وہ ماں اجنبی خاتون کی اجرت کے مثل پر راضی ہوگئی جس کی عدت ختم ہو چکی ( تو ) کون دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے ؟
جواب : ماں اپنے ولد کو دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے ۔
سوال : اگر ماں اس سے زائد اجرت طلب کرے جس پر اجنبی خاتون راضی ہے تو کیا والد کو ماں سے دودھ پلوانے پر مجبور کیا جاۓ ؟
جواب : اسے اس پر مجبور نہ کیا جاۓ ۔
سوال : خاوند بیوی کے درمیاں جدائی واقع ہوگئی تو کون ولد کا زیادہ حقدار ہے ؟
جواب : ماں ولد کی زیادہ حقدار ہے پس اگر ماں نہ ہو تو نانی دادی کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہے پس اگر اس کی نانی نہ ہو تو دادی بہنوں کے بہ نسبت زیادہ حقدار ہے اگر دادی نہ ہو تو بہنیں پھوپھیوں اور خالاؤں کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہیں۔ اور باپ و ماں کی جانب سےبہن کو پھر ماں کی جانب سے بہن کو پھر باپ کی جانب سے بہن کو مقدم کیا جاۓ پھر خالائیں پھوپھیوں کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہیں پھر پھوپھیاں ( حقدار ہیں) اور پھوپھیاں و خالائیں ویسے اتریں گی جیسے بہنیں تینوں درجوں میں اترتی ہیں۔
سوال : کیا حضانت ( یعنی پرورش ) کا حق کسی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے ؟
جواب : ان (خواتین ) میں سے ہر (خاتون ) جو (ولد کے اجنبی سے) نکاح کر لے تو اس کا حق پرورش ساقط ہوجاتا ہے مگر نانی جب کہ اس کا شوہر اس (ولد کا ) دادا ہو اور اس طرح ماں کہ اس کا حق ساقط نہیں ہوتا جب وہ ایسے (شخص) سے نکاح کرلے جو ولد کا محرم ہے جیسا کہ جب وہ ولد کے چچا سے نکاح کرلے ۔
سوال : ماں ولد کو اپنی پرورش میں نہیں لیتی اور اس کے سوا خواتین میں سے کوئی ایسی (خاتون ) نہیں ہے جو ولد کی پرورش کرے تو اس بارے میں کیسے فیصلہ دیا جاۓ ؟
جواب : ماں کو اس (ولد )کی پرورش پر مجبور کیا جاۓ ۔
سوال : اگر (ولد) کے اہل (یعنی محارم ) میں سے کوئی ایسی خاتون نہ ہو جو ولد کی پرورش کرے اور مرد اس کی پرورش کے بارے میں جھگڑا کریں تو ان ( مردوں ) میں سے کون اس کی پرورش کرے ؟
جواب : اس (ولد کی پرورش) کا زیادہ لائق ان میں سے وہ ہے جو تٙعصِیب کی رو سے ان میں سے زیادہ قریب ہو (١) یعنی اگر ولد کی محارم میں سے کوئی نہ ہو تو عصبات میں سے جو اس ولد کے زیادہ قریب ہوگا وہ حضانت کا مستحق ہو گا پس باپ پھر دادا کو مقدم کیا جاۓ اس طرح اوپر تک پھر سگے بھائی پھر باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کے بیٹے پھر باپ شریک بھائی کے بیٹے کو مقدم کیا جاۓ اسی طرح نیچے تک پھر سگے چچا پھر باپ شریک چچا کو م قدم کیا جاۓ بہرحال چچوں کی اولاد! تو لڑکا انکو دے دیا جاۓ پہلے سگے کزن پھر باپ شریک کزن کو دیا جاۓ اور لڑکی ان کو نہ دی جاۓ کیونکہ وہ اس کے نا محرم ہیں اور اسی طرح وہ بچی غیر محفوظ ماں، فاسق عصبہ ، مولائے عتاقہ کو نہ دی جاۓ ۔(بحر )
سوال : خواتین کتنی مدت تک حضانت کی مستحق ہیں ؟
جواب : ماں اور نانی لڑکے (کی پرورش) کی زیادہ حقدار ہیں یہاں تک کے وہ اکیلا کھالے اکیلا پی لے ، اکیلا پہن لے اور اکیلا استنجا کر لے اور وہ دونوں لڑکی کی پرورش کی مستحق ہیں یہاں تک کے عمر کی ایسی حد تک پہنچ جاۓ کے اسکی خواہش کی جاۓ ۔
سوال : مسلمان ولد کے استحقاق میں اس کتابیہ کا حکم کیا ہے جو مسلمان (خاوند ) کے نیچے جنے ؟
جواب: یہ ( خاتون ) اس (مسلمان ولد) کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ ولد ادیان کو نہ سمجھتا ہو یا اس ( ولد ) پر کفر سے مانوس ہونے کا اندیشہ ہو ۔

No comments: