Qasmon or Nazron ka bayan
قسموں اور نذروں کا بیان
سوال : أیمان کیاہیں؟
جواب : یہ یمین کی جمع ہے اور یہ(یعنی یمین) لغت میں ہاتھ اور قوت کےدرمیان مشترک ہےاور اصطلاح میں یہ مُقسَمْ بِهٖ کے ساتھ خبر کی دونوں جانبوں میں سےایک کو مضبوط کرناہے اور قسم کا نام "یمین" کہا گیا ہے کیونکہ قسم کھانےوالاقسم کےذریعہ فعل یا (ترک) فعل پر مضبوط ہوجاتاہے.
سوال : یمین کی اقسام بیان کیجیۓ؟
جواب : أیمان تین قسم پر (مبنی) ہیں
اول:یمینِ غَمُوْس
دوم:یمین منقعدہ
اورسوم: یمین لغو.
بہرحال یمین غَمُوْس! تو وہ گزشتہ کام پر قسم کھانا ہے جس میں دانستہ جھوٹ بولے جیسےاس نے کہا:"قسم بخدا! میں نے یہ نہیں کیا" باوجودیکہ اس نے یہ کیا اوریہ قسم کہ اس میں بڑا گناہ ہے اور اس (قسم) کا نام غَمُوْس رکھا گیا کیونکہ یہ (قسم) صاحب (قسم) کوگناہ میں پھر (جہنم کی) آگ میں ڈبودیتی ہے.نبی کریم ﷺ(رواه البخارى في کتاب الايمان باب اليمين الغموس)نےفرمایا کہ بڑے گناہ : اللّٰه تعالٰى کےساتھ شرک کرنا,والدین کی نافرمانی کرنا,کسی جان کو(ناحق) قتل کرنااور یمین غَمُوْس ہیں." اور اس (قسم) میں صاحب (قسم)پرکفارہ واجب نہیں ہوتا بلکہ صاحب (قسم) پر توبہ و استغفارلازم ہوتا ہے.
اور بہر حال یمین منعقدہ تو وہ یہ ہےکہ مستقبل میں کسی کام پر قسم کھاۓکہ وہ یہ کرےگایایہ نہیں کرےگا,پس وہ جب اس میں حانث ہو جاۓ (یعنی قسم توڑدےتو)اس پرکفارہ لازم ہوگا.اور بہر حال یمین لغو تووہ یہ ہے کہ گزشتہ کام پر قسم کھاۓاورخیال کرے کہ وہ (کام) اس طرح ہے جیسے اس نے کہا حالانکہ کام اس کے خلاف ہے .اور قسم کی یہ قسم ہمیں امید رکھتے ہیں اللّٰه تعالٰى اس کی وجہ سے صاحب قسم کا مواخذہ نہیں فرمائیں گے .
(اس سلسلے میں اصل اللّٰه تعالٰى کا فرمان ہے کہ
:لَا يُؤَاخِذُكُمْ اللّٰهُ بِاللَّغوِ فِي اِيمَانِكُم
(المائدہ:89)
ترجمہ:اللّٰه تعالٰى تم سے مواخذہ نہیں فرماتے تمہاری قسموں میں سے لغو قسم پر" اور عدم مواخذہ کو امید کے ساتھ معلق اس لیے فرمایاہے کہ اس کی تفسیر میں اختلاف ہے
(ہدایہ)
سوال : تحقیق آپ نےذکرفرمایاکہ یمین منعقدہ میں کفارہ لازم ہوتاہےجب وہ حانث ہوجاۓ تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کفارہ واجب ہوتا ہے جب وہ ارادے کے ساتھ حانث ہو جاۓ یا(کفارے) کا لزوم تمام صورتوں میں عام ہے؟
جواب : کفارہ حانث ہونےکی تمام صورتوں میں لازم ہوتا ہےبرابر ہے کہ وہ جان بوجھ کر یا مجبوراً مَحْلُوْف عَلَيْه کا ارتکاب کرے
سوال : ایک شخص کہ اس کے ارادے میں سے نہیں تھا کہ وہ قسم کھاۓلیکن اسے قسم کھانے پر مجبور کیا گیا پس اس نے قسم کھا لی پھر وہ حانث ہو گیا (تو) اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس صورت میں بھی کفارہ اس پر واجب ہوتا ہے

No comments: