Razaa ( doodh pilane ka bayan )
رضاع (دودھ پینے) کا بیان
سوال : مدت رضاع کتنے مہینے ہے جس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مدت رضاع تیس ماہ ہے اور (صاحبین) رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک دو سال ہے (صاحبین رحمہما اللہ تعالی کا قول اصح ہے اور حضرت طحاوی رحمتہ اللہ نے اسی کو لیا ہے کذافی فتح القدیر ۔
سوال : کون سا حکم رضاع کے متعلق ہوتا ہے ؟
جواب : جب رضاع دونوں قولوں کے اختلاف پر اپنی مدّت میں حاصل ہو تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے ساتھ دودھ پینے والے بچے اور بچی کے درمیان دودھ پینے والے بچے اور دودھ پلانے والی خاتون اور دودھ پلانے والی خاتون کے اصول اور اس کے فروغ کے درمیان نکاح کی حرمت متعلق ہوتی ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے محرمات دودھ پلانے والی ماں اور دودھ پلانے والی بہنوں کا ذکر فرمایا ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " تحقیق اللہ تعالی نے رضاعت کی وجہ سے اس رشتے کو حرام قرار دیا ہے جس کو نسبت کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے "
سوال : جب عورت بچے یا بچی کو مدت رضاع کے بعد دودھ (پلائے) تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : مدت رضاع کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں اور جب اس کی مدت گزر جائے تو تحریم اس کے متعلق نہیں ہوگی ۔
سوال : رضاع کی حرمت کے احکام تفصیل سے بیان کیجئے ؟
جواب ۔ سمجھیے اور آنے والے مسائل زبانی یاد کیجئے
١
جب بچہ اور بچی کسی خاتون کے پستان پر دودھ پی لیں (تو) ان کے درمیان نکاح حرام ہو جائے گا ۔
٢
جائز نہیں کہ دودھ پلائی گئ بچی اس خاتون کی اولاد میں سے کسی (لڑکے) سے نکاح کریں جس (بچی) کو اس (خاتون) نے دودھ پلایا ۔
٣
جب خاتون بچی کو دودھ پلائے تو یہ بچی اس (خاتون) کے شوہر اور اس (شوہر) کے آباواجداد اور اس کے بیٹیوں پر حرام ہوگی اور وہ شوہر جس کی وجہ سے اس (خاتون) کادودھ اترا دودھ پلائی گئی بچی کا باپ ہو جائے گا اور یہ وہ مسئلہ ہے کہ فقہاء اس مسئلہ کا نام لبن فحل رکھتے ہیں ( لبن فحل ۔ سانڈ کا دودھ اور مقصود ایسا دودھ ہے جو مرد کے ہمبستر ہونے اور اس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہونے کے باعث پیدا ہوا ہو۔
۴
دودھ پلایا گیا بچہ دودھ پلانے والی خاتون کے شوہر کی بہن سے نکاح نہ کرے کیونکہ وہ اس کی رضاعی پھوپھی ہے ۔
5
مرد کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رضاعی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرے جیسا کہ اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے نسبی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرے ۔
٦
جائز ہے کہ مرد اپنی رضاعی بھائی (صاحب بحر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ من الرضاع کا تعلق باخت اخیہ میں اخت مضاف یا اخ مضاف الیہ یا دونوں سے ہے تو اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں تینوں میں نکاح جائز ہے
1
نسبی بھائی کی رضاعی بہن
2
رضاعی بھائی کی نسبی بہن
3
رضاعی بھائی کی رضاعی بہن ) بہن سے نکاح کرے جیسا کہ بعض صورتوں میں جائز ہے کہ وہ اپنی نسبی بہن کی بہن سے نکاح کرے اور یہ جیسے باپ ( اس کی صورت یہ ہے کہ زید اور عمر دونوں باپ شریک بھائی ہے اور زینب عمرو کی ماں شریک بہن ہے جو زید کے والد سے نکاح کرنے سے پہلے کسی دوسرے خاوند سے پیدا ہوئی تو زینب عمرو کی تو بہن ہے لیکن تو زید سے اس کا کوئی تعلق نہیں اب زید کے لیے اپنے باپ شریک بھائی عمرو کی ماں شریک بہن زینب سے نکاح کرنا جائز ہے) کی طرف سے بھائی کہ جب اس کی ماں کی طرف سے اس کی بہن ہو تو اس کی باپ کی طرف سے اس کے بھائی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس (لڑکی) سے نکاح کرے ۔
سوال : تحقیق آپ نے محرمات کے بیان میں ذکر فرمایا کہ ہر وہ (رشتہ) جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتا ہے وہ رضاع کی وجہ سے حرام ہوتا ہے مگر بعض وہ (رشتے) جو اس (قانون کلی) سے مستثنی کئے جاتے ہیں بس ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس مستثنی کو معلوم کریں ؟
جواب : آنے والی صورتیں اس (قانون کلی) سے مستثنی کی جاتی ہیں
١
اپنی رضاعی بہن ( اس کی تین صورتیں ہیں اور تینوں میں نکاح جائز ہے
(i)
رضائی بہن کی رضاعی ماں
(ii)
نسبی بہن کی رضاعی ماں
(iii)
رضاعی بہن کی نسبی ماں ) کی (رضائی) ماں سے نکاح جائز ہے اور اپنے نسبی بھائی کی (نسبی) ماں سے نکاح کرنا جائز نہیں (کیوں کے یا تو وہ اس کی حقیقی ماں ہوگی یا باپ کی منکوحہ یعنی سوتیلی ماں ہوگی اور شریعت میں ان دونوں سے نکاح کرنا جائز نہیں )۔
٢
اپنے رضاعی ( اس کی تین صورتیں ہیں اور تینوں میں نکاح جائز ہے
(i)
رضاعی بیٹے کی رضاعی بہن (ii)
نسبی بیٹے کی رضاعی بہن
(iii)
رضاعی بیٹے کی نسبی بہن) بیٹے کی (رضاعی) بہن سے نکاح کرنا جائز ھے اور یہ نسب سے جائز نہیں (کیونکہ وہ یا تو اس کی حقیقی بیٹی ہوگی یا رہیبہ یعنی سوتیلی بیٹی ہوگی جس کی ماں سے وہ ہمبستری کر چکا ہے اور شریعت میں اس سے نکاح کرنا جائز نہیں )
(٣)
اپنے رضاعی چچا اور پھوپھی کی (رضاعی) ماں سے نکاح کرنا جائز ھے اور یہ نسب سے جائز نہیں (کیونکہ یا تو وہ اس کی حقیقی دادی ہوگی یا اس کے دادے کی منکوحہ یعنی سوتیلی دادی ہوگی اور شریعت میں دونوں سے نکاح کرنا جائز نہیں)۔
سوال : دو عورتوں کا دودھ آپس میں مل گیا پس وہ دودھ پیتے بچے یا دودھ پیتی بچی کو پلا دیا گیا تو تحریم ان دونوں دودھوں میں سے کس کے ساتھ متعلق ھوگی ؟
جواب : حضرت ابو یوسف رحمہ اللّه فرماتے ہیں کہ تحریم ان دونوں میں سے اکثر دودھ کے ساتھ متعلق ھوگی اور حضرت محمد رحمہ اللّه تعالی فرماتے ہیں کہ تحریم ان دونوں کے ساتھ متعلق ھوگی ۔
سوال : اگر کنواری لڑکی کا دودھ اتر آئے پس وہ کسی بچے یا بچی کو دودھ پلا دے (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : تحریم اس (دودھ) کے متعلق ھوگی ۔
سوال : اگر مرد کا دودھ اتر آئے پس وہ کسی بچے یا بچی کو دودھ پلا دے( تو ) اس (دودھ ) کے ساتھ تحریم کا حکم کیا ہے ؟
جواب : تحریم اس کے ساتھ متعلق نہیں ھوگی ۔
سوال : بچے اور بچی نے ایک بکری کا دودھ پی لیا (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : ان دونوں کے درمیان کوئی رضاع نہیں ۔
سوال : کسی مرد نے بڑی خاتون سے نکاح کیا اور دودھ پیتی بچی سے نکاح کیا پس بڑی (بیوی ) نے چھوٹی (بیوی ) کو دودھ پلا دیا (تو ) اس دودھ پلانے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : دونوں اس پر حرام ہوگئیں ۔
سوال : اس صورت میں مہر کے وجوب کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اگر اس نے بڑی (بیوی ) سے دخول نہیں کیا تھا تو اس کے لیۓ کوئی مہر نہیں اور چھوٹی( بیوی ) کے لیۓ آدھا مہر ہے اور وہ یعنی شوہر اس (مہر ) کے ساتھ بڑی پر رجوع کرے گا اگر اس نے اس (عمل) سے فساد (نکاح) کا قصد کیا تھا اور اگر فساد (نکاح) کا قصد نہیں کیا تو اس کے ذمہ کجھ نہیں ۔
سوال : رضاع کیسے ثابت ہوتا ہے ؟
جواب : ( رضاع ) دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے اور رضاع میں تنہا عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ۔
سوال : عورت کا دودھ پانی سے مل گیا پس بچے یا بچی نے اس میں سے پی لیا( تو ) کیا تحریم اس( دودھ ) کے ساتھ متعلق ھوگی ؟
جواب : جب دودھ غالب ہو ( تو) تحریم اس کے ساتھ متعلق ھوگی اور اگر پانی غالب ہو ( تو )تحریم اس کے ساتھ نہیں ھوگی ۔
سوال : جب عورت کا دودھ کھانے سے مل جاۓ (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک جب دودھ کھانے سے مل جاۓ تو تحریم اس کے ساتھ متعلق نہیں ھوگی اگرچہ دودھ غالب ہو اور آپ رح کے صاحبین رحمہما اللّه تعالی فرماتے ہیں کہ تحریم اس کے ساتھ متعلق ھوگی بشرطیکہ دودھ غالب ہو ۔
سوال : تحریم کا حکم کیا ہے جب عورت کا دودھ دوا کے ساتھ مل جاۓ اور دودھ پیتا بچہ اسے پی لے ؟
جواب : تحریم اس کے ساتھ متعلق ھوگی بشرطیکہ دودھ غالب ہو ۔
سوال عورت مر گئی پس برتن میں اس کا دودھ دوہا گیا پھر وہ (دودھ ) بچے کے حلق میں ڈالا گیا (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : تحریم اس کے ساتھ متعلق ھوگی ۔
سوال : عورت کا دودھ بکری کے دودھ کے ساتھ مل گیا پس وہ (دودھ ) بچے یا بچی کو پلا دیا گیا (تو ) اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اگر عورت کا دودھ غالب ہو (تو ) تحریم اس کے ساتھ متعلق ھوگی اور اگر بکری کا دودھ غالب ( تو ) تحریم متعلق نہیں ھوگی ۔

No comments: