Sariqah ka bayan
سرقہ کا بیان
سوال : لغت اور شریعت کی رو سے سرقہ کیا ہے؟
جواب : یہ لغت کی رو سے پوشیدہ طریقہ پر مال لینے کا نام ہے اور شریعت میں مکلف کا دس درہم یا زائد کی مقدار کو لینے کا نام ہے اس حال میں کہ وہ درہم مکان یا محافظ کے ذریعے محفوظ ہوں.
سوال : چور کے لیے پاکیزہ شریعت میں کونسی سزا مقرر کی گٸی ہے؟
جواب : جب بالغ عاقل آزاد ہو یا غلام ۔نر ہو یا مادہ دس درہم یا دس درہم کی قیمت ایسے محفوظ مقام سے چراٸے جس میں شبہ نہ ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جاۓ وہ دراہم ٹھپہ دار ہوں یا غیر ٹھپہ دار ۔
اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں۔والسَّارِق والسّاَرِقَة فاقطَعواایدِیَھمَاجزَاإَٔ بِماَ کَسَبا نکَالاَ مِنَ اللہَ۔الماٸدہ ٣٨۔
ترجمہ۔اور چرانے والا مرد اور چرانے والی عورت تو ان کے داہنے ہاتھ کاٹ دو انکے کردار کے عوض میں اللہ تعالی کی طرف سے سزا کے طور پر۔
سوال : چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جاٸے؟
جواب : اس کا دایاں ہاتھ پہنچے سے کا ٹا جاٸے اور اسے داغ دیا جاۓ.
سوال : اگر وہ دوسری مرتبہ چراٸے تو کیا اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا جاۓ؟
جواب : اگر وہ دوسری مرتبہ چراۓ تو اس کا بایاں پاٶں کاٹ دیا جاۓ پس اگر وہ تیسری مرتبہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ یا پاٶں نہ کاٹا جاۓ اور اسے قید خانے میں ہمیشہ کے لیے رکھا جاۓ یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے۔
سوال : کسی شخص نے محفوظ مقام سے دس درہم یا زائد کو چرایا اس حال میں کہ اس کا بایاں ہاتھ شل ہے۔یا پہلے سے کٹا ہوا یا دایاں پاٶں کٹا ہوا ہے تو کیا قاضی دایاں ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرے؟
جواب : اس صورت میں اس پر قطع نہیں یعنی اس کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ۔
سوال : چوری کیسے ثابت ہوتی ہے؟
جواب : چور کے ایک مرتبہ اقرار سے یا دو گواہوں کی گواہی سے چوری ثابت ہوتی ہے.
سوال : کیا چور کا ہاتھ کاٹتے وقت مَسروق مِنہ کا موجود ہونا ضروری ہے؟
جواب : چور کا ہاتھ نہ کا ٹا جاۓ مگر یہ کہ مسروق منہ موجود ہو اور وہ چوری کی سزا کا مطالبہ کرے پس اگر وہ چور کو یعنی چھینی ہو شے ہبہ کر دے یا وہ شے اسے بیچ دے یا اس شے کی قیمت چوری کے نصاب سے کم ہو جاۓ اور وہ یعنی چوری کا نصاب دس درہم ہے تو چور کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ۔
سوال : ہاتھ کاٹنا اس صورت میں واجب ہے جب وہ دس درہم یا زائد یا انکی قیمت کوچراۓ تو کیا چراٸی ہوٸی چیز کو لوٹانا چور کے ذمہ واجب ہوتا ہے؟
جواب : جب چور کا ہاتھ کا ٹا جاۓ اس حال میں کہ چراٸی ہوٸی چیز اس کے قبضے میں موجود ہے تو اس چیز کو لوٹانا اس کے ذمہ واجب ہوتا ہے اور اگر وہ چیز ہلاک ہو چکی ہو تو وہ ضامن نہیں ہوتا۔
سوال : جماعت چرانے میں شریک ہوٸی تو کیا ان سب کا ہاتھ کاٹا جاۓ؟
جواب : جب جماعت چرانے میں شریک ہوٸی پس ان میں سے ہر ایک دس درہم یا زائد کو پا لے تو ان کے ہاتھ کاٹ دیے جاٸیں اور اگر وہ اس سے کم کو پاٸیں تو ان میں سے کسی کا ہاتھ نہ کاٹا جاۓ۔
سوال : ان مساٸل میں لاٸق اعتبار حِرز یعنی محفوظ مقام کا مطلب کیا ہے؟
جواب : حرز یعنی محفوظ مقام دو قسموں پر منقسم ہے مکان کے ذریعہ حرز جیسے مکانات کمرے دکانیں اور محافظ کے ذریعہ حرز۔پس جو شخص محفوظ مکان سے چراۓ یا وہ کوٸی شے چراۓ اس حال میں کہ اسکا محافظ اس کے پاس اسکی حفاظت کر رہا ہے تو قطع یعنی ہاتھ کاٹنا اس پر واجب ہو گا۔
سوال : جماعت محفوظ مقام میں چوری کے لیے داخل ہوئی پس ان میں سے کوئی مال لینے کا(١) مسروق منه؛ جس سے چرایا گیا ہو. متولی بنا اور باقیوں سے مال نہیں لیا تو کیا ان سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
جواب : ان سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ ان میں سے ہر ایک دس درہم یا ان کی قیمت کو پالے
سوال : چور نے اپنا ہاتھ روپے پیسے کی تجارت کرنے والے کے صندوق میں یا کسی شخص کی جیب میں ہاتھ ڈالااور مال لے لیا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کا ہاتھ کاٹا جائے جب وہ چوری کے نصاب کی مقدار کو لے لے
سوال : چور نے مکان میں سوراخ کیا اور اس میں داخل ہو گیا پس اس نے مال لیا اور مکان سے باہر موجود شخص کو مال دے دیا تو کیا ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں؟
جواب : قطع ان پر نہیں
سوال : اگر گھر میں داخل ہونے والا مال کو راستے میں پھینک دے پھر گھر سے نکلے اور مال لے لےتو کیا اس صورت میں اسکا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
جواب : جی ہاں! کاٹا جائے گا
سوال : گھر میں سوراخ کیا اور اس میں داخل ہو گیا اور مال لیا اور اسے گدھے پر لادا اور گدھے کو ہانکا پس اسے گھر سے نکالا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : قطع اس میں واجب ہوگا
سوال : اگر گھر میں سوراخ کرے اور باہر سے اپنا ہاتھ اس میں داخل کرے اور کوئی شے لے لےتو اسکا ھکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے
سوال : جب کوئی شخص مسجد سے سامان چرائے تو اس بارے میں قطع کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس کا ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ سامان کا مالک اپنے سامان کے پاس موجود ہو.
سوال : ان صورتوں کو بیان کیجئے جن میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا؟
جواب : آنے والی صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتاپس انکو زبانی یاد کر لیجیے
1.
اس شے کے لینے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے جو دارالسلام میں مباح حقیر شے کے طور پر پائی جاتی ہے جیسے گھاس، بانس، لکڑی، پانی میں موجود مچھلی اور جنگل میں موجود شکار.
2.
اس شے کو چرانے میں قطع نہیں جو جلدی خراب ہو جاتی ہے جیسے تر پھل، دودھ، گوشت خربوزہ، درخت پر لگا ہوا پھل اور وہ کھیتی کو کاٹی نہیں گئی.
3.
قطع ید نشہ آور مشروبات کو چرانے میں نہیں.
4.
ستار کو چرانے میں نہیں.
5.
ڈھول کو چرانے میں نہیں, بانسری اور ڈف کو چرانے میں نہیں.
6.
مصحف کو چرانے میں نہیں اگرچہ اس پر زیور ہو.
7.
سونے اور چاندی کی صلیب کو چرانے میں نہیں.
8.
شطرنج(ایک مشہور کھیل ہے,سنسکرت لفظ چترانگ کا معرب اس میں چھ قسم کے مہروں سے کھیلتے ہیں جوشاہ, فرزین,فیل,اسپ رخ اور پیدل کہلاتے ہیں) کو چرانے میں نہیں.
9.
نرد (ایک قسم کا کھیل جس کو ارد شیر بن بابک شاہ ایران نے ایجاد کیا) کو چرانے میں نہیں.
10.
آزاد بچے کے چور پر قطع نہیں اگرچہ اس پر زیور ہو.
11.
بالغ غلام کے چور پر نہیں اور نا بالغ غلام کے چور کا ہاتھ کاٹا جائے.
12.
تمام رجسٹروں کو چرانے میں قطع نہیں مگر حساب کے رجسٹروں کو چرانے میں قطع ہے.
13.
کتے کے چور پر قطع نہیں اور چیتے کے چور پر نہیں.
14.
خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت پر قطع نہیں.
15.
کفن چور پر نہیں
16.
لوٹنے والے پر نہیں
17.
اچکے پر نہیں.
18.
اسکا ہاتھ نہ کاٹا جائے جو بیت المال یا مال غنیمت سے چرائے.
19.
اس صورت میں قطع نہیں جب وہ ایسے مال سے چرائےجس میں اسکا حصہ ہے.
20.
اس پر قطع نہیں جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک یا اپنے ولد یا ذی رحم محرم سے چرائے.
21.
قطع نہیں جب خاوند بیوی میں سے ایک دوسرے سے چرائے.
22.
قطع نہیں جب غلام اپنے آقا سے یا اپنے آقا کی بیوی سے یا اپنی مالکن کے شوہر سے چرائے.
23.
آقا پر قطع نہیں جب وہ اپنے مکاتب کے مال سے چرائے.
24.
اس پر قطع نہیں جو غسل خانے سے یا ایسے گھر سے چرائے جس میں لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہو.
25.
مہمان پر قطع نہیں. جب وہ اس شخص سے چرائے جس نے اسکو مہمان بنایا.
26.
اس صورت میں قطع نہیں جب چور دعوی کرے کہ چرائی ہوئی شے اس ک مِلک ہے. اگرچہ اس دعوی پر بینہ قائم نہ ہو.
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ لکڑی میں قطع نہیں تو آپ نے اس سے کون سی لکڑی مراد لی ہے؟
جواب : اس سے وہ حقیر لکڑی مراد ہے جو محفوظ نہیں کی جاتی. بہرحال وہ لکڑیاں جن کی قیمت ہے اور وہ فروخت کی جاتی ہیں اور محفوظ کی جاتی ہیں. پس تحقیق انکو چرانے میں قطع واجب ہوتی ہے. بشرطیکہ وہ لکڑیاں چوری کے نصاب لو پہنچ جائیں جیسے ساگوان، نیزہ کی لکڑی، آبنوس اور صندل اور اسی طرح اس شے کو چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے جو لکڑی سے تیار کی جاتی ہے جیسے برتن اور دروازے
سوال : کسی شے کو چرایا پس اس میں اسکا ہاتھ کاٹا گیا اور اس نے وہ شے اسکے مالک کو لوٹا دی پھر اس نے دوبارہ اس شے کو چرا لیا تو اس بارے میں قطع کا کیا حکم ہے؟
جواب : اگر شے اپنی حالت پر قائم ہے جیسا کہ اس نے اس شے کو لوٹایا تو دوبارہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور اگر وہ شے اپنی حالت سے بدل چکی ہے جیسے وہ سوت تھا پس اس نے اسے چرایا تو اس میں اسکا ہاتھ کاٹا گیا اور اس نے اسے لوٹا دیا پھر اس سوت کا کپڑا بنا دیا گیا. پس وہ اس کا دوبارہ چور بن گیا تو اسکا ہاتھ کاٹا جائے

No comments: