Shurb / Drinks ka bayan :
شرب کا بیان
سوال : حد شرب کیا ہے؟
جواب : یہ شراب پینے کی سزا ہے پس جو (شراب) پی لے اور پکڑ لیا جائے اس حال میں کہ اس کی بو موجود ہے اور گواہ اس کے خلاف گواہی دیں یا وہ اقرار کرےاس حال میں کہ اس کی بو موجود ہے تواس پر حدہے اور اگر وہ (شراب) کی بو چلے جانے کے بعد اقرار کرے(تو) اسےحدنہ لگائی جائے یہاں تک کہ نشہ اس سےجاتارہےاور(شراب) پینا دو گواہوں کی گواہی سےیا اس کےایک مرتبہ اقرار سےثابت ہوتاہے اور اس میں مردوں کےساتھ عورتوں کی گواہی قبول نہ کی جائے۔
سوال : کیا اسے حد لگائی جائے جب وہ شراب کے علاوہ(نشہ آور مشروب) پیئے؟
جواب : جب وہ نبیذ(کےپینے) سے مدہوش ہو جائے (تو) اسے حد لگائی جائےاور مدہوش کو حد نہ لگائی جائے یہاں تک کہ یقین ہو جائے کہ وہ نبیذ کی وجہ سے مدہوش ہوا ہے اور اس نے رضا سے(نبیذ) پی ہے۔
سوال : ایک شخص کہ اس سے شراب کی بو پائی جا رہی ہے یا اس نے (شراب) کی قےکی ہو اور کوئی اقرار(موجود) نہیں او کوئی گواہی (موجود) نہیں (تو) کیا اسے حد لگائی جائے؟
جواب : اسےحد نہ لگائی جائے
سوال : شراب پینےوالےاور مدہوش کی سزا کیا ہے؟
جواب : اس کی سزا یہ ہے کہ اسے اسی کوڑے مارے جائیں اور اس کے بدن پر ضرب کی تفریق کی جائے جیسا کہ حدِ زنا میں ذکرکیا گیا ہے.
سوال : کسی شخص نے شراب پینے کا اقرار کیا یا وہ مدہوش ہو گیا پھر اس نے اپنے اقرار سے رجوع کرلیا (تو) اس پر حد قائم کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس وجہ سے حد دورکردی جائے
سوال : اگر شراب پینے والا یا مدہوش غلام ہو (تو) کیا اس کی سزاآدھی ہو جائےگی؟
جواب : اس کی سزا آزاد کی آدھی سزاہے پس اسے چالیس کوڑے مارے جائیں۔

No comments: